Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1600 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.6K Views

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟

سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟ المستفتی:-حافظ وقاری محمد اعجاز رضا مدرس دار العلوم نظامیہ نیروجال وامام وخطیب جامع مسجد فتحپور راجوری جموں وکشمیر الجواب اللهم هداية الحق والصواب اللہ رب العزت وحده لاشریك له ہے اس کے لیے واحد کا صیغہ(اللہ تعالی فرماتا ہے) استعمال کرنا ہی زیادہ مناسب اور بہتر ہے لیکن اگر کوئی تعظیما جمع کا صیغہ(اللہ تعالی فرماتےہیں) استعمال کرتا ہے تو یہ بھی درست ہے البتہ ایسا کرنا خلاف اولی ہے ۔ اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا کہ”تعظیماجمع کا لفظ خدا کی شان میں بولنا جائز ہے یا نہیں،جیسے کہ اللہ جل شانہ یوں فرماتے ہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ جوابا فرماتے ہیں”حرج نہیں اور بہتر صیغہ واحد ہے کہ واحد احد کے لیے وہی انسب ہے،قرآن عظیم میں ایک جگہ رب عزوجل سے خطاب جمع ہے (رب ارجعون) وہ بھی زبان کافر سےہے”(ج ۵ ص ۱۳۷/ناشر:امام احمد رضا اکیڈمی بمبئ) امام اہلسنت علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں “اللہ عزوجل کو ضمائر مفرد سے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد،احد،فرد،وتر ہے اور تعظیما ضمائر جمع میں بھی حرج نہیں،اس کی نظیر قرآن عظیم میں ضمائر متکلم ہیں تو صدہا جگہ ہے “انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون” بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اسکے نگہبان ہیں اور ضمائر خطاب میں صرف ایک جگہ ہے وہ بھی کلام کافر سے کہ عرض کرے گا”قال رب ارجعون لعلى أعمل صالحا”(اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں) اس میں علما نے تاویل فرمادی کہ یہ”ارجع”کی جمع باعتبار تکرار ہے یعنی “ارجع ارجع ارجع” ہاں ضمائر غیبت میں بے ذکر مرجع صیغ جمع فارسی اور اردو میں بکثرت بلا نکیر رائج ہیں بہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ”اللہ تعالی فرماتا ہے”مگر اس میں(یعنی اللہ عزوجل فرماتے ہیں جملہ میں)کفر وشرک کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتا، نہ گناہ ہی کہا جائے گا بلکہ خلاف اولی ہے”( فتاوی رضویہ مترجم ج۱۴ ص ۶۴۸ تا ۶۴۹/رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان) اور الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں ہے “آیت کریمہ: انا فتحنا لك فتحا مبينا-سورہ فتح:۱)بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی-یعنی انى فتحت لك-(کیونکہ اللہ واحد ہے-ضمیر جمع محض تعظیماہے-)”( ص۶۷/باھتمام مجلس برکات الجامعة الاشرفيه مبارک پور ضلع اعظم گڑھ،یوپی) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟</h2> سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟ المستفتی:-حافظ وقاری محمد اعجاز رضا مدرس دار العلوم نظامیہ نیروجال وامام وخطیب جامع مسجد فتحپور راجوری جموں وکشمیر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللهم هداية الحق والصواب</strong></span> اللہ رب العزت وحده لاشریك له ہے اس کے لیے واحد کا صیغہ(اللہ تعالی فرماتا ہے) استعمال کرنا ہی زیادہ مناسب اور بہتر ہے لیکن اگر کوئی تعظیما جمع کا صیغہ(اللہ تعالی فرماتےہیں) استعمال کرتا ہے تو یہ بھی درست ہے البتہ ایسا کرنا خلاف اولی ہے ۔ اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا کہ"تعظیماجمع کا لفظ خدا کی شان میں بولنا جائز ہے یا نہیں،جیسے کہ اللہ جل شانہ یوں فرماتے ہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ جوابا فرماتے ہیں"حرج نہیں اور بہتر صیغہ واحد ہے کہ واحد احد کے لیے وہی انسب ہے،قرآن عظیم میں ایک جگہ رب عزوجل سے خطاب جمع ہے (رب ارجعون) وہ بھی زبان کافر سےہے"(ج ۵ ص ۱۳۷/ناشر:امام احمد رضا اکیڈمی بمبئ) امام اہلسنت علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں "اللہ عزوجل کو ضمائر مفرد سے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد،احد،فرد،وتر ہے اور تعظیما ضمائر جمع میں بھی حرج نہیں،اس کی نظیر قرآن عظیم میں ضمائر متکلم ہیں تو صدہا جگہ ہے "انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون" بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اسکے نگہبان ہیں اور ضمائر خطاب میں صرف ایک جگہ ہے وہ بھی کلام کافر سے کہ عرض کرے گا"قال رب ارجعون لعلى أعمل صالحا"(اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں) اس میں علما نے تاویل فرمادی کہ یہ"ارجع"کی جمع باعتبار تکرار ہے یعنی "ارجع ارجع ارجع" ہاں ضمائر غیبت میں بے ذکر مرجع صیغ جمع فارسی اور اردو میں بکثرت بلا نکیر رائج ہیں بہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ"اللہ تعالی فرماتا ہے"مگر اس میں(یعنی اللہ عزوجل فرماتے ہیں جملہ میں)کفر وشرک کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتا، نہ گناہ ہی کہا جائے گا بلکہ خلاف اولی ہے"( فتاوی رضویہ مترجم ج۱۴ ص ۶۴۸ تا ۶۴۹/رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان) اور الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں ہے "آیت کریمہ: انا فتحنا لك فتحا مبينا-سورہ فتح:۱)بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی-یعنی انى فتحت لك-(کیونکہ اللہ واحد ہے-ضمیر جمع محض تعظیماہے-)"( ص۶۷/باھتمام مجلس برکات الجامعة الاشرفيه مبارک پور ضلع اعظم گڑھ،یوپی) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...