Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

شب برآت میں کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

شب برآت میں کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
Reference 1570 September 18, 2025 9,975 views
اصل سوالشب برآت میں کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

شب برآت میں کیا کریں اور کیا نہ کریں؟

براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمٍ. حم کا حقیقی معنی اللہ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کردیا جاتاہے۔ (الدخان، 44: 1تا4) امام بغوی نے نبی اکرم (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوع روایت نقل کی ہے کہ آپ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: شعبان سے شعبان تک اموات لکھی جاتی ہیں یہاں تک کہ آدمی نکاح کرتا ہے اور اس کے گھر اولاد پیدا ہوتی ہے حالانکہ اس کا نام مُردوں میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ (تفسير ابن ابی حاتم، 10: 3287، رقم: 18531) امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہما) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول مبارکہ ’فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْم‘ کے تحت روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ایک سال سے دوسرے سال تک کے امور (شقاوت و سعادت) یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس کتاب میں تحریر ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا (تفسير ابن ابی حاتم، 10: 3287، رقم: 18531) امام جلال الدین سیوطی ’’تفسیر در منثور‘‘ میں لکھتے ہیں کہ خطیب بغدادی اور ابن نجار نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ: رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام شعبان کے روزے رکھ کر اس کو رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے اور آپ کسی بھی ماہ کے تمام دنوں کے روزے نہ رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کا مہینہ آپ کو بڑا پسند ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہاں۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہا: کوئی نفس بھی پورے سال میں فوت نہیں ہوتا مگر اس کی اجل شعبان میں لکھ دی جاتی ہے۔ تو میں پسند کرتا ہوں کہ جب میری اجل لکھی جائے تو میں اللہ کی عبادت اور عمل صالح میں مصروف ہوں۔ (تفسير درالمنثور، 6: 26) امام ابن ماجہ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو رات کو قیام کرو اور اس کی صبح کا روزہ رکھو کیونکہ اس رات کو اللہ تعالیٰ کی رحمت غروب آفتاب سے لے کر آسمان دنیا پر آکر پکارتی ہے: ہے کوئی بخشش مانگنے والا میں اس کو بخش دوں، ہے کوئی رزق کا طالب میں اس کو رزق دوں، ہے کوئی بیمار جو شفا طلب کرے، میں اس کو شفا دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ (سنن ابن ماجه، کتاب ماجآء فی شهر رمضان، باب ماجآء فی لیلة النصف من شعبان) (اس حدیث کی اصولی بحث دوسری قسط میں) ابن ابی شیبہ ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی آپ فرماتی ہیں کہ: میں نے نبی اکرم (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک رات بستر استراحت پر نہ پایا تو میں آپ کی جستجو میں نکلی آپ کو بقیع میں اس طرح پایا کہ آپ کا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھا ہوا ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ کیا تمہیں اس کا خوف ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا۔ عرض کیا: مجھے یہ خوف نہیں ہے مگر میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کسی اور زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ تب آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ (عزوجل) آسمان دنیا کی طرف پندرھویں شعبان کی شب کو (اپنی شان کے مطابق) نزول فرماتا ہے۔ پس قبیلہ ’’بنی کلب‘‘ کی بکریوں کے بالوں کی گنتی سے زیادہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (جامع ترمذی، کتاب الصوم، باب ماجآء فی ليلة النصف من شعبان) حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: نصف شعبان کی رات رحمتِ خداوندی آسمان دنیا پر نازل ہوتی ہے۔ پس ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے سوائے مشرک شخص کے یا جس کے دل میں کینہ ہو۔ (شعب الایمان، رقم: 26/3827) درج بالا تمام اقتباسات اور احادیث مبارکہ سے عیاں ہوتا ہے کہ شب برات بھٹکے ہوئے اور سرکش لوگوں کے لئے ایک دستک ہے جو آخرت کی زندگی کو بھول کر دنیاوی زندگی کے گورکھ دھندوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ رات ان کے لئے اپنے رب کی طرف بلاوہ، اور اسے منانے کی رات ہے۔ جب کوئی شخص کماحقہ اس رات کو اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد میں بسر کرتا ہے، تسبیح و تہلیل کرتا ہے، درود و سلام کے گجرے پیش کرتا ہے، گناہوں سے معمور دامن ذکر الہٰی سے صاف کرتا ہے تو یہ رات اسکے لئے بہت سے انعام و اکرام لاتی ہے۔ تقدیریں بدل جاتی ہیں، زندگی کے حالات بدل جاتے ہیں.. شب برات ہمارے احوال کو بدل دیتی ہے۔ اگر انسان احسن طور پر اس کے لوازمات پورے کرے تو یہ رات گناہوں کے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر اس رات اپنے رب کے حضور ندامت اشک کے آنسو بہائے اور نالہ و فریاد کرے، اپنے صغائر و کبائر گناہوں کے لئے معافی کا خواست گار بنے تو اس وقت بدحالی، خوشحالی اور تنگی، آسانی میں بدل جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے ایک بے حد گناہگار شخص نے صرف توبہ کا ارادہ کیا، ابھی مکمل طور پر توبہ نہ کی، مگر نیت و ارادہ کے سبب تقدیر بدل دی گئی اور جنت میں پہنچایا گیا۔ اگر آج حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افضل امت کا ایک گناہگار اور سرکش شخص توبہ کرے تو کیا اس کی تقدیر نہیں بدل سکتی؟ بالخصوص شب برات کا تو اور افضل مقام ہے جہاں حضورصلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی کی رو سے اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگنا اور آہ و زاری کرکے اپنے رب سے آئندہ گناہوں سے سچی توبہ کرنا ہے۔ شب برات ہمیں اس عمل کی طرف دعوت دے رہی ہے کہ اس رات محاسبہ نفس، توبہ، تجدید عہد کے ذریعے دنیاوی و اخروی فلاح کا ساماں تیارکریں۔ نوٹ ان شاء اللہ دوسری قسط میں نصف شعبان کو روزہ رکھنے والی حدیث جو ابن ماجہ میں ہے راوی اور حدیث کی سند پر ایک علمی بحث ہو گی. وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــہ : محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.