Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1658 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.5K Views

روزوں کی نیت کا وقت | روزوں کی نیت کب سے کب تک کر سکتے ہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

روزوں کی نیت کا وقت | روزوں کی نیت کب سے کب تک کر سکتے ہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

روزوں کی نیت کا وقت | روزوں کی نیت کب سے کب تک کر سکتے ہیں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔ اگر کسی نے نفل روزے کی رات میں نیت کی تھی کی اور صبح کو اُسکی آنکھ نہیں کھلی اور اُسنے صبح فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی اور آنکھ دوپہر 1 بجے کھلی تو کیا روزہ ہو جائیگا اور کیا رات کی نیت کافی ہے؟ سائل : تابش چشتی الجواب رات میں روزے کی نیت کی اور سحری یا فجر کے وقت اس کی آنکھ نہ کھلی، بلکہ دوپہر کے بعد آنکھ کھلی تو رات کی نیت سے روزہ صحیح ہوجائے گا۔اب یہ روزہ چاہے نفل ہو یا فرض یا واجب۔ کیوں کہ غروبِ آفتاب کے بعد رات کے وقت کل آنے والے دن کے روزہ کی نیت صحیح ہے۔ یوں ہی صبح صادق کے وقت آج کے دن کے روزہ کی نیت صحیح ہے۔ ہاں! اگر رات میں روزے کی نیت کی اور پھر روزہ رکھنے کا ارادہ ختم کردیا تو اب وہ پہلی نیت کارآمد نہ ہوگی جب تک دوبارہ روزہ رکھنے کی نیت یعنی پختہ ارادہ نہ کرے۔ اور تین قسم کے روزے ایسے ہیں کہ اگر ان کی نیت ضحوہ کبری یعنی نصف النہار شرعی سے پہلے کرلے بشرطے کہ طلوع فجر کے بعد کھانا پینا یا جماع نہ ہوا ہو تو وہ روزے صحیح ہوجاتے ہیں۔ وہ تین روزے یہ ہیں(١) فرضِ معین، جیسے رمضان المبارک کا ادا روزہ (٢) نذرِ معین ، مثلا اِس سال کے ستائیس رجب کی نذر کا روزہ اور (٣) نفل روزے۔ اِن تینوں روزوں کے علاوہ دیگر روزے مثلا کفاروں کے روزے، قضا کے روزے، نذر غیر معین کے روزے ان سب میں ضروری ہے کہ یا تو عین صبحِ صادق کے وقت نیت ہو یا غروبِ آفتاب کے بعد رات کے کسی حصہ میں نیت ہو۔صبحِ صادق کے بعد کی نیت ان روزوں میں معتبر نہیں۔ در مختار میں ہے: “(فَيَصِحُّ) أَدَاءُ (صَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ وَالنَّفَلِ بِنِيَّةٍ مِنْ اللَّيْلِ) فَلَا تَصِحُّ قَبْلَ الْغُرُوبِ وَلَا عِنْدَهُ (إلَى الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى لَا) بَعْدَهَا وَلَا (عِنْدَهَا) اعْتِبَارًا لِأَكْثَرِ