Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1594 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13K Views

قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ” کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟ (سائل محمد شاہد عطاری لاہور) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب قسم کی تین قسمیں ہیں (1) یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو ایسی قسم پر کفارہ نہیں) (2)– یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا یہ حرام ہے) (3)– یمینِ مُنعقدہ جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے) قسم کا کفارہ (1)اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے ۔ (2)یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے ۔ (3) یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے ۔ (تفسیرصراط الجنان-جلد-3-صفحہ18) (ھدایہ شریف میں ہے) فان لم یقدر علی احد الاشیاء صام ثلاثۃ ایام متتابعات.. یعنی اگر مذکورہ تین کاموں میں سے کسی کی قدرت نہ ہو تو پھر لگاتار تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے. (ھدایہ مع فتح القدیر،کتاب الایمان،فصل فی الکفارۃ،جلد5،صفحہ 76، مطبوعہ کوئٹہ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ'' کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قسم کی کتنی اقسام ہیں اور قسم کا کفارہ کیاہے؟ (سائل محمد شاہد عطاری لاہور) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> قسم کی تین قسمیں ہیں (1) یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو ایسی قسم پر کفارہ نہیں) (2)-- یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا یہ حرام ہے) (3)-- یمینِ مُنعقدہ جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے) قسم کا کفارہ (1)اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے ۔ (2)یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے ۔ (3) یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے ۔ (تفسیرصراط الجنان-جلد-3-صفحہ18) (ھدایہ شریف میں ہے) فان لم یقدر علی احد الاشیاء صام ثلاثۃ ایام متتابعات.. یعنی اگر مذکورہ تین کاموں میں سے کسی کی قدرت نہ ہو تو پھر لگاتار تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے. (ھدایہ مع فتح القدیر،کتاب الایمان،فصل فی الکفارۃ،جلد5،صفحہ 76، مطبوعہ کوئٹہ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...