Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1598 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.4K Views

امام محلہ کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھانا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

امام محلہ کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھانا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

امام محلہ کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کہ میں زید نے ایک ماہ قبل ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ایک ماہ گزرنے کے بعد بکر نے اعتراض کیا کہ نماز جنازہ مکروہ ہوئی ہے اور مکروہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے امام محلہ سے پڑھانے کی اجازت نہیں لی ۔۔جبکہ میں زید نے نماز جنازہ میت کے اولیاء کی اجازت سے پڑھائی تھی اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا نماز جنازہ مکروہ ہوئی یا نہیں مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔۔ مہربانی ہوگی ۔ المستفتی محمد ریٔس خان حنفی ۔۔ ساکن بالاکوٹ پنجنی کشمیر الجوابـــــــــ بعون الملک الوھاب اگر کسی شخص کی نماز جنازہ میں میت کا ولی، محلے کا امام اور کوئی بڑا عالم بھی موجود ہو ، تو نماز جنازہ پڑھانے کا حق سب سے زیادہ ولی کو حاصل ہے پھر امام محلہ کو جبکہ امام محلہ علم وفضل زہد وتقوی اور دینداری میں ولی میت سے افضل ہو تو پھر ولی کو چاہئے کہ محلے کے امام سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست پیش کرے، لیکن اگر ولی میت امام محلہ کے علاوہ جنازہ میں شامل کسی دوسرے عالم کو اجازت دیدے تب بھی جائز ہے کیونکہ نماز جنازہ پڑھانے کا حق ولی کا ہے وہ جس کو چاہے اجازت دے سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر مرنے والا کسی مخصوص شخص کے لئے نماز جنازہ پڑھانےکی وصیت کر جائے، تب بھی فقہائے کرام کے نزدیک یہ وصیت باطل ہے اور یہ حق بدستور ولی میت کو حاصل رہیگا ، چاہے وہ خود نماز جنازہ پڑھائے یا کسی دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے ، “وتقدیم إمام الحی مندوبٌ فقط بشرط أن یکون أفضل من الولی، وإلا فالولی أولی کما فی درمختار : ج۳ ص۱۲۰) وله أن يأذن لغيره) أي للولي أن يأذن لغيره في الصلاة على الجنازة لأن التقدم حقه فيملك إبطاله بتقديم غيره” (تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته،ج:1، ص:573) البتہ فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ محلے کے امام کو مقدم کرنا افضل ہے کیونکہ مرنے والا   زندگی میں جس شخص کے پیچھے نماز پڑھنے پر خوش رہتا تھا تو اس کو نماز جنازہ میں بھی مقدم کرنا مستحب ہوگا، لیکن اگر مرنے والا زندگی میں محلے کے امام سے کسی وجہ شرعی کی بنا پر ناراض تھا اور  اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناپسند کرتا تھا تو پھر ایسے امام کو اس میت کی نماز جنازہ کے لیے مقدم کرنا خلاف اولی ہے۔قولہ: ” ثم إمام الحي إلی الطائفة وہو إمام المسجد الخاص بالمحلة وإنما کان أولی؛ لأن المیت رضي بالصلاۃ خلفه فی حال حیاته، فینبغی أن یصلی علیہ بعد وفاته، قال فی شرح المنیة: فعلی هذا لو علم أنہ کان غیر راض بہٖ حال حیاته ینبغی أن لا یستحب تقدیمه.) (شامی: ج۳ ص۱۱۹) ہاں اگر زید ولی میت کی اجازت کے بغیر پڑھاتا تب بھی نماز تو ہوجاتی البتہ ولی میت کو دوبارہ نماز جنازہ پڑھنے کا اختیار رہتا جیسا کہ سرکار اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں، کہ ایسی صورت میں نماز تو ہو گئی جو نماز بغیر اجازت ولی کے پڑھی جائے ولی کو اختیار ہے کہ دوبارہ پڑھے مگر جو پہلے پڑھ چکے ہیں وہ دوبارہ نہیں پڑھ سکتے ۔ (فتاوی رضویہ جلد نہم صفحہ ۱۷۷ رضا فاؤنڈیشن) اور بہار شریعت میں ہے :”ولی کے سوا کسی ایسے نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اورولی نے اسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر وہ ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہ و قاضی و امام محلہ کہ ولی سے افضل ہو تو اب ولی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا اور اگرایک ولی نے نماز پڑھا دی تو دوسرے اولیا اعادہ نہیں کر سکتے اور ہر صورت اعادہ میں جو شخص پہلی نماز میں شریک نہ تھا وہ ولی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے اور جو شخص شریک تھا وہ ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا ہے کہ جنازہ کی دو مرتبہ نماز ناجائز ہے سوا اس صورت کے کہ غیر ولی نے بغیر اذن ولی پڑھائی”۔ (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ نمبر 188) لہذا جب زید نے ولی میت کی اجازت سے نماز پڑھائی تو نماز جنازہ بلا کراہت ہوگئ البتہ زید بے علم مسئلہ بتانے کے سبب ضرور گنہگار ہوا لہذا وہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کبھی بلا تحقیق مسئلہ بیان نہ کرے کہ قرآن و حدیث میں اس کی وعید شدید آئی ہے, اللہ پاک فرماتا ہے : ﴿ولا تَقفُ ما ليسَ لكَ به عِلْمٌ إنَّ السَّمعَ والبصرَ والفؤادَ كُلُّ أولئكَ كانَ عنه مسؤولاً﴾ [ سورة الإسراء: 36] اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم : مَنْ أفْتیٰ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَعَنَتْه مَلآئِکَه السَّمٰوَاتِ وَالْأرْضِ۔[رواه ابن عساكر في تاريجه] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا :جو بے علم فتویٰ دے آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں “مَنْ اَفْتیٰ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ اِثْمه علی مَنْ اَفْتَاہُ” جس نے بِغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے. (سنن أبي داؤد ج۳ ص۴۴۹، حدیث نمبر: ۳۶۵۷ ) والـــلـــہ ورسوله أعـــــــلـــم بـــالصــــواب. کتبہ : ابو ثوبان غزالی محمد شمشاد القادری منظری غفرلہ خادم التدریس والافتاء، الجامعة القادریہ، رچھا ریلوے اسٹیشن، بریلی شریف، یوپی, الہند. ١۲ شعبان المعظم ١٤٤٣ھ / ١٣ مارچ ۲۰۲۲ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>امام محلہ کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھانا</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کہ میں زید نے ایک ماہ قبل ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ایک ماہ گزرنے کے بعد بکر نے اعتراض کیا کہ نماز جنازہ مکروہ ہوئی ہے اور مکروہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے امام محلہ سے پڑھانے کی اجازت نہیں لی ۔۔جبکہ میں زید نے نماز جنازہ میت کے اولیاء کی اجازت سے پڑھائی تھی اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا نماز جنازہ مکروہ ہوئی یا نہیں مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔۔ مہربانی ہوگی ۔ المستفتی محمد ریٔس خان حنفی ۔۔ ساکن بالاکوٹ پنجنی کشمیر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــ بعون الملک الوھاب</strong> </span> اگر کسی شخص کی نماز جنازہ میں میت کا ولی، محلے کا امام اور کوئی بڑا عالم بھی موجود ہو ، تو نماز جنازہ پڑھانے کا حق سب سے زیادہ ولی کو حاصل ہے پھر امام محلہ کو جبکہ امام محلہ علم وفضل زہد وتقوی اور دینداری میں ولی میت سے افضل ہو تو پھر ولی کو چاہئے کہ محلے کے امام سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست پیش کرے، لیکن اگر ولی میت امام محلہ کے علاوہ جنازہ میں شامل کسی دوسرے عالم کو اجازت دیدے تب بھی جائز ہے کیونکہ نماز جنازہ پڑھانے کا حق ولی کا ہے وہ جس کو چاہے اجازت دے سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر مرنے والا کسی مخصوص شخص کے لئے نماز جنازہ پڑھانےکی وصیت کر جائے، تب بھی فقہائے کرام کے نزدیک یہ وصیت باطل ہے اور یہ حق بدستور ولی میت کو حاصل رہیگا ، چاہے وہ خود نماز جنازہ پڑھائے یا کسی دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے ، "وتقدیم إمام الحی مندوبٌ فقط بشرط أن یکون أفضل من الولی، وإلا فالولی أولی کما فی درمختار : ج۳ ص۱۲۰) وله