Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1576
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.7K Views
سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کروانا جائز ہے یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کروانا جائز ہے یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کروانا جائز ہے یا نہیں؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ- کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کرواناجائز ہے یعنی گناہ تونہیں ہے.اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہُ عنہ بھی سرمنڈاتے تھے، کیا یہ بھی بات درست ہے؟ (سائل عبد العزیز قادری پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب مرد کے لیے سرمنڈا جائز ہے اور حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ثابت بھی ہے ۔ بہار شریعت میں ہے: کہ مرد کو سر منڈانا جائز ہے گناہ نہیں ہے، مرد کو اختیار ہے کہ سر کے بال منڈائے، یا بڑھائے اور مانگ نکالے. نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے دونوں چیزیں ثابت ہیں، اگرچہ منڈانا صرف احرام سے بار ہونے کے وقت ثابت ہے ۔ دیگر اوقات میں منڈانا ثابت نہیں ۔ جمع الوسائل فی شرح الشمائل للقاری باب ماجاء فی شعررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ السلام صفحہ۹۹) اور بعض صحابہ سے منڈانا ثابت ہے..مثلاً حضرت مولیٰ علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہ بطورِ عادت منڈایا کرتے تھے ۔ (بہار شریعت حصہ-١٦-صفحہ-٥۸٦) امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہمیشہ بال منڈ واتے اس وجہ سے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں تک پانی نہ پہنچے، اور فرمایا کرتے یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سرکے بالوں کا دشمن ہوں، اسی وجہ سے میں اپنے سرکے بال رکھنے کا مخالف ہوں. (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۲صفحہ٦۹۰) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کروانا جائز ہے یا نہیں؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ- کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سر منڈانا یعنی بالکل گنجا کرواناجائز ہے یعنی گناہ تونہیں ہے.اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہُ عنہ بھی سرمنڈاتے تھے، کیا یہ بھی بات درست ہے؟ (سائل عبد العزیز قادری پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب</strong></span> مرد کے لیے سرمنڈا جائز ہے اور حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ثابت بھی ہے ۔ بہار شریعت میں ہے: کہ مرد کو سر منڈانا جائز ہے گناہ نہیں ہے، مرد کو اختیار ہے کہ سر کے بال منڈائے، یا بڑھائے اور مانگ نکالے. نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے دونوں چیزیں ثابت ہیں، اگرچہ منڈانا صرف احرام سے بار ہونے کے وقت ثابت ہے ۔ دیگر اوقات میں منڈانا ثابت نہیں ۔ جمع الوسائل فی شرح الشمائل للقاری باب ماجاء فی شعررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ السلام صفحہ۹۹) اور بعض صحابہ سے منڈانا ثابت ہے..مثلاً حضرت مولیٰ علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہ بطورِ عادت منڈایا کرتے تھے ۔ (بہار شریعت حصہ-١٦-صفحہ-٥۸٦) امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہمیشہ بال منڈ واتے اس وجہ سے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں تک پانی نہ پہنچے، اور فرمایا کرتے یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سرکے بالوں کا دشمن ہوں، اسی وجہ سے میں اپنے سرکے بال رکھنے کا مخالف ہوں. (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۲صفحہ٦۹۰) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی </strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...