Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1644
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.7K Views
اگر اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کا کیا طریقہ ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
اگر اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کا کیا طریقہ ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
اگر اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کا کیا طریقہ ہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ .. کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر کسی وجہ سے رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کا کیا طریقہ ہوگا؟ (سائل عبدالغفارضلع سرگودھا) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجـــــوابــــــــــــ”بعون الملک الوھّاب (اگر کسی وجہ سے رمضان المبارک کے آخری عشرے کا سنت اِعتکاف ٹوٹ جائے تو اب حکم شرع یہ ہے کہ صرف ایک دن کی قضاکرنی ہوگی، اگر ماہ رمضان شریف کے دن ابھی باقی ہیں تو ان میں بھی قضا ہو سکتی ہے وگرنہ بعد میں کسی دن کی قضاکر لیجئے اور اس میں روزہ بھی شرط ہوگا،مگریہ احتیاط رہے کہ بعض دن ایسے ہیں ان میں روزہ رکھنامنع ہے(جیسے(1)عیدالفطر(اور ذُوالحجہ کی10=11=12=13= تاریخ کوروزہ رکھنامکروہ تحریمی ہے، ان مذکورہ پانچ دنوں کے علاوہ کسی اور دن قضاکرے اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دن غروب آفتاب سے چند منٹ قبل بہ نیّت قضاء اعتکاف مسجد میں داخل ہو جائیے، اور اب جو دن آئے گا اس کے غروبِ آفتاب تک معتکف رہے اور اِس میں روزہ رکھنا شرط ہے: (صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت قبلہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، اعتکاف نفل اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں کہ وہیں ختم ہوگیا اور اعتکاف مسنون کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لیے بیٹھا تھا اسے توڑا تو جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا کرے پورے دس دن کی قضا واجب نہیں)اور منّت کا اعتکاف توڑا تو اگر کسی معین مہینے کی منّت تھی تو باقی دنوں کی قضا کرے ورنہ اگر عَلَی الْاتِّصال واجب ہوا تھا تو سرے سے اعتکاف کرے اور اگر عَلَی الْاتِّصال واجب نہ تھا تو باقی کا اعتکاف کرے: *(بہار شریعت حصہ5 صفحہ 1028)* (شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب فیضان رمضان میں تحریر فرماتے ہیں، رمضان المبارک کے آخری عشرے کا سنت اِعتکاف ٹوٹ گیا تو آپ کے ذمے صرف اُس ایک دن کی قضاہے جس دن اِعتکاف ٹوٹا ہے، اگر ماہِ رَمضان شریف کے دن باقی ہیں تو ان میں بھی قضا ہو سکتی ہے، ورنہ بعد میں کسی دن کر لیجئے، مگر عیدُالْفِطْر اور ذُوالحِجَّۃِ الْحَرام کی دسویں تا تیرھویں کے علاوہ کہ ان پانچ دنوں کے روزے مکروہِ تحریمی ہیں، قضا کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دن غروبِ آفتاب کے وقت/بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ چند منٹ قبل بہ نیّت قضا اعتکاف مسجد میں داخل ہو جا یئے اور اب جو دن آئے گا اُس کے غروبِ آفتاب تک معتکف رہئے۔ اِس میں روزہ شرط ہے: *(فیضان رمضان مرمم صفحہ نمبر 273)* *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* کتبہ..ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>اگر اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کا کیا طریقہ ہے؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ .. کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر کسی وجہ سے رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو اس کی قضا کا کیا طریقہ ہوگا؟ (سائل عبدالغفارضلع سرگودھا) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجـــــوابــــــــــــ"بعون الملک الوھّاب (اگر کسی وجہ سے رمضان المبارک کے آخری عشرے کا سنت اِعتکاف ٹوٹ جائے تو اب حکم شرع یہ ہے کہ صرف ایک دن کی قضاکرنی ہوگی، اگر ماہ رمضان شریف کے دن ابھی باقی ہیں تو ان میں بھی قضا ہو سکتی ہے وگرنہ بعد میں کسی دن کی قضاکر لیجئے اور اس میں روزہ بھی شرط ہوگا،مگریہ احتیاط رہے کہ بعض دن ایسے ہیں ان میں روزہ رکھنامنع ہے(جیسے(1)عیدالفطر(اور ذُوالحجہ کی10=11=12=13= تاریخ کوروزہ رکھنامکروہ تحریمی ہے، ان مذکورہ پانچ دنوں کے علاوہ کسی اور دن قضاکرے اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دن غروب آفتاب سے چند منٹ قبل بہ نیّت قضاء اعتکاف مسجد میں داخل ہو جائیے، اور اب جو دن آئے گا اس کے غروبِ آفتاب تک معتکف رہے اور اِس میں روزہ رکھنا شرط ہے: (صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت قبلہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، اعتکاف نفل اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں کہ وہیں ختم ہوگیا اور اعتکاف مسنون کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لیے بیٹھا تھا اسے توڑا تو جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا کرے پورے دس دن کی قضا واجب نہیں)اور منّت کا اعتکاف توڑا تو اگر کسی معین مہینے کی منّت تھی تو باقی دنوں کی قضا کرے ورنہ اگر عَلَی الْاتِّصال واجب ہوا تھا تو سرے سے اعتکاف کرے اور اگر عَلَی الْاتِّصال واجب نہ تھا تو باقی کا اعتکاف کرے: *(بہار شریعت حصہ5 صفحہ 1028)* (شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب فیضان رمضان میں تحریر فرماتے ہیں، رمضان المبارک کے آخری عشرے کا سنت اِعتکاف ٹوٹ گیا تو آپ کے ذمے صرف اُس ایک دن کی قضاہے جس دن اِعتکاف ٹوٹا ہے، اگر ماہِ رَمضان شریف کے دن باقی ہیں تو ان میں بھی قضا ہو سکتی ہے، ورنہ بعد میں کسی دن کر لیجئے، مگر عیدُالْفِطْر اور ذُوالحِجَّۃِ الْحَرام کی دسویں تا تیرھویں کے علاوہ کہ ان پانچ دنوں کے روزے مکروہِ تحریمی ہیں، قضا کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دن غروبِ آفتاب کے وقت/بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ چند منٹ قبل بہ نیّت قضا اعتکاف مسجد میں داخل ہو جا یئے اور اب جو دن آئے گا اُس کے غروبِ آفتاب تک معتکف رہئے۔ اِس میں روزہ شرط ہے: *(فیضان رمضان مرمم صفحہ نمبر 273)* *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* کتبہ..ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...