Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1567 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.7K Views

تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتے ہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتے ہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتے ہیں؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری کپڑے کی دکان ہے جب ہم شرٹ بیچتے ہیں تو تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتےہیں علمائے کرام مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : امداد علی ضلع لیہ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ اَلْجَـوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب شریعتِ مطہّرہ نے تجارت میں نفع کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جو مارکیٹ کا ریٹ ہو اسی اعتبار سے نفع لیا جائے یعنی عمو می طور پرجو نفع لیتے ہیں وہی لیا جائے کیونکہ جو زیادہ نفع لیتاہے لوگ اس سے کم خریداری کرتے ہیں اورلوگوں کی نظر میں اس کی عزت بھی کم ہوجاتی ہے جتنا ہوسکے لوگوں سے بھلائی کی نیت ہو دھوکہ دہی اور فریب کاری کی نیت نہ ہو . امام اہلسنّت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ آج کل دکاندار عمو ماََ ہر چیز کی قیمت بڑھا کر کہتے ہیں اور پھر اس سے کم پر بیچ ڈالتے ہیں یہ شرعاً جائز ہے؟ ہر ایک کا چار پیسے کی چیز کا دُگنی یا تین گنی؟ تو امام اہلسنت سید اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: (ماقبل اور یہ)دونوں باتیں جائز ہیں، جبکہ جھوٹ نہ بولے فریب نہ کرے ۔ مثلاً کہا یہ چیز تین یا چار پیسے کی میری خرید ہے، اور پڑی تھی پونے چار کو یا خرید وغیرہ ٹھیک بتائے مگر مال بدل دیا یہ دھوکہ ہے یہ صورتیں حرام ہیں، ورنہ چیزوں کے مول لگانے میں کمی بیشی حرج نہیں رکھتی فتاویٰ رضویہ جلد17صفحہ139 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور . واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــہ :ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتے ہیں؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری کپڑے کی دکان ہے جب ہم شرٹ بیچتے ہیں تو تجارت میں کتنے فیصد نفع لے سکتےہیں علمائے کرام مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : امداد علی ضلع لیہ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>اَلْجَـوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب</strong></span> شریعتِ مطہّرہ نے تجارت میں نفع کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جو مارکیٹ کا ریٹ ہو اسی اعتبار سے نفع لیا جائے یعنی عمو می طور پرجو نفع لیتے ہیں وہی لیا جائے کیونکہ جو زیادہ نفع لیتاہے لوگ اس سے کم خریداری کرتے ہیں اورلوگوں کی نظر میں اس کی عزت بھی کم ہوجاتی ہے جتنا ہوسکے لوگوں سے بھلائی کی نیت ہو دھوکہ دہی اور فریب کاری کی نیت نہ ہو . امام اہلسنّت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ آج کل دکاندار عمو ماََ ہر چیز کی قیمت بڑھا کر کہتے ہیں اور پھر اس سے کم پر بیچ ڈالتے ہیں یہ شرعاً جائز ہے؟ ہر ایک کا چار پیسے کی چیز کا دُگنی یا تین گنی؟ تو امام اہلسنت سید اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: (ماقبل اور یہ)دونوں باتیں جائز ہیں، جبکہ جھوٹ نہ بولے فریب نہ کرے ۔ مثلاً کہا یہ چیز تین یا چار پیسے کی میری خرید ہے، اور پڑی تھی پونے چار کو یا خرید وغیرہ ٹھیک بتائے مگر مال بدل دیا یہ دھوکہ ہے یہ صورتیں حرام ہیں، ورنہ چیزوں کے مول لگانے میں کمی بیشی حرج نہیں رکھتی فتاویٰ رضویہ جلد17صفحہ139 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور . واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ :ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...