Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1580
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.2K Views
قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم
سوال یہ ہے کہ زید نے بکر کو 25 ہزار روپیہ قرض دیا ہے اور بکر ابھی قرض واپس نہیں کیا ہے، کرے گا بھی تو ایک یا دو سال میں کرے گا، تو کیا زید نے جو قرض دیا ہے ان روپیوں کی بھی زکوٰۃ زید پر فرض ہے یا قرض ملنے کے بعد فرض ہوگی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ العارض: محمد سعید علیمی . ساکن: بسڈیلہ پوسٹ چائی کلاں ضلع سنت کبیر نگر یوپی۔ باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب جو مال قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی زکاۃ قرض دینے والے پر واجب ہے البتہ اس زکاۃ کی ادائے گی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مال مل جائے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کردی تو ادا ہوجائے گی فتاوی رضویہ میں ہے “جو روپیہ قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی بھی زکاۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر”(ج ۴ ص ۴۳۲) اس ارشاد سے واضح ہوا کہ اگر زید مالک نصاب ہے تو اس نے جو قرض ۲۵ ہزار روپیہ دیا ہے اس کی زکاۃ فرض ہے البتہ ادا کرنا اس وقت ضروری ہے جب وہ روپیہ مل جائے۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ: محمد اختر حسین قادری صدر شعبۂ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضئ شہر ضلع خلیل آباد یوپی انڈیا ۱۹ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ
Kutubahu & Verified by:
<h2>قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم</h2> سوال یہ ہے کہ زید نے بکر کو 25 ہزار روپیہ قرض دیا ہے اور بکر ابھی قرض واپس نہیں کیا ہے، کرے گا بھی تو ایک یا دو سال میں کرے گا، تو کیا زید نے جو قرض دیا ہے ان روپیوں کی بھی زکوٰۃ زید پر فرض ہے یا قرض ملنے کے بعد فرض ہوگی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ العارض: محمد سعید علیمی . ساکن: بسڈیلہ پوسٹ چائی کلاں ضلع سنت کبیر نگر یوپی۔ باسمہ تعالی و تقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب </strong></span> جو مال قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی زکاۃ قرض دینے والے پر واجب ہے البتہ اس زکاۃ کی ادائے گی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مال مل جائے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کردی تو ادا ہوجائے گی فتاوی رضویہ میں ہے "جو روپیہ قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی بھی زکاۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر"(ج ۴ ص ۴۳۲) اس ارشاد سے واضح ہوا کہ اگر زید مالک نصاب ہے تو اس نے جو قرض ۲۵ ہزار روپیہ دیا ہے اس کی زکاۃ فرض ہے البتہ ادا کرنا اس وقت ضروری ہے جب وہ روپیہ مل جائے۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد اختر حسین قادری </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>صدر شعبۂ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضئ شہر ضلع خلیل آباد یوپی انڈیا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۱۹ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...