Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1590 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.5K Views

حضور اقدس علیہ السلام کو نام لے کر پکارنے کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حضور اقدس علیہ السلام کو نام لے کر پکارنے کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حضور اقدس علیہ السلام کو نام لے کر پکارنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم علماء کرام سے ادنی سی گزارش ھیکہ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع میں لفظ “یا” لکھنا پڑھنا پکارنا کیا درست ھے؟ کرم نوازی فرما کر کامل تشریح فرمادیں فقط والسلام۔ آپ تمام علماء کرام کا خیراندیش : مقصودفراز گورسی الجوابــــــــــــــــــــــــ قرآن مقدس نے ہمیں یہ ادب سکھایا ہے کہ پم اپنے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نام اقدس لے کر نہ پکاریں یعنی “یا محمد” نہ کہیں_ بلکہ یارسول اللہ! یا نبی اللہ! کہیں (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) بلکہ ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ اگر کسی منقول دعا میں بھی “یامحمد” وارد ہو تو اس کو یارسول اللہ! یا نبی اللہ! سے بدل دیا جائے۔اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: “لا تَجْعَلُواْ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ “(یعنی: رسول کے پکارنے کا آپس میں ایسا نہ ٹھیرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ سورہ نور :آیت نمبر ٦٣) تفسیر طبری میں ہے: “حدثني محمد بن عمرو، قال: ثنا أبو عاصم، قال: ثنا عيسى، وحدثني الحارث، قال: ثنا الحسن، قال: ثنا ورقاء، جميعا عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد: ﴿كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾ قال: أمرهم أن يدعوا: يا رسول الله، في لين وتواضع، ولا يقولوا: يا محمد في تجهم.” تفسیر در منثور میں ہے: “أخْرَجَ ابْنُ أبِي حاتِمٍ، وابْنُ مَرْدُوَيْهِ، وأبُو نُعَيْمٍ في ”الدَّلائِلِ“، عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ في قَوْلِهِ: ﴿لا تَجْعَلُوا دُعاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكم كَدُعاءِ بَعْضِكم بَعْضًا﴾ قالَ: كانُوا يَقُولُونَ: يا مُحَمَّدُ، يا أبا القاسِمِ، فَنَهاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ إعْظامًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، فَقالُوا: يا نَبِيَّ اللَّهِ، يا رَسُولَ اللَّهِ.” تفسیر جلالین (رحمہما اللہ تعالی) میں ہے: “﴿لا تَجْعَلُوا دُعاء الرَّسُول بَيْنكُمْ كَدُعاءِ بَعْضكُمْ بَعْضًا﴾ بِأَنْ تَقُولُوا يا مُحَمَّد بَلْ قُولُوا: يا نَبِيّ اللَّه يا رَسُول اللَّه فِي لِين وتَواضُع وخَفْض صَوْت۔” تفسیر امام نسفی رحمہ اللہ میں ہے: ﴿لا تَجْعَلُوا دُعاءَ الرَسُولِ بَيْنَكم كَدُعاءِ بَعْضِكم بَعْضًا﴾ أيْ إذا احْتاجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إلى اجْتِماعِكم عِنْدَهُ لِأمْرٍ فَدَعاكم فَلا تَفَرَّقُوا عَنْهُ إلّا بِإذْنِهِ ولا تَقِيسُوا دُعاءَهُ إيّاكم عَلى دُعاءِ بَعْضِكم بَعْضًا ورُجُوعَكم عَنِ المَجْمَعِ بِغَيْرِ إذْنِ الداعِي أوْ لا تَجْعَلُوا تَسْمِيَتَهُ ونِداءَهُ بَيْنَكم كَما يُسَمِّي بَعْضُكم بَعْضًا ويُنادِيهِ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمّاهُ بِهِ أبَواهُ فَلا تَقُولُوا يا مُحَمَّدُ ولَكِنْ يا نَبِيَّ اللهِ يا رَسُولَ اللهِ مَعَ التَوْفِيرِ والتَعْظِيمِ والصَوْتِ المَخْفُوضِ۔” امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز ایک فتوی میں تحریر فرماتے ہیں: “ایک یہ بات یاد رہے کہ حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک لے کر ندانہ چاہئے بلکہ اس کی جگہ یارسول ﷲ ہو” (فتاوی رضویہ ج٦ ص٧٣) ایک اور مقام پر انبیائے عظام علیہم الصلاة والسلام کے مابین حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی امتیازی شان بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “ثم اقول: نہایت یہ ہے کہ اشقیائے یہود مدینہ و مشرکین مکہ جو حضور سے جاہلانہ گفتگو میں کرتے، ان مقالاتِ خبیثہ کو بغرض رد و ابطال، و مژدہ رسانی عذاب و نکال، بارہا نقل فرمایا گیا، مگر ان گستاخوں کی اس بے ادبانہ ندا کا کہ نام لے کر حضور کو پکارتے ، محلِّ نقل میں ذکر نہ آیا۔ ہاں! جہاں انھوں نے وصف کریم سے ندا کی تھی ،اگرچہ ان کے زعم میں بطور استہزا تھی ،اسے قرآن مجید نقل کر لایا کہ :قالوا یٰایھا الذی نزل علیہ الذکر۔ بخلاف حضرات انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ و التسلیم کہ ان کے کفار کے مخاطبے ویسے ہی منقول ہیں ۔ یانوح قد جادلتنا۔ ءانت فعلت ھذا بالھتنا یا ابراھیم ۔ یاموسی ادع لنا ربک بما عھد عندک یاصالح ائتنا بما تعدنا۔ یا شعیب ما نفقہ کثیرا مما تقول۔ بلکہ اس زمانہ کے مطیعین بھی انبیاء علیہم الصلواۃ و التسلیم سے یونہی خطاب کرتے ہیں اور قرآن عظیم نے اسی طرح نقل فرمائی، اسباط نے کہا : یٰموسی لن نصبر علی طعام واحد۔ حواریوں نے کہا :یعیسی ابن مریم ھل یستطیع ربک۔ یہاں اس کا یہ بندوبست فرمایا کہ اس امت مرحومہ پر اس نبی کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم کا نام پاک لے کر خطاب کرنا ہی حرام ٹھہرایا: قال اللہ تعالٰی : لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا۔ کہ اے زید! اے عمرو! بلکہ یوں عرض کرو : یارسول اللہ ، یانبی اللہ ، یا سید المرسلین، یا خاتم النبیین ، یاشفیع المذنبین، صلی اللہ تعالٰی علیک وسلم وعلٰی اٰلک اجمعین۔ ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں راوی: قال کانوا یقولون یا محمد! یا اباالقاسم! فنھاھم اللہ عن ذٰلک اعظاماً لنبیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، فقالوا یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ۔یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابالقاسم کہا جاتا اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کی تعظیم کو اس سے نہی فرمائی ، جب سے صحابہ کرام یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ کہا کرتے ۔ بیہقی امام علقمہ وامام اسود اورابو نعیم امام حسن بصری وامام سعید بن جبیر سے تفسیر کریمہ مذکورہ میں راوی :لا تقولوا یا محمد ولٰکن قولوا یا رسول اللہ ، یا نبی اللہ۔یعنی اللہ تعالٰی فرماتاہے : یا محمد نہ کہو بلکہ یا نبی اللہ ، یارسول اللہ کہو۔اسی طرح امام قتادہ تلمیذ انس بن مالک سے روایت کی ، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنی حرام ہے ۔ اور واقعی محل انصاف ہے جسے اس کا مالک ومولٰی تبارک وتعالٰی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا : گریہ لفظ کسی دعاء میں وارد ہوجو خود نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے یا محمد انی توجھت بک الی ربی۔ تاہم اس کی جگہ یارسول اللہ ، یا نبی اللہ چاہیے ، حالانکہ الفاظ دعاء میں حتی الوسع تغییر نہیں کی جاتی ۔کما یدل علیہ حدیث نبیک الذی ارسلت ورسولک الذی ارسلت۔ یہ مسئلہ مہمّہ جس سے اکثر اہل زمانہ غافل ہیں نہایت واجب الحفظ ہے ۔ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے اس کی تفصیل اپنے مجموعہ فتاوٰی مسمّٰی بہ العطایاالنبویہ فی الفتاوی الرضویہ میں ذکر کی۔وباللہ التوفیق ۔ خیر یہ تو خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا معاملہ تھا ۔ حضور کے صدقہ میں اس امت مرحومہ کا خطاب بھی خطابِ امم سابقہ سے ممتاز ٹھہرا ۔ اگلی امتوں کو اللہ تعالٰی یا ایھا المساکین۔فرمایا کرتا۔توریت مقدس میں جابجا یہی لفظ ارشاد ہوا ہے ،قالہ خیثمۃ رواہ ابن ابی حاتم اوردہ السیوطی فی الخصائص الکبرٰی۔ اوراس مت مرحومہ کو جب ندافرمائی ہےیٰایھالذین اٰمنوا فرمایا گیا ہے ، یعنی اے ایمان والو! امتی کے لیے اس سے زیادہ اورکیا فضیلت ہوگی۔ سچ ہے پیارے علاقہ والے بھی پیارے ۔ آخر نہ سنا کہ فرماتا ہے: فاتبعونی یحببکم اللہ۔” (رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین، مشمولہ فتاوی رضویہ ج٣٠ جدید) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١۴/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ/١٨/مارچ ٢٠٢٢ء ۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>حضور اقدس علیہ السلام کو نام لے کر پکارنے کا حکم</h2> بسم اللہ الرحمن الرحیم علماء کرام سے ادنی سی گزارش ھیکہ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع میں لفظ "یا" لکھنا پڑھنا پکارنا کیا درست ھے؟ کرم نوازی فرما کر کامل تشریح فرمادیں فقط والسلام۔ آپ تمام علماء کرام کا خیراندیش : مقصودفراز گورسی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> قرآن مقدس نے ہمیں یہ ادب سکھایا ہے کہ پم اپنے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نام اقدس لے کر نہ پکاریں یعنی "یا محمد" نہ کہیں_ بلکہ یارسول اللہ! یا نبی اللہ! کہیں (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) بلکہ ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ اگر کسی منقول دعا میں بھی "یامحمد" وارد ہو تو اس کو یارسول اللہ! یا نبی اللہ! سے بدل دیا جائے۔اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: "لا تَجْعَلُواْ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ "(یعنی: رسول کے پکارنے کا آپس میں ایسا نہ ٹھیرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ سورہ نور :آیت نمبر ٦٣) تفسیر طبری میں ہے: "حدثني محمد بن عمرو، قال: ثنا أبو عاصم، قال: ثنا عيسى، وحدثني الحارث، قال: ثنا الحسن، قال: ثنا ورقاء، جميعا عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد: ﴿كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾ قال: أمرهم أن يدعوا: يا رسول الله، في لين وتواضع، ولا يقولوا: يا محمد في تجهم." تفسیر در منثور میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"أخْرَجَ ابْنُ أبِي حاتِمٍ، وابْنُ مَرْدُوَيْهِ، وأبُو نُعَيْمٍ في ”الدَّلائِلِ“، عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ في قَوْلِهِ: ﴿لا تَجْعَلُوا دُعاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكم كَدُعاءِ بَعْضِكم بَعْضًا﴾ قالَ: كانُوا يَقُولُونَ: يا مُحَمَّدُ، يا أبا القاسِمِ، فَنَهاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ إعْظامًا لِنَبِيِّهِ ﷺ، فَقالُوا: يا نَبِيَّ اللَّهِ، يا رَسُولَ اللَّهِ."</strong></span> تفسیر جلالین (رحمہما اللہ تعالی) میں ہے: <strong><span style="color: #ff0000;">"﴿لا تَجْعَلُوا دُعاء الرَّسُول بَيْنكُمْ كَدُعاءِ بَعْضكُمْ بَعْضًا﴾ بِأَنْ تَقُولُوا يا مُحَمَّد بَلْ قُولُوا: يا نَبِيّ اللَّه يا رَسُول اللَّه فِي لِين وتَواضُع وخَفْض صَوْت۔"</span></strong> تفسیر امام نسفی رحمہ اللہ میں ہے: <strong>﴿لا تَجْعَلُوا دُعاءَ الرَسُولِ بَيْنَكم كَدُعاءِ بَعْضِكم بَعْضًا﴾ أيْ إذا احْتاجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إلى اجْتِماعِكم عِنْدَهُ لِأمْرٍ فَدَعاكم فَلا تَفَرَّقُوا عَنْهُ إلّا بِإذْنِهِ ولا تَقِيسُوا دُعاءَهُ إيّاكم عَلى دُعاءِ بَعْضِكم بَعْضًا ورُجُوعَكم عَنِ المَجْمَعِ بِغَيْرِ إذْنِ الداعِي أوْ لا تَجْعَلُوا تَسْمِيَتَهُ ونِداءَهُ بَيْنَكم كَما يُسَمِّي بَعْضُكم بَعْضًا ويُنادِيهِ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمّاهُ بِهِ أبَواهُ فَلا تَقُولُوا يا مُحَمَّدُ ولَكِنْ يا نَبِيَّ اللهِ يا رَسُولَ اللهِ مَعَ التَوْفِيرِ والتَعْظِيمِ والصَوْتِ المَخْفُوضِ۔"</strong> امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز ایک فتوی میں تحریر فرماتے ہیں: "ایک یہ بات یاد رہے کہ حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک لے کر ندانہ چاہئے بلکہ اس کی جگہ یارسول ﷲ ہو" (فتاوی رضویہ ج٦ ص٧٣) ایک اور مقام پر انبیائے عظام علیہم الصلاة والسلام کے مابین حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی امتیازی شان بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "ثم اقول: نہایت یہ ہے کہ اشقیائے یہود مدینہ و مشرکین مکہ جو حضور سے جاہلانہ گفتگو میں کرتے، ان مقالاتِ خبیثہ کو بغرض رد و ابطال، و مژدہ رسانی عذاب و نکال، بارہا نقل فرمایا گیا، مگر ان گستاخوں کی اس بے ادبانہ ندا کا کہ نام لے کر حضور کو پکارتے ، محلِّ نقل میں ذکر نہ آیا۔ ہاں! جہاں انھوں نے وصف کریم سے ندا کی تھی ،اگرچہ ان کے زعم میں بطور استہزا تھی ،اسے قرآن مجید نقل کر لایا کہ :قالوا یٰایھا الذی نزل علیہ الذکر۔ بخلاف حضرات انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ و التسلیم کہ ان کے کفار کے مخاطبے ویسے ہی منقول ہیں ۔ یانوح قد جادلتنا۔ ءانت فعلت ھذا بالھتنا یا ابراھیم ۔ یاموسی ادع لنا ربک بما عھد عندک یاصالح ائتنا بما تعدنا۔ یا شعیب ما نفقہ کثیرا مما تقول۔ بلکہ اس زمانہ کے مطیعین بھی انبیاء علیہم الصلواۃ و التسلیم سے یونہی خطاب کرتے ہیں اور قرآن عظیم نے اسی طرح نقل فرمائی، اسباط نے کہا : یٰموسی لن نصبر علی طعام واحد۔ حواریوں نے کہا :یعیسی ابن مریم ھل یستطیع ربک۔ یہاں اس کا یہ بندوبست فرمایا کہ اس امت مرحومہ پر اس نبی کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم کا نام پاک لے کر خطاب کرنا ہی حرام ٹھہرایا: قال اللہ تعالٰی : لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا۔ کہ اے زید! اے عمرو! بلکہ یوں عرض کرو : یارسول اللہ ، یانبی اللہ ، یا سید المرسلین، یا خاتم النبیین ، یاشفیع المذنبین، صلی اللہ تعالٰی علیک وسلم وعلٰی اٰلک اجمعین۔ ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں راوی: قال کانوا یقولون یا محمد! یا اباالقاسم! فنھاھم اللہ عن ذٰلک اعظاماً لنبیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، فقالوا یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ۔یعنی پہلے حضور کو یا محمد یا ابالقاسم کہا جاتا اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کی تعظیم کو اس سے نہی فرمائی ، جب سے صحابہ کرام یا نبی اللہ ، یا رسول اللہ کہا کرتے ۔ بیہقی امام علقمہ وامام اسود اورابو نعیم امام حسن بصری وامام سعید بن جبیر سے تفسیر کریمہ مذکورہ میں راوی :لا تقولوا یا محمد ولٰکن قولوا یا رسول اللہ ، یا نبی اللہ۔یعنی اللہ تعالٰی فرماتاہے : یا محمد نہ کہو بلکہ یا نبی اللہ ، یارسول اللہ کہو۔اسی طرح امام قتادہ تلمیذ انس بن مالک سے روایت کی ، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنی حرام ہے ۔ اور واقعی محل انصاف ہے جسے اس کا مالک ومولٰی تبارک وتعالٰی نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا : گریہ لفظ کسی دعاء میں وارد ہوجو خود نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی جیسے دعائے یا محمد انی توجھت بک الی ربی۔ تاہم اس کی جگہ یارسول اللہ ، یا نبی اللہ چاہیے ، حالانکہ الفاظ دعاء میں حتی الوسع تغییر نہیں کی جاتی ۔کما یدل علیہ حدیث نبیک الذی ارسلت ورسولک الذی ارسلت۔ یہ مسئلہ مہمّہ جس سے اکثر اہل زمانہ غافل ہیں نہایت واجب الحفظ ہے ۔ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ نے اس کی تفصیل اپنے مجموعہ فتاوٰی مسمّٰی بہ العطایاالنبویہ فی الفتاوی الرضویہ میں ذکر کی۔وباللہ التوفیق ۔ خیر یہ تو خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا معاملہ تھا ۔ حضور کے صدقہ میں اس امت مرحومہ کا خطاب بھی خطابِ امم سابقہ سے ممتاز ٹھہرا ۔ اگلی امتوں کو اللہ تعالٰی یا ایھا المساکین۔فرمایا کرتا۔توریت مقدس میں جابجا یہی لفظ ارشاد ہوا ہے ،قالہ خیثمۃ رواہ ابن ابی حاتم اوردہ السیوطی فی الخصائص الکبرٰی۔ اوراس مت مرحومہ کو جب ندافرمائی ہےیٰایھالذین اٰمنوا فرمایا گیا ہے ، یعنی اے ایمان والو! امتی کے لیے اس سے زیادہ اورکیا فضیلت ہوگی۔ سچ ہے پیارے علاقہ والے بھی پیارے ۔ آخر نہ سنا کہ فرماتا ہے: فاتبعونی یحببکم اللہ۔" (رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین، مشمولہ فتاوی رضویہ ج٣٠ جدید) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ/١٨/مارچ ٢٠٢٢ء ۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...