Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1627
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.7K Views
کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟
حضرت ایک سوال یہ ہے کہ نکاح کا قاضی ( نکاح خواں ) نکاح پڑھاتا ہے تو عوام اس سے پوچھتی ہے کہ کتنا رقم لیں گے تو کیا قاضی اپنی مرضی سے رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟ المستفتی محمد ارشاد اکبر پور یوپی انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب مانگ سکتا ہے کہ نکاح پڑھانے کی اجرت لینا اس کا حق ہے اور ہر حقدار اپنا حق مانگ کر لے سکتا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: “وکل نکاح باشرہ القاضی… ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه ” اھ ملخصاً ( جلد 3 صفحہ 328 کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے. جب کہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: ” نکاح خواں کو نکاح خوانی کے عوض مقررہ روپیہ لینا اور اس کے لئے روپیہ متعین کرنا جائز ہے اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے فتاوی رضویہ (قدیم) کے جلد پنجم صفحہ 171 کے ایک فتوی سے یہی مستفاد ہے ” اھ ( جلد اول کتاب النکاح صفحہ 525/526 ) کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ 16 شعبان المعظم 1443ھ
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟</h2> حضرت ایک سوال یہ ہے کہ نکاح کا قاضی ( نکاح خواں ) نکاح پڑھاتا ہے تو عوام اس سے پوچھتی ہے کہ کتنا رقم لیں گے تو کیا قاضی اپنی مرضی سے رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟ المستفتی محمد ارشاد اکبر پور یوپی انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> مانگ سکتا ہے کہ نکاح پڑھانے کی اجرت لینا اس کا حق ہے اور ہر حقدار اپنا حق مانگ کر لے سکتا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: "وکل نکاح باشرہ القاضی... ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه " اھ ملخصاً ( جلد 3 صفحہ 328 کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے. جب کہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: " نکاح خواں کو نکاح خوانی کے عوض مقررہ روپیہ لینا اور اس کے لئے روپیہ متعین کرنا جائز ہے اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے فتاوی رضویہ (قدیم) کے جلد پنجم صفحہ 171 کے ایک فتوی سے یہی مستفاد ہے " اھ ( جلد اول کتاب النکاح صفحہ 525/526 ) <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>16 شعبان المعظم 1443ھ</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...