Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1595 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.1K Views

ہمبستری سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت پر عدت ہے یانہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ہمبستری سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت پر عدت ہے یانہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ہمبستری سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت پر عدت ہے یانہیں ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیافرماتےہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عامر کی شادی ہوئ ہے دعا سے. اور عامر فیصل آباد کا رہنے والا ہے. اور دعا چنیوٹ کی رہنے والی ہے.. جب عامر بارات لے کر چنیوٹ آیا اور دعا سے شادی ہو گئ..اور جب وہ گھر جا رہے تھے دلھن کو لے کر تو راستے میں عامر کا انتقال ہو گیا. اب اس حالت میں دعا پر عدت ہو گی یا نہیں ؟ (سائل عبد المنان اعظمی کراچی) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب صورت مسئولہ میں اس عورت پر بلاشبہ عدت لازم ہوگی، اور اگر وہ غیر حاملہ ہے تو اس کی عدت 4ماہ 10دن ہو گی، جبکہ شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ وہ عورت 130دن عدت کے پورے کرے گی : چنانچہ غیر حاملہ بیوہ کی عدت کے متعلق قرآن کریم میں ہے، وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ- (سورۂ بقرہ آیت نمبر(۲۳۴) ترجمہ اور تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اللہ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے- اس آیت کے تحت (تفسیر صراط الجنان میں ہے) فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے، یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی : یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے: (تفسیرصراط الجنان جلد1صفحہ359) فتاویٰ رضویہ الخ و بہار شریعت وغیرہا میں ہے : کہ موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشر طیہ کہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو، یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو، لیکن اگرعورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے (بہار شریعت حصہ-۸-صفحہ-۲٣۷تا۲۴۸-مکتبۃ المدینہ کراچی) (فتاویٰ رضویہ جلد١٣صفحہ۲۹۴تا۲۹٥- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے) وعدة المتوفی عنها زوجها إذا کانت غیر حامل وهي حرة أربعة أشهر وعشرًا، یستوي في ذٰلک الدخول وعدم الدخول والصغر والکبر” (الفتاویٰ التاتارخانیة ۵؍۲۲۸ رقم: ۷۷۲۵) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>ہمبستری سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہو گیا تو عورت پر عدت ہے یانہیں ؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیافرماتےہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عامر کی شادی ہوئ ہے دعا سے. اور عامر فیصل آباد کا رہنے والا ہے. اور دعا چنیوٹ کی رہنے والی ہے.. جب عامر بارات لے کر چنیوٹ آیا اور دعا سے شادی ہو گئ..اور جب وہ گھر جا رہے تھے دلھن کو لے کر تو راستے میں عامر کا انتقال ہو گیا. اب اس حالت میں دعا پر عدت ہو گی یا نہیں ؟ (سائل عبد المنان اعظمی کراچی) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> صورت مسئولہ میں اس عورت پر بلاشبہ عدت لازم ہوگی، اور اگر وہ غیر حاملہ ہے تو اس کی عدت 4ماہ 10دن ہو گی، جبکہ شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ وہ عورت 130دن عدت کے پورے کرے گی : چنانچہ غیر حاملہ بیوہ کی عدت کے متعلق قرآن کریم میں ہے، وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ- (سورۂ بقرہ آیت نمبر(۲۳۴) ترجمہ اور تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اللہ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے- اس آیت کے تحت (تفسیر صراط الجنان میں ہے) فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے، یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی : یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے: (تفسیرصراط الجنان جلد1صفحہ359) فتاویٰ رضویہ الخ و بہار شریعت وغیرہا میں ہے : کہ موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشر طیہ کہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو، یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو، لیکن اگرعورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے (بہار شریعت حصہ-۸-صفحہ-۲٣۷تا۲۴۸-مکتبۃ المدینہ کراچی) (فتاویٰ رضویہ جلد١٣صفحہ۲۹۴تا۲۹٥- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے) وعدة المتوفی عنها زوجها إذا کانت غیر حامل وهي حرة أربعة أشهر وعشرًا، یستوي في ذٰلک الدخول وعدم الدخول والصغر والکبر" (الفتاویٰ التاتارخانیة ۵؍۲۲۸ رقم: ۷۷۲۵) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...