Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1586 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.9K Views

بغیر سحری کے نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

بغیر سحری کے نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

بغیر سحری کے نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

سوال : کیا سحری کے بغیر نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں؟ سائل : محمد مشتاق خان بلڈر عائشہ نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب سحری کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری کھانے کا حکم دیا اور اس کے فضائل وبرکات بھی بیان فرمائے۔ حدیث مبارکہ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ۔ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ بخاری، الصحیح، 2 : 678، رقم : 1823، دار ابن کثیر الیمامة بیروت مسلم، الصحیح، 2 : 770، رقم : 1096، دار احیاء التراث العربی بیروت نیز فرمایا: فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ. ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق صرف سحری کھانے کا ہے۔ مسلم، الصحیح، 2: 770، رقم: 1096 احمد بن حنبل، 4: 197، رقم: 708 درج بالا احادیث سے ظاہرتا ہے کہ سحری کرنا عبادت اور باعثِ برکت و ثواب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سحری کے وقت بیدار نہیں ہوسکا یا با امرِ مجبوری سحری کا اہتمام نہیں کر سکا تو سحری کھائے بغیر بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔ سحری کھائے بغیر روزہ درست ہوگا، مگر سحری کی برکت اور اجر و ثواب سے محرومی رہے گی۔ اس لیے جان بوجھ کر سحری ترک کرنا اہل کتاب کی مشابہت ہونے کے سبب جائز نہیں ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>بغیر سحری کے نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : کیا سحری کے بغیر نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں؟ سائل : محمد مشتاق خان بلڈر عائشہ نگر مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> سحری کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری کھانے کا حکم دیا اور اس کے فضائل وبرکات بھی بیان فرمائے۔ حدیث مبارکہ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ۔ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ بخاری، الصحیح، 2 : 678، رقم : 1823، دار ابن کثیر الیمامة بیروت مسلم، الصحیح، 2 : 770، رقم : 1096، دار احیاء التراث العربی بیروت نیز فرمایا: فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ. ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق صرف سحری کھانے کا ہے۔ مسلم، الصحیح، 2: 770، رقم: 1096 احمد بن حنبل، 4: 197، رقم: 708 درج بالا احادیث سے ظاہرتا ہے کہ سحری کرنا عبادت اور باعثِ برکت و ثواب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سحری کے وقت بیدار نہیں ہوسکا یا با امرِ مجبوری سحری کا اہتمام نہیں کر سکا تو سحری کھائے بغیر بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔ سحری کھائے بغیر روزہ درست ہوگا، مگر سحری کی برکت اور اجر و ثواب سے محرومی رہے گی۔ اس لیے جان بوجھ کر سحری ترک کرنا اہل کتاب کی مشابہت ہونے کے سبب جائز نہیں ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...