01
The questionSawaal
اصل سوالہولی کھیلنا اور کافروں کے مذہبی تیوہاروں میں شرکت کرنا ؟
02
The responseAl-Jawab
ہولی کھیلنا اور کافروں کے مذہبی تیوہاروں میں شرکت کرنا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع اسلام مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں پر مسلم لڑکے لڑکیاں ایسے اسکول میں پڑھتے پڑھاتے ہیں جہاں ان کے ساتھ ہندو لڑکے لڑکیاں پڑھتے پڑھاتے ہیں اور جب ہولی کا تہوار آتا ہے تو چھٹی سے پہلے ایک دن اسکول میں ہولی کھیلی جاتی ہے جس میں مسلمان لڑکے لڑکیاں بھی ہولی کھیلتے ہیں جس میں بعض تو خوشی خوشی کھیلتے ہیں اور بعض اسکو برا جانتے ہیں مگر فرینڈ شپ اور یاری دوستی کو نبھانے کے لیے کھیلتے ہیں لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندوؤں کے ساتھ ہولی کھیلنا از روئے شرع کیسا ہے اور جو مسلمان ہولی کھیلتے ہیں انکے لیے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے قرآن وحديث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں المستفتی: محمد عرفان ازہری ہبلی کرناٹک الجواب بعون الملک العزیز الوہاب ہولی کھیلنا اور کافروں کے مذہبی تیوہروں میں ان کو اچھا سمجھ کر شرکت کرنا کفر ہے، ورنہ ناجائز و حرام اشد حرام جیسا کہ غمز عیون البصائر میں ہے ” اتفق مشائخنا أن من رأی أمر الکفار حسنا فقد کفر (جلد دوم 203) اور حدیث پاک میں ہے ” من تشبہ بقوم فهو منهم”(ابو داؤد : حدیث نمبر 4031, مسند احمد : 5114) یعنی جس نے جس قوم سے مشابہت کی اس کا انجام انہیں میں ہوگا. اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں کہ : ہولی، دیوالی یہ سب رسوم رسوم کفار ہیں مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور بطور پسند کریں تو صریح کفر ہے(جلد 9 صفحہ 140 ) اور حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ہولی ہندوؤں کی آتش پرستی کا ایک خاص دن ہے جس میں آگ کی پرستش کرتے اور اپنے طور پر خوشی مناتے ہیں ہولی کھیلنا یا اس زمانے میں بدن یا کپڑے پر رنگ ڈالنا یا ڈلوانا خاص شعار ہنود ہے اور ایسے امور کا ارتکاب کفر ہے ( فتاوی امجدیہ جلد چہارم صفحہ 151) اور فتاوى شارح بخاری میں مذکور ہے،، ہولی میں شرکت کرنا حرام ہے اور اگر پسند کرے تو صریح کفر ہے ہولی وغیرہ کی مبارکباد دینا اشد حرام بلکہ منجز الی الکفر ہے جو مسلمان ایسا کرتے ہیں ان پر توبہ تجدید ایمان و نکاح لازم ہے( جلد دوم صفحہ 566) حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ہولی جو کہ غیر مسلموں کا شعار ہے اس میں شرکت حرام بد کام بد انجام شریک ہونے والوں پر توبہ فرض ہے اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کریں (فتاوٰی تاج الشریعہ جلد دوم صفحہ 74) لہذا ہولی کھیلنے والے مسلمانوں پر لازم و ضروری ہے کہ اعلانیہ توبہ واستغفار کریں اور تجدید ایمان کریں اور اگر بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی کریں. والـــلـــه ورسوله أعـــــــلـــم بـــالصــــواب کتبہ: ابو ثوبان غزالی محمد شمشاد القادری منظری غفرلہ خادم التدریس والافتاء الجامعة القادریہ، رچھا ریلوے اسٹیشن، بریلی شریف. ١۴ شعبان المعظم ١٤٤٣ھ / ١۸ مارچ ۲۰۲۲ء الجواب صحیح والمجیب نجیح والله تعالى ورسوله أعلم بالصواب “ ابو حسان محمد عمر رضوی، الجامعة القادریہ رچھا اسٹیشن، بریلی شریف
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.