01
The questionSawaal
اصل سوالناپاک زمین پر جنازہ کی نماز پڑھی تو نہ ہوئی مگر جب جانماز یا جوتوں کے اوپر کھڑا ہو
02
The responseAl-Jawab
ناپاک زمین پر جنازہ کی نماز پڑھی تو نہ ہوئی مگر جب جانماز یا جوتوں کے اوپر کھڑا ہو
محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ محترم علماء کرام اہلسنت کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل میں کہ ایک جگہ جہاں مٹی میں بکری کی مینگنیاں بہت ہیں بکثرت کہ پاوں رکھنے بھر کی جگہ بھی خالی نہیں ہے پاؤں کے نیچے دوچار مینگنیاں ضرور آ جاتی ہیں اور وہ سوکھی ہیں تو کیا اس جگہ پر نماز جنازہ پڑھ لیں تو ادا ہو جائے گی یا نہیں جواب عنایت فرمائیں والسلام۔ المستفتی محمد نظام الدین برکاتی یادگیر کرناٹک انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب نماز جنازہ کے لئے طہارت شرط ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے والے کے بدن کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: ” اماالشروط التی ترجع الی المصلی فھی شروط بقیۃ الصلوۃ من الطھارۃ الحقیقۃ بدنا وثوبا ومکانا ” اھ ( جلد3 صفحہ 103 کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنائز ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی نماز جنازہ پڑھنے والے سے متعلق شرطیں وہی ہیں جو بقیہ نمازوں سے متعلق کہ بدن ، جامہ،جگہ نجاست حقیقیہ سے پاک ہو ۔ لہذا صورت مستفسرہ میں ایسی جگہ جہاں مینگنیاں بکھری ہوں نماز جنازہ ادا کریں تو نہ ہوگی کہ شرط طہارت مفقود ہے ۔ ہاں امام وغیرہ کسی پاک چیز پر کھڑے ہوجائیں مثلاً جانماز پر یا اپنا جوتا، چپل نکال کر اس پر کھڑے ہوجائیں تو ان کی نماز ہوجائے گی ۔ ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے: ” قد توضع فی بعض المواضع خارج المسجد فی الشارع فیصلی علیہا ویلزم منہ فسادھا من کثیر من المصلین لعموم النجاسۃ وعدم خلفہم نعالھم المتنجسۃ ” اھ ( جلد3 صفحہ 129 کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنائز ، مطبوعہ دارعالم الکتب الریاض ) یعنی کبھی بعض مقامات مین بیرون مسجد سڑک پر جنازہ رکھ کر نماز پڑھی جاتی ہے اس سے بہت سے لوگوں کی نمازکا فسادلازم آتاہے کیونکہ وہ جگہیں نجس ہوتی ہیں اور لوگ اپنے نجاست آلود جوتے اتارتے نہیں۔ اسی میں ہے :فی البدائع… لوصلی علی…مکعب اعلاہ طاھر وباطنہ نجس… عندمحمد یجوز لانہ صلی فی موضع طاہر کثوب طاھر تحتہ ثوب نجس… وظاہرہ ترجیح قول محمد وھوالاشبہ “اھ ملخصاً ( ردالمحتار علی الدرالمختار جلد2 صفحہ 387 کتاب الصلاۃ ، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا ، مطبوعہ دارعالم الکتب الریاض ) یعنی بدائع میں ہے اگر کسی ایسے مکعب پر نماز پڑھی جس کا بالائی حصہ پاک ہے اور اندرونی حصہ ناپاک ہے تو امام محمد کے نزدیک جائز ہے، اس لئے کہ نماز پاک جگہ اداہوئی جیسے کوئی پاک کپڑاہو جس کے نیچے دوسرا ناپاک کپڑا ہو یہاں ظاہراً امام محمد کا قول راجح ہے اور وہی اشبہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاک تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاک تھے اور اس حالت میں جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی ان کی نماز نہ ہوئی، احتیاط یہی ہےکہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھ لی جائے کہ زمین یا تلاناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد9 صفحہ 189 ، باب الجنائز ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) حضور اعلی حضرت نماز جنازہ کے لئے جانماز کی غرض بتاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:” فرض کیجئے کہ وہ تمام جگہ ایسی ناپاک ہے کہ کسی کی نماز نظر بواقع نہ ہوسکے تو جانماز کے سبب امام کی تو ہوجائے گی اور اسی قدر سب مسلمانوں کی طرف سے ادا ئے فرض وابرائے ذمہ کے لئے کافی ہے ” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد 9 صفحہ 193 ، باب الجنائز ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ 10شعبان المعظم 1443ھ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.