أن يأذن لغيره) أي للولي أن يأذن لغيره في الصلاة على الجنازة لأن التقدم حقه فيملك إبطاله بتقديم غيره" (تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته،ج:1، ص:573) البتہ فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ محلے کے امام کو مقدم کرنا افضل ہے کیونکہ مرنے والا   زندگی میں جس شخص کے پیچھے نماز پڑھنے پر خوش رہتا تھا تو اس کو نماز جنازہ میں بھی مقدم کرنا مستحب ہوگا، لیکن اگر مرنے والا زندگی میں محلے کے امام سے کسی وجہ شرعی کی بنا پر ناراض تھا اور  اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناپسند کرتا تھا تو پھر ایسے امام کو اس میت کی نماز جنازہ کے لیے مقدم کرنا خلاف اولی ہے۔قولہ: " ثم إمام الحي إلی الطائفة وہو إمام المسجد الخاص بالمحلة وإنما کان أولی؛ لأن المیت رضي بالصلاۃ خلفه فی حال حیاته، فینبغی أن یصلی علیہ بعد وفاته، قال فی شرح المنیة: فعلی هذا لو علم أنہ کان غیر راض بہٖ حال حیاته ینبغی أن لا یستحب تقدیمه.) (شامی: ج۳ ص۱۱۹) ہاں اگر زید ولی میت کی اجازت کے بغیر پڑھاتا تب بھی نماز تو ہوجاتی البتہ ولی میت کو دوبارہ نماز جنازہ پڑھنے کا اختیار رہتا جیسا کہ سرکار اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں، کہ ایسی صورت میں نماز تو ہو گئی جو نماز بغیر اجازت ولی کے پڑھی جائے ولی کو اختیار ہے کہ دوبارہ پڑھے مگر جو پہلے پڑھ چکے ہیں وہ دوبارہ نہیں پڑھ سکتے ۔ (فتاوی رضویہ جلد نہم صفحہ ۱۷۷ رضا فاؤنڈیشن) اور بہار شریعت میں ہے :"ولی کے سوا کسی ایسے نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اورولی نے اسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر وہ ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہ و قاضی و امام محلہ کہ ولی سے افضل ہو تو اب ولی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا اور اگرایک ولی نے نماز پڑھا دی تو دوسرے اولیا اعادہ نہیں کر سکتے اور ہر صورت اعادہ میں جو شخص پہلی نماز میں شریک نہ تھا وہ ولی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے اور جو شخص شریک تھا وہ ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا ہے کہ جنازہ کی دو مرتبہ نماز ناجائز ہے سوا اس صورت کے کہ غیر ولی نے بغیر اذن ولی پڑھائی"۔ (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ نمبر 188) لہذا جب زید نے ولی میت کی اجازت سے نماز پڑھائی تو نماز جنازہ بلا کراہت ہوگئ البتہ زید بے علم مسئلہ بتانے کے سبب ضرور گنہگار ہوا لہذا وہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کبھی بلا تحقیق مسئلہ بیان نہ کرے کہ قرآن و حدیث میں اس کی وعید شدید آئی ہے, اللہ پاک فرماتا ہے : ﴿ولا تَقفُ ما ليسَ لكَ به عِلْمٌ إنَّ السَّمعَ والبصرَ والفؤادَ كُلُّ أولئكَ كانَ عنه مسؤولاً﴾ [ سورة الإسراء: 36] اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم : مَنْ أفْتیٰ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَعَنَتْه مَلآئِکَه السَّمٰوَاتِ وَالْأرْضِ۔[رواه ابن عساكر في تاريجه] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا :جو بے علم فتویٰ دے آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں "مَنْ اَفْتیٰ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ اِثْمه علی مَنْ اَفْتَاہُ" جس نے بِغیر علم کے فتویٰ دیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے. (سنن أبي داؤد ج۳ ص۴۴۹، حدیث نمبر: ۳۶۵۷ ) والـــلـــہ ورسوله أعـــــــلـــم بـــالصــــواب. <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : ابو ثوبان غزالی محمد شمشاد القادری منظری غفرلہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتاء، الجامعة القادریہ، رچھا ریلوے اسٹیشن، بریلی شریف، یوپی, الہند. </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۲ شعبان المعظم ١٤٤٣ھ / ١٣ مارچ ۲۰۲۲ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...