صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1617 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مسجد بنانے کے لیے وقف شدہ زمین میں امام کا حجرہ بنانا کیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,315

سوال (Question):

مسجد بنانے کے لیے وقف شدہ زمین میں امام کا حجرہ بنانا کیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسجد بنانے کے لیے وقف شدہ زمین میں امام کا حجرہ بنانا کیسا؟

مفتیان کرام ! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ کیا فرما تے ہیں علماء کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے دو کٹھا زمین مسجد کے نام وقف کی اور اس زمین کے اکثر حصہ پر مسجد بنوائی اور باقی حصہ پر وضو خانے استنجا خانے بیت الخلاء بنواے اور امام کے رہنے کے واسطے اور بچوں کی تعلیم کیلئے وضو خانے کے سامنے والی زمین پر زید نے ایک بڑا کمرہ تعمیر کرایا جسمیں بھت دنوں تک بچوں کی تعلیم بھی ہوئ اور امام کا قیام بھی رھا اس کےبعد وضو خانے واستنجاخانے والی زمین پر چھت ڈال کر اوپر دو روم بناے گئے جہاں فی الوقت بچوں کی تعلیم ہوتی ہے۔ مسجد کے سامنے ہورب کی سمت والی زمین کو زید نے اپنی ملکیت میں رکھا ۔ اور مسجد کے لئے زمین وقف کرنے والے زید کا انتقال ہو گیا جسے وضو خانے اور امام کے رہنے کے بناے گئے روم کے درمیان دفن کیا گیا پھر مرحوم زید کے وارثوں نے مسجد کے سامنے والی زمین کو مسجد کو دے دیا جہاں پر دینی جلسے ھوتے ہیں مرد وخواتین کا دراجتماع ہوتا ہے نیز 15 اگست و26 جنوری کے موقع پر پرچم کشائی ہوتی ہے گاؤں کے چھوٹے بڑے کے علاوہ ھندو لوگ موجود رہتے ہیں ۔ دریافت امر یہ ہے کہ امام کے رہنے واسطے جو کمرہ بنایا گیا ہے اس میں امام اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہ سکتے ہیں یانہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہو گی ۔ المستفتی محمد حضیرالدین مصباحی دیناج پوری الجوابــــــــــــــــــــــ جو زمین خاص مسجد کے لیے وقف ہوچکی ہو اس زمین میں وضو خانہ یا استنجا خانہ یا امام کی رہائش گاہ یا تعلیم کے لیے کمرہ بنانا جائز نہیں۔اس لیے امام کے رہنے کے واسطے جو کمرہ بنایا گیا ہے تو اگر اس کو مسجد کے لیے وقف زمین میں بنایا گیا ہے تو یہ کمرہ بنانا ہی جائز نہ تھا اور اس میں امام کا اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہائش کرنا ناجائز وحرام ہے۔نیز اس حصہ میں وضو خانہ استنجا خانہ یا بچوں کی تعلیم کے لیے حجرہ بنانا بھی جائز نہ ہوگا۔ لیکن اگر وضو خانہ یا امام کا حجرہ مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کے علاوہ میں ہے۔تو امام اس میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ کسی زمین کے لیے مسجد کے احکام ثابت ہونے کے لیے مسجد کی سی عمارت، مینار اور محراب و ممبر حتی کہ کسی عمارت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اگر کسی نے اپنی مملوکہ زمین کے بارے میں کہہ دیا کہ میں نے اتنی زمین کو مسجد کردیا اور اس سے اپنی املاک علاحدہ کرلیے اور اس کا عام راستہ ہو تو اس کے لیے مسجد کے خاص احکام ثابت ہوجاتے ہیں ۔ فتاوی رضویہ میں ہے: “مسجد کے لئے چھت،منارہ، دیواریں کوئی چیزلازم نہیں، اس میں تو منبر محراب موجود ہے، یہ بھی نہ ہوتا تو بھی مسجدیت میں خلل نہیں۔مسجد صرف اس زمین کا نام ہے جو نماز کیلئے وقف ہو یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنی نری خالی زمین مسجد کو دے مسجد ہوجائے گی، مسجد کا احترام اس کےلئے فرض ہوجائے گا۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ ابدا او امرھم بالصلٰوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجد اکذافی الذخیرۃ وھکذا فی فتاوٰی قاضی خان۔” (فتاوی رضویہ ج٦ ص٣٩٠) بہار شریعت میں ہے: “یہ کہا کہ میں نے اس کو مسجد کردیا تو اس کہنے سے بھی ہو جائے گی۔” (بہار شریعت ح ١٠ ص۵٦١) اسی میں ہے: “مکان میں مسجد بنائی اور لوگوں کو اُس میں آنے اور نماز پڑھنے کی اجازت دیدی اگر مسجد کا راستہ علیحدہ کردیا ہے تو مسجد ہوگئی۔ مسجد کے لیے یہ ضرور ہے کہ اپنی املاک سے اُسکو بالکل جدا کردے اسکی ملک اُس میں باقی نہ رہے۔” (ایضا) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم . کتبہ محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٦/شعبان المعظم١۴۴٣ھ //٢٠/مارچ ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh