Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1638
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.9K Views
زیر ناف بال صاف کرنے کے لئے پاؤڈر اورکریم وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
زیر ناف بال صاف کرنے کے لئے پاؤڈر اورکریم وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
زیر ناف بال صاف کرنے کے لئے پاؤڈر اورکریم وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ” کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیر ناف بال صاف کرنے کے لئے پاؤڈر اورکریم وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟ نیز ان بالوں کو صاف کرنے کی حد کیاہے؟ اور یہ زیر ناف بال کب تک صاف کر سکتے ہیں؟ سائل: علی اصغرگجرات پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب زیرِ ناف بالوں کو صاف کرنے کی حد یہ ہے کہ یہ بال ناف کے عین نیچے سےکاٹنا شروع کریں، اور خصیتین( یعنی فوطوں کے بال اردگردکے اور شرمگاہ کے بال، مونڈتے ہوئے مقعد (یعنی پاخانہ کے مقام) تک مونڈیں بلکہ مقعد کے ارد گرد کے بال بھی مونڈنا بہتر ہیں ۔ البتہ مرد و عورت کی رانوں کے بال اس حد میں داخل نہیں ہیں، لیکن انہیں بھی صاف کرنا جائز ہے، مرد و عورت دونوں کے لیے بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے، اور مونڈنا یا پاؤڈر یا ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے ۔ مرد کو ناف کے نیچے کے بالوں کو استرے یا ریزر وغیرہ سے مونڈنا چاہیے، چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، جبکہ عورت کے لیے ان بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے، اور چونے، پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے ۔ اور عورت کے لئے استرے، سیفٹی اور ریزر وغیرہ سے بھی ان بالوں کو دور کرنا جائز ہے ۔ موئے زیرناف دور کرناسنت ہے، ہر ہفتہ میں نہانہ، بدن کوصاف ستھرا رکھنا اور موئے زیرناف دورکرنا مستحب ہے، اور بہتر جمعہ کا دن ہے، جبکہ پندرھویں روز بھی کرنا جائز ہے، البتہ چالیس روز سے زیاده رکھنے کی اجازت نہیں، بلکہ چالیس روزسے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع ہے ۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے حضرت انس بن مالک رضی الله تعالٰی عنہ راوی ہیں، وقت لنا رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم في قص الشارب و تقليم الأظفار ونتف الإبط و حلق العانة أن لا نترك أكثر من اربعين ليلة، یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیرِ بغل بال اکھاڑنے اور زیرِ ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑ رکھے: (صحیح مسلم، کتاب الطهارة باب خصال الفطرة، جلد,1,صفحہ,129,قدیمی کتب خانہ) درمختارمیں ہے وہ بال جو مرد و عورت کی شرمگاہ کے ارد گرد ہوتے ہیں، یونہی مقعد کے اردگرد کے بال صاف کرنا اَوْلیٰ ہے تاکہ پتھر کے ساتھ استنجاء کے وقت نجاست بالوں کے ساتھ نہ لگے: درمختار,جلد,3,صفحہ, 48 دارالکتب العلمیہ بیروت امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فر ماتے ہیں، کہ حلق و قصر و نتف و تنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا اور نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں، کہ مقصود اس موضع جگہ) کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل ہے: فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ600 رضا فاؤنڈیشن لاہور (7)صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: (موئے زیر ناف دور کرنا سنت ہے، ہر ہفتہ میں نہانا,بدن کو صاف ستھرا رکھنا اور موئے زیرِ ناف دور کرنا مستحب ہے، اور بہتر جمعہ کا دن ہے اور پندرھویں روز کرنا بھی جائز ہے، اور چالیس روز سے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع۔ موئے زیرِ ناف استرے سے مونڈنا چاہیے اور اس کو ناف کے نیچے سے شروع کرنا چاہئے اور اگر مونڈنے کی جگہ ہرتال، چونا یا اس زمانہ میں بال اڑانے کا صابن چلا ہے، اس سے دور کرے، یہ بھی جائز ہے، عورت کو یہ بال اکھیڑ ڈالنا سنت ہے: (بہار شریعت,حصہ 16 صفحہ 584,مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) وقارالفتاویٰ میں ہے: کہ ناف کے نیچے سے خصیتین اور عضوِ تناسل کے اردگرد کے بال صاف کرنا سنت ہے، اور دُبر(یعنی پاخانہ کے مقام کے بال صاف کرنا مستحب ہے: (وقار الفتاویٰ جلد2صفحہ541) واللہ و رسولہ اعلم بالصواب کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>زیر ناف بال صاف کرنے کے لئے پاؤڈر اورکریم وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ " کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیر ناف بال صاف کرنے کے لئے پاؤڈر اورکریم وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں؟ نیز ان بالوں کو صاف کرنے کی حد کیاہے؟ اور یہ زیر ناف بال کب تک صاف کر سکتے ہیں؟ سائل: علی اصغرگجرات پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> زیرِ ناف بالوں کو صاف کرنے کی حد یہ ہے کہ یہ بال ناف کے عین نیچے سےکاٹنا شروع کریں، اور خصیتین( یعنی فوطوں کے بال اردگردکے اور شرمگاہ کے بال، مونڈتے ہوئے مقعد (یعنی پاخانہ کے مقام) تک مونڈیں بلکہ مقعد کے ارد گرد کے بال بھی مونڈنا بہتر ہیں ۔ البتہ مرد و عورت کی رانوں کے بال اس حد میں داخل نہیں ہیں، لیکن انہیں بھی صاف کرنا جائز ہے، مرد و عورت دونوں کے لیے بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے، اور مونڈنا یا پاؤڈر یا ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے ۔ مرد کو ناف کے نیچے کے بالوں کو استرے یا ریزر وغیرہ سے مونڈنا چاہیے، چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، جبکہ عورت کے لیے ان بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے، اور چونے، پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے ۔ اور عورت کے لئے استرے، سیفٹی اور ریزر وغیرہ سے بھی ان بالوں کو دور کرنا جائز ہے ۔ موئے زیرناف دور کرناسنت ہے، ہر ہفتہ میں نہانہ، بدن کوصاف ستھرا رکھنا اور موئے زیرناف دورکرنا مستحب ہے، اور بہتر جمعہ کا دن ہے، جبکہ پندرھویں روز بھی کرنا جائز ہے، البتہ چالیس روز سے زیاده رکھنے کی اجازت نہیں، بلکہ چالیس روزسے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع ہے ۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے حضرت انس بن مالک رضی الله تعالٰی عنہ راوی ہیں، وقت لنا رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم في قص الشارب و تقليم الأظفار ونتف الإبط و حلق العانة أن لا نترك أكثر من اربعين ليلة، یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیرِ بغل بال اکھاڑنے اور زیرِ ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑ رکھے: (صحیح مسلم، کتاب الطهارة باب خصال الفطرة، جلد,1,صفحہ,129,قدیمی کتب خانہ) درمختارمیں ہے وہ بال جو مرد و عورت کی شرمگاہ کے ارد گرد ہوتے ہیں، یونہی مقعد کے اردگرد کے بال صاف کرنا اَوْلیٰ ہے تاکہ پتھر کے ساتھ استنجاء کے وقت نجاست بالوں کے ساتھ نہ لگے: درمختار,جلد,3,صفحہ, 48 دارالکتب العلمیہ بیروت امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فر ماتے ہیں، کہ حلق و قصر و نتف و تنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا اور نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں، کہ مقصود اس موضع جگہ) کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل ہے: فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ600 رضا فاؤنڈیشن لاہور (7)صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: (موئے زیر ناف دور کرنا سنت ہے، ہر ہفتہ میں نہانا,بدن کو صاف ستھرا رکھنا اور موئے زیرِ ناف دور کرنا مستحب ہے، اور بہتر جمعہ کا دن ہے اور پندرھویں روز کرنا بھی جائز ہے، اور چالیس روز سے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع۔ موئے زیرِ ناف استرے سے مونڈنا چاہیے اور اس کو ناف کے نیچے سے شروع کرنا چاہئے اور اگر مونڈنے کی جگہ ہرتال، چونا یا اس زمانہ میں بال اڑانے کا صابن چلا ہے، اس سے دور کرے، یہ بھی جائز ہے، عورت کو یہ بال اکھیڑ ڈالنا سنت ہے: (بہار شریعت,حصہ 16 صفحہ 584,مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) وقارالفتاویٰ میں ہے: کہ ناف کے نیچے سے خصیتین اور عضوِ تناسل کے اردگرد کے بال صاف کرنا سنت ہے، اور دُبر(یعنی پاخانہ کے مقام کے بال صاف کرنا مستحب ہے: (وقار الفتاویٰ جلد2صفحہ541) واللہ و رسولہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...