01
The questionSawaal
اصل سوالخواتین کے لیے نماز تراویح کا حکم اور طریقہ | اگر حافظہ نہ ہو تو کس طرح پڑھے؟
02
The responseAl-Jawab
خواتین کے لیے نماز تراویح کا حکم اور طریقہ
سوال : کیا عورتوں کے لئے بھی نماز تراویح ضروری ہے؟ اگر حافظہ نہ ہو تو کس طرح پڑھے؟ اور کیا جماعت سے گھر پر پڑھیں گی؟ جواب ضرور دیں؟ سائلہ : کنیز فاطمہ نیااسلام پورہ مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب واضح رہے کہ ۲۰ رکعت تراویح مرد و عورت دونوں کے لیے سنت موکدہ ہے.. لہٰذا بلاعذر تراویح چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ خواتین کے لیے نماز تراویح کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ کہ خواتین بغیر جماعت کے علیحدہ علیحدہ بیس رکعت نماز، دو دو رکعت کرکے اد اکریں اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیں گی۔ نماز تراویح کھڑے ہو کر ادا کرنی چاہیے البتہ کسی عذر کی بنا پر بیٹھ کر بھی پڑھ سکتی ہیں اور بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھنے سے نماز تو ہو جائے گی مگر اس کا ثواب کم ہو جائے گا۔ حافظہ نہ ہونے کی صورت میں نماز تراویح میں مختصر سورتیں پڑھ کر بھی ادا کی جا سکتی ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ خواتین کو نماز تراویح گھر میں پڑھنی چاہئے،گھر میں بھی خواتین کی جماعت مکروہ ہے لہذا اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ خواتین کو اکیلے نماز پڑھنی چاہیے۔ اگر کوئی حافظہ نہیں ہے تو جو بھی سورتیں یاد ہیں وہ نماز تراویح میں پڑھے ،اسی طرح اولیٰ یہ ہے کہ گھر میں تراویح ادا کر کے کسی تفسیر کا مطالعہ کرلے ۔البتہ دورۂ ترجمہ قرآن کے اجتماعی پروگرام میں پردے اور دین کی حدود و قیود اور شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے شرکت کرنا بھی جائز ہے ۔ 1 ۔( ويكره حضورهن الجماعة ) ولو لجمعة وعيد ووعظ ( مطلقا ) ولو عجوزا ليلا ( علی المذهب ) المفتی به لفساد الزمان(الدر المختارمع رد المحتار،کتاب الصلوٰۃ،باب الامامۃ ) مزید تسلی بخش وضاحتیں مع حوالہ علامہ برہان الدین علی بن ابوبکر مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “و يکره للنساء أن يصلين وحدهن الجماعة” یعنی اور عورتوں کے لئے (مردوں کے بغیر) اکیلے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (الهداية، جلد 1 صفحہ 125، مکتبہ رحمانیہ لاہور) علامہ ابوبکر بن علی حداد رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “(یکرہ للنساء ان یصلین وحدھن جماعۃ ) یعنی بغیر رجال، و سواء فی ذلک الفرائض و النوافل و التراویح‘‘ یعنی اکیلے عورتوں کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے یعنی مردوں کے بغیر اور یہ حکم فرائض، نوافل اور تراویح سب میں برابر ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 162، مکتبہ رحمانیہ لاہور) علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “(یکرہ للنساء ان یصلین جماعۃ لانھن فی ذلک لا یخلون عن ارتکاب محرم ) ای مکروہ لان امامتھن اما ان تتقدم علی القوم او تقف وسطھن، و فی الاول زیادۃ الکشف و ھی مکروھۃ، و فی الثانی ترک الامام مقامہ و ھو مکروہ و الجماعۃ سنۃ و ترک ما ھو سنۃ اولی من ارتکاب مکروہ‘‘ یعنی اکیلی عورتوں کے لئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے اس لئے کہ اس صورت میں عورتیں حرام (مکروہِ تحریمی) کے ارتکاب سے خالی نہ ہوں گی کیونکہ ان کی امام تمام عورتوں کے آگے ہوگی یا ان کے صف کے درمیان میں کھڑی ہو گی، پہلی میں تو بے پردگی کی زیادتی ہے اور یہ مکروہ ہے اور دوسری صورت میں امام کا اپنی جگہ کو چھوڑنا ہے اور یہ بھی مکروہ ہے اور جماعت سنت ہے اور مکروہ کا ارتکاب کرنے کے بجائے سنت کو چھوڑ دینا اولیٰ (بہتر) ہے۔ (فتح القدیر، جلد 1، صفحہ 362، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) فتاوی عالمگیری میں ہے : “و یکرہ امامۃ المراۃ للنساء فی الصلوۃ کلھا من الفرائض و النوافل” یعنی اور عورت کا دیگر عورتوں کی امامت کروانا فرائض اور نوافل تمام نمازوں میں مکروہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 75، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) علامہ محمد بن علی المعروف علاءالدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ”یکرہ تحریما جماعة النساء و لو فی التراویح فی غیر صلوة جنازة،، یعنی نمازِ جنازہ کے علاوہ عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے اگرچہ نماز تراویح ہو۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد 2، صفحہ 365، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) اس کے تحت خاتم المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ”افاد ان الکرھة فی کل ما تشرع فیہ جماعة الرجال فرضا او نفلا” یہ عبارت اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ہر وہ جماعت جو مردوں کے لئے مشروع ہے وہ عورتوں کے لئے مکروہ ہے، خواہ نماز فرض ہو یا نفل۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد 2، صفحہ 365، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) امام فخر الدین عثمان بن علی زیلعی حنفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ”اما قیام الامام وسط الصف و ھو مکروہ او تقدم الامام و ھو ایضاً مکروہ فی حقھن“ یعنی (عورت) امام کا صف کے درمیان کھڑا ہونا اور یہ مکروہ ہے یا (عورت) امام آگے کھڑا ہونا اور یہ بھی عورتوں کے حق میں مکروہ ہے۔ (تبیین الحقائق، باب الامامة، جلد 1، صفحہ 135، مطبوعہ ملتان) علامہ شیخ احمد بن محمد اسماعیل طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “(و کرہ جماعۃ النساء) تحریم للزوم احد المحظورین، قیام الامام فی الصف الاول و ھو مکروہ، او تقدم الامام و ھو ایضاً مکروہ فی حقھن‘‘ یعنی عورتوں کی جماعت مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ اس سے دو ممنو ع چیزوں میں سے ایک کے لازم ہونے کی وجہ سے، ایک امام (عورت) کا پہلی صف میں کھڑا ہونا اور یہ مکروہ ہے یا امام (عورت) کا آگے (امام کی جگہ پر) کھڑا ہونا اور یہ بھی عورتوں کے حق میں مکروہ ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد 1، صفحہ 411، المکتبۃ الغوثیہ) صدر الشریعة مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ”عورت کو مطلقاً امام ہونا مکروہ تحریمی ہے، فرائض ہوں یا نوافل۔“ (بہارِشریعت، امامت کا بیان، جلد 1، حصہ سوم، صفحہ 569، مکتبۃ المدینہ) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.