Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1589 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.2K Views

ہبہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ہبہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ہبہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ

السلام و علیکم ورحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں زید کے چار لڑکے ہیں اور چار لڑکیاں ہیں زید نے اپنی ہی زندگی میں تین لڑکوں کو اپنی جائداد میں سے ہبہ کر دیا تو زید کے مرنے کے بعد اب چوتھا لڑکا مطالبہ کر رہا ہے۔ جس سے زید ناراض تھا۔ تو کیا زید کا اس طرح ہبہ کرنا عند الشرح درست ہے۔ اور جو لڑکا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ مطالبہ کا حقدار ہے یا نہی۔ اور جو لڑکیاں ہیں ہبہ شدہ جائداد میں حقدار ہیں یا نہیں۔ قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفتی سید عبد الرحمن چشتی علیمی الجواب بعون الملک الوھاب زیدنے اپنے چوتھے لڑکے اور لڑکیوں کو چھوڑ کر صحت کی حالت میں تین لڑکوں کواپنی پوری جائیداد کو ہبہ کرکے قبضہ کرادیا تو ہبہ صحیح ہوگیا، اب زید کی وفات کے بعد باقی اس لڑکے اور لڑکیوں کا جائیداد میں کوئی حق نہیں، نہ ہی انہیں اس میں سے کچھ مطالبہ کا حق ہے، مگر زید نے اگر ان کو وراثت سے محروم کرنے کی نیت سے ایسا کیا ہو تو ایسا کرنا گناہ ہے.آدمی کو اپنی حیات میں عطیہ میں اپنی اولاد کو برابر دینا چاہیے، یہاں تک کہ حیات میں عطیہ میں لڑکی کو بھی لڑکے کے برابر دینے کا حکم ہے،ہاں! کسی کو دینی اعتبار سے فضیلت ہو تو اس کو زیادہ دینے میں مضایقہ نہیں۔چناں چہ حدیث شریف میں ہے : عَنْ عَامِرٍ رضی الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رضی الله عنهم وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُ أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَةً فَقَالَتْ عَمْرَهُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لَا أَرْضَی حَتَّی تُشْهِدَ رَسُولَ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم فَأَتَی رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَکَ يَا رَسُولَ اﷲِ قَالَ أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِکَ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَاتَّقُوا اﷲَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِکُمْ قَالَ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَتَهُ. (ابن أبي شيبة، المصنف:٦/ ٢٣٣، رقم: ٣٠٩٨٩) ایک دوسری روایت میں ہے : اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِکُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِکُمْ. اپنی اولاد میں انصاف کرو، اپنے بیٹوں میں انصاف کرو۔ (أحمد بن حنبل، المسند، ٤/ ٢٧٨، رقم: ١٨٤٧٥) ایک حدیث میں ارشاد ہے : من قطع میراث وارثہ، قطع اللہ میراثہ من الجنة یوم القیامۃ۔ رواہ ابن ماجہ۔(مشکوۃ رقم الحدیث: ٢٦٦) سنن ابن ماجہ میں ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنے وارث کو میراث دینے سے بھاگے ، اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الوصایا،ص:١٩٤) بہار شریعت میں ہے : بعض اولاد کے ساتھ محبت زیادہ ہو بعض کے ساتھ کم یہ کوئی ملامت کی چیز نہیں کیونکہ یہ فعل غیر اختیاری ہے اور عطیہ، میں اگر یہ ارادہ ہو کہ بعض کو ضرر پہنچاوے تو سب میں برابری کرے کم وبیش نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے ہاں اگر اولاد میں ایک کودوسرے پر دینی فضیلت وترجیح ہے مثلاً ایک عالم ہے جو خدمت علم دین میں مصروف ہے یا عبادت ومجاہدہ میں اشتغال رکھتا ہے ایسے کو اگر زیادہ دے اور جو لڑکے دنیا کے کاموں میں زیادہ اشتغال رکھتے ہیں انھیں کم دے یہ جائز ہے اِس میں کسی قسم کی کراہت نہیں یہ حکم دیانت کاہے اور قضا کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال کا مالک ہے حالت صحت میں اپنا سارا مال ایک ہی لڑکے کو دیدے اور دوسروں کو کچھ نہ دے یہ کرسکتاہے دوسرے لڑکے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے مگر ایسا کرنے میں گنہگار ہے۔ (بہار شریعت حصہ چہاردہم ، ص ٨١) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٤ شعبان ١٤٤٣/ ١٨ مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2>ہبہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ</h2> السلام و علیکم ورحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں زید کے چار لڑکے ہیں اور چار لڑکیاں ہیں زید نے اپنی ہی زندگی میں تین لڑکوں کو اپنی جائداد میں سے ہبہ کر دیا تو زید کے مرنے کے بعد اب چوتھا لڑکا مطالبہ کر رہا ہے۔ جس سے زید ناراض تھا۔ تو کیا زید کا اس طرح ہبہ کرنا عند الشرح درست ہے۔ اور جو لڑکا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ مطالبہ کا حقدار ہے یا نہی۔ اور جو لڑکیاں ہیں ہبہ شدہ جائداد میں حقدار ہیں یا نہیں۔ قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفتی سید عبد الرحمن چشتی علیمی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> زیدنے اپنے چوتھے لڑکے اور لڑکیوں کو چھوڑ کر صحت کی حالت میں تین لڑکوں کواپنی پوری جائیداد کو ہبہ کرکے قبضہ کرادیا تو ہبہ صحیح ہوگیا، اب زید کی وفات کے بعد باقی اس لڑکے اور لڑکیوں کا جائیداد میں کوئی حق نہیں، نہ ہی انہیں اس میں سے کچھ مطالبہ کا حق ہے، مگر زید نے اگر ان کو وراثت سے محروم کرنے کی نیت سے ایسا کیا ہو تو ایسا کرنا گناہ ہے.آدمی کو اپنی حیات میں عطیہ میں اپنی اولاد کو برابر دینا چاہیے، یہاں تک کہ حیات میں عطیہ میں لڑکی کو بھی لڑکے کے برابر دینے کا حکم ہے،ہاں! کسی کو دینی اعتبار سے فضیلت ہو تو اس کو زیادہ دینے میں مضایقہ نہیں۔چناں چہ حدیث شریف میں ہے : عَنْ عَامِرٍ رضی الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رضی الله عنهم وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُ أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَةً فَقَالَتْ عَمْرَهُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لَا أَرْضَی حَتَّی تُشْهِدَ رَسُولَ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم فَأَتَی رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَکَ يَا رَسُولَ اﷲِ قَالَ أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِکَ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَاتَّقُوا اﷲَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِکُمْ قَالَ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَتَهُ. (ابن أبي شيبة، المصنف:٦/ ٢٣٣، رقم: ٣٠٩٨٩) ایک دوسری روایت میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِکُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِکُمْ.</strong></span> اپنی اولاد میں انصاف کرو، اپنے بیٹوں میں انصاف کرو۔ (أحمد بن حنبل، المسند، ٤/ ٢٧٨، رقم: ١٨٤٧٥) ایک حدیث میں ارشاد ہے : <strong><span style="color: #ff0000;">من قطع میراث وارثہ، قطع اللہ میراثہ من الجنة یوم القیامۃ۔ رواہ ابن ماجہ۔(مشکوۃ رقم الحدیث: ٢٦٦)</span></strong> سنن ابن ماجہ میں ہے : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنے وارث کو میراث دینے سے بھاگے ، اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الوصایا،ص:١٩٤) بہار شریعت میں ہے : بعض اولاد کے ساتھ محبت زیادہ ہو بعض کے ساتھ کم یہ کوئی ملامت کی چیز نہیں کیونکہ یہ فعل غیر اختیاری ہے اور عطیہ، میں اگر یہ ارادہ ہو کہ بعض کو ضرر پہنچاوے تو سب میں برابری کرے کم وبیش نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے ہاں اگر اولاد میں ایک کودوسرے پر دینی فضیلت وترجیح ہے مثلاً ایک عالم ہے جو خدمت علم دین میں مصروف ہے یا عبادت ومجاہدہ میں اشتغال رکھتا ہے ایسے کو اگر زیادہ دے اور جو لڑکے دنیا کے کاموں میں زیادہ اشتغال رکھتے ہیں انھیں کم دے یہ جائز ہے اِس میں کسی قسم کی کراہت نہیں یہ حکم دیانت کاہے اور قضا کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال کا مالک ہے حالت صحت میں اپنا سارا مال ایک ہی لڑکے کو دیدے اور دوسروں کو کچھ نہ دے یہ کرسکتاہے دوسرے لڑکے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے مگر ایسا کرنے میں گنہگار ہے۔ (بہار شریعت حصہ چہاردہم ، ص ٨١) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٤ شعبان ١٤٤٣/ ١٨ مارچ ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...