Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1610
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.7K Views
کیا مٹی کا برتن استعمال کرنا سنت ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا مٹی کا برتن استعمال کرنا سنت ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا مٹی کا برتن استعمال کرنا سنت ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مٹی کے برتنوں کا استعمال کرنا کیا سنّت مؤکدہ ہے اور مٹی کے برتن استعمال کس نیت سے کریں ؟ سائل حافظ رضوان خوشاب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب (سب سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ سنت مؤکدہ، اور سنت غیر مؤکدہ کی تعریف کیاہے.. سنتِ مؤکدہ کی تعریف : سنت مؤکدہ وہ ہے جس کونبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم نےہمیشہ کیاہو، البتہ بیان جوازکے واسطے کبھی ترک بھی کیا ہو، یاوہ ہے کہ اس کےکرنےکی تاکید شرع نےفرمائ ہو، اس کا چھوڑنا، اساءت،کرنا ثواب،نادراًکبھی کبھی چھوڑنے پرعتاب اورچھوڑنےکی عادت بنانے والا مستحق عذاب ہے.. سنت غیر مؤکدہ فقہاء کرام نے اس کی مختلف تعریفیں بیان فرمائ ہیں، سنت غیرمؤکدہ کی تعریف ’سنتِ غیر مؤکدہ وہ ہےکہ شریعت نےاس کےکرنےکی تاکیدنہ فرمائی ہو، مگراس کاچھوڑنا، نا پسندجاناہو، اورنہ کرنےپرعتاب نہ ہو: (ماخوذفتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ204) (بہار شریعت حصہ2صفحہ383-مکتبۃ المدینہ کراچی) مستحب وہ فعل ہے جس کا ثبوت بھی ظنی ہو اور اس کی دلیل بھی ظنی ہوشریعت اسلامی کی اصطلاح میں مستحب وہ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ کے صحابہ نے کیا ہو یا اس کو اچھا خیال کیا ہو یا تابعین نے اس کو اچھا سمجھا ہو۔ لیکن اس کو ہمیشہ یا اکثر نہ کیا ہو بلکہ کبھی کیا، اور کبھی ترک کیا ہو، اس کا کرنا ثواب ہے اور نہ کرنا گناہ نہیں، اس کو سنت زائدہ یا عادیہ یا سنت غیر مؤکدہ بھی کہتے ہیں، اور فقہاءکرام کے نزدیک نفل بھی کہتے ہیں، بعض نے سنت غیر مؤکدہ اور مستحب کو الگ الگ بیان کیا ہے اور تھوڑا فرق بھی بیان کیا ہے.. (زبدۃ الفقہ جلد1صفحہ73 سید زوار حسین زوار اکیڈمی پبلی کیشنز) مٹی کے برتنوں کے متعلق امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔ مٹی یا کاٹھ (یعنی لکڑی) کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزےبھی۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 22صفحہ129-رضافاؤنڈیشن لاہور) ایک اورمقام پر مزید فرماتے ہیں مٹی کے برتن میں کھانا پینا بھی تواضُع سے قریب تَر ہے، کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں نہ اِسراف ہے نہ اِترانا، حدیث میں ہے جو اپنے گھر کے برتن مٹّی کے رکھے فرشتے اُس کی زیارت کریں۔ (فتاویٰ رضویہ جز الف جلد1صفحہ336) (بہار شریعت میں ہے) سونے چاندی کے سوا ہر قسم کے برتن کا استعمال جائز ہے، مثلاً تانبے، پیتل، سیسہ، بلور وغیرہا۔ مگر مٹی کے برتنوں کا استعمال سب سے بہتر کہ حدیث میں ہے کہ : ’’جس نے اپنے گھر کے برتن مٹی کے بنوائے، فرشتے اُس کی زیارت کو آئیں گے: (بہارشریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 396 مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا ثابت ہوا کہ مٹی کے برتن کا استعمال کرنا مستحب ہے، یا سنت غیر مؤکدہ ہے، سنت موکدہ ہرگز نہیں ۔ البتہ اگرکوئ ثواب کی نیت سے استعمال کرے تو اس کو ثواب ملےگا.. واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ:ابورضا محمدعمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا مٹی کا برتن استعمال کرنا سنت ہے ؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مٹی کے برتنوں کا استعمال کرنا کیا سنّت مؤکدہ ہے اور مٹی کے برتن استعمال کس نیت سے کریں ؟ سائل حافظ رضوان خوشاب وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> (سب سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ سنت مؤکدہ، اور سنت غیر مؤکدہ کی تعریف کیاہے.. سنتِ مؤکدہ کی تعریف : سنت مؤکدہ وہ ہے جس کونبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم نےہمیشہ کیاہو، البتہ بیان جوازکے واسطے کبھی ترک بھی کیا ہو، یاوہ ہے کہ اس کےکرنےکی تاکید شرع نےفرمائ ہو، اس کا چھوڑنا، اساءت،کرنا ثواب،نادراًکبھی کبھی چھوڑنے پرعتاب اورچھوڑنےکی عادت بنانے والا مستحق عذاب ہے.. سنت غیر مؤکدہ فقہاء کرام نے اس کی مختلف تعریفیں بیان فرمائ ہیں، سنت غیرمؤکدہ کی تعریف ’سنتِ غیر مؤکدہ وہ ہےکہ شریعت نےاس کےکرنےکی تاکیدنہ فرمائی ہو، مگراس کاچھوڑنا، نا پسندجاناہو، اورنہ کرنےپرعتاب نہ ہو: (ماخوذفتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ204) (بہار شریعت حصہ2صفحہ383-مکتبۃ المدینہ کراچی) مستحب وہ فعل ہے جس کا ثبوت بھی ظنی ہو اور اس کی دلیل بھی ظنی ہوشریعت اسلامی کی اصطلاح میں مستحب وہ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ کے صحابہ نے کیا ہو یا اس کو اچھا خیال کیا ہو یا تابعین نے اس کو اچھا سمجھا ہو۔ لیکن اس کو ہمیشہ یا اکثر نہ کیا ہو بلکہ کبھی کیا، اور کبھی ترک کیا ہو، اس کا کرنا ثواب ہے اور نہ کرنا گناہ نہیں، اس کو سنت زائدہ یا عادیہ یا سنت غیر مؤکدہ بھی کہتے ہیں، اور فقہاءکرام کے نزدیک نفل بھی کہتے ہیں، بعض نے سنت غیر مؤکدہ اور مستحب کو الگ الگ بیان کیا ہے اور تھوڑا فرق بھی بیان کیا ہے.. (زبدۃ الفقہ جلد1صفحہ73 سید زوار حسین زوار اکیڈمی پبلی کیشنز) مٹی کے برتنوں کے متعلق امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔ مٹی یا کاٹھ (یعنی لکڑی) کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزےبھی۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 22صفحہ129-رضافاؤنڈیشن لاہور) ایک اورمقام پر مزید فرماتے ہیں مٹی کے برتن میں کھانا پینا بھی تواضُع سے قریب تَر ہے، کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں نہ اِسراف ہے نہ اِترانا، حدیث میں ہے جو اپنے گھر کے برتن مٹّی کے رکھے فرشتے اُس کی زیارت کریں۔ (فتاویٰ رضویہ جز الف جلد1صفحہ336) (بہار شریعت میں ہے) سونے چاندی کے سوا ہر قسم کے برتن کا استعمال جائز ہے، مثلاً تانبے، پیتل، سیسہ، بلور وغیرہا۔ مگر مٹی کے برتنوں کا استعمال سب سے بہتر کہ حدیث میں ہے کہ : ’’جس نے اپنے گھر کے برتن مٹی کے بنوائے، فرشتے اُس کی زیارت کو آئیں گے: (بہارشریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 396 مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا ثابت ہوا کہ مٹی کے برتن کا استعمال کرنا مستحب ہے، یا سنت غیر مؤکدہ ہے، سنت موکدہ ہرگز نہیں ۔ البتہ اگرکوئ ثواب کی نیت سے استعمال کرے تو اس کو ثواب ملےگا.. واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ:ابورضا محمدعمران عطاری مدنی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...