01
The questionSawaal
اصل سوالیوم پیدائش (Birthday) پر کیک کاٹنا اور دعوت و تحائف کا شرعی حکم
02
The responseAl-Jawab
یوم پیدائش (Birthday) پر کیک کاٹنا اور دعوت و تحائف کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع اسلام مسئلہ ذیل میں کہ آج کچھ لوگ اپنے یا اپنے بچوں کی پیدائش کے موقعہ پر یعنی جنم دن پر ہر سال کیک کاٹتے اور لوگوں کی دعوت بھی کرتے ہیں پھر وہ لوگ تحفے وغیرہ پیش کرتے ہیں تو کیا برتھ ڈے پر کیک کاٹنا اور دعوت وغیرہ کرنا چاہئے یا نہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے اور اس ناچیز کو شکریہ کا موقع فراہم کریں۔ فقط والسلام ۔ المستفتی :ماسٹر اسرار بیس اکیڈمی، قصبہ رچھا، بریلی شریف. بسم الله الرحمن الرحيم الجواب بعون الملک العزیز الوهاب یوم پیدائش کے موقعہ پر دعوت طعام کا اہتمام کرنا،یا اس موقع پر مٹھائی یا کیک وغیرہ کسی مباح چیز پر فاتحہ پڑھ کر یا ایسے ہی تقسیم کرنا رشتے داروں کا تحائف دینا اور ان تحائف کو قبول کرنا،رشتہ دار و احباب کا بچے کی فلاح و بہبودی کےلیے دعا کرنا اور مبارک بادی پیش کرنا اور اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں اس بات کا شکریہ ادا کرنا کہ اللہ تعالی نے صحت و عافیت اور عبادت کی توفیق کے ساتھ زندگی کا ایک سال مکمل کیا اس طرح برتھ ڈے منانے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر مروجہ برتھ ڈے جو عموما بہت سی خرافات پر مشتمل ہوتے ہیں، اور کفار سے مشابہت مقصود ہوتی ہے، اہل سنت وجماعت کا ان سے کوئی تعلق نہیں، مثلا: کیک کاٹنا، موم بتی جلاکر بجھانا، ہیپّی برتھ ڈے گانا، تالی بجانا، مرد و عورت کا اختلاط اور اس موقع پر رقص و سرور کی محفل منعقد کرنا یہ سب افعال قبیحہ شنیعہ و رذیلہ ہیں۔ لہذا سال گرہ کا پروگرام اگر ایسے افعال پر مشتمل ہو تو ناجائز وحرام ہے جبکہ مذکورہ قبیح چیزوں سے بھرپور برتھ ڈے کا جشن کلی طور پر مغربی تہذیبِ بد کی دین ہے، اور اللہ جل شانه نے کافروں کی رسم و راہ سے منع فرما دیا : وَلَا تَرۡكَنُوۤا۟ إِلَى ٱلَّذِینَ ظَلَمُوا۟ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِیَاۤءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ [سورہ ھود : 113] اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔ اسلئے ان کے راستہ سے پرہیز کا حکم دیا اور بندوں کو یہ دعا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے : ﴿ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَ ٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِیمَ صِرَ ٰطَ ٱلَّذِینَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡهِمۡ غَیۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَیۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّاۤلِّینَ﴾ تفسیر جلالین میں ہے (غير المغضوب عليهم) وهم اليهود (ولا الضالين) وهم النصارى یعنی وہ لوگ جن پر اللہ پاک کا غضب ہوا اور جو سیدھے راستہ سے بہک گئے وہ یہود و نصاری ہیں. اور مروجہ برتھ ڈے میں ان سے تشابہ صاف ظاہر ہے۔ اور حدیث پاک میں ہے : “من تشبه بقوم فهو منهم” [ ابو داؤد: 4031, مسند احمد : 5114 ] یعنی جس نے جس قوم سے مشابہت کی اس کا انجام انہیں میں ہوگا. لہذا اس طور پر برتھ ڈے منانے سے احتراز لازم و ضروری ہے. والـــلـــه ورسوله أعـــــــلـــم بـــالصــــواب کتبه : ابو ثوبان غزالی محمد شمشاد القادری منظری غفرلہ خادم التدریس والافتاء الجامعة القادریہ، رچھا ریلوے اسٹیشن، بریلی شریف. ٦ شعبان المعظم ١٤٤٣ھ / ١٠ مارچ ۲۰۲۲ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.