Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1624 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.3K Views

عورتوں کا مسجد کی چھت پر جانا اور اجتماع کرنا کیسا ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عورتوں کا مسجد کی چھت پر جانا اور اجتماع کرنا کیسا ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسجد کی چھت پر عورتوں کااجتماع کرنا اور اس میں عورتوں کا جانا جائز نہیں

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی چھت پر عورتوں کا اجتماع کرنا کیسا ہے اور محلے کی عورتوں کا اجتماع میں آنا کیسا ہے بینوا توجروا المستفتی محمد عابد رضا حشمتی خطیب وامام گلشن مدینہ مسجد جوگیشوری ویسٹ ممبئی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب- عورتوں کو مسجد جانا منع ہے اور مسجد کی چھت پر بے ضرورت شرعیہ چھڑھنا مطلقاً مکروہ ہے نماز پڑھنے کے لئے بھی چڑھنے کی اجازت نہیں خواہ سخت گرمی ہو مگر جب مسجد نمازیوں پر تنگ ہوجائے تو چھت پر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” عورتوں کا مسجد میں جانا خود ممنوع ہے ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد7 صفحہ 233 کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) فتاوی ھندیۃ میں ہے: ” الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولھذا اذا اشتد الحریکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ الااذاضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحہ للضرورۃ ” اھ ( جلد5 صفحہ 395 کتاب الکراھیۃ ، باب آداب المسجد والقبلۃ والمصحف ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہرمسجد کی چھت پرچڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب گرمی سخت ہو تومسجد کے اوپر باجماعت نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر جب مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑگئی تو مجبورا چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” بے ضرورت شرعیہ مسجد کی چھت پرچڑھنامکروہ ہے یہاں تک کہ شدت گرمی بھی اس کے لئے عذرنہ مانی گئی ” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد7 صفحہ 233 کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) لہذا صورت مستفسرہ میں عورتوں کا مسجد کی چھت پر اجتماع کرنا اور اس اجتماع میں جانا دونوں ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ 9شعبان المعظم 1443ھ مطابق

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسجد کی چھت پر عورتوں کااجتماع کرنا اور اس میں عورتوں کا جانا جائز نہیں</h2> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی چھت پر عورتوں کا اجتماع کرنا کیسا ہے اور محلے کی عورتوں کا اجتماع میں آنا کیسا ہے بینوا توجروا المستفتی محمد عابد رضا حشمتی خطیب وامام گلشن مدینہ مسجد جوگیشوری ویسٹ ممبئی انڈیا۔ <strong>الجواب-بعون الملک الوھاب-</strong> عورتوں کو مسجد جانا منع ہے اور مسجد کی چھت پر بے ضرورت شرعیہ چھڑھنا مطلقاً مکروہ ہے نماز پڑھنے کے لئے بھی چڑھنے کی اجازت نہیں خواہ سخت گرمی ہو مگر جب مسجد نمازیوں پر تنگ ہوجائے تو چھت پر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:" عورتوں کا مسجد میں جانا خود ممنوع ہے " اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد7 صفحہ 233 کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) فتاوی ھندیۃ میں ہے: " الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولھذا اذا اشتد الحریکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ الااذاضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحہ للضرورۃ " اھ ( جلد5 صفحہ 395 کتاب الکراھیۃ ، باب آداب المسجد والقبلۃ والمصحف ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہرمسجد کی چھت پرچڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب گرمی سخت ہو تومسجد کے اوپر باجماعت نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر جب مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑگئی تو مجبورا چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: " بے ضرورت شرعیہ مسجد کی چھت پرچڑھنامکروہ ہے یہاں تک کہ شدت گرمی بھی اس کے لئے عذرنہ مانی گئی " اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد7 صفحہ 233 کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) لہذا صورت مستفسرہ میں عورتوں کا مسجد کی چھت پر اجتماع کرنا اور اس اجتماع میں جانا دونوں ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong> <strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong> <strong>9شعبان المعظم 1443ھ مطابق</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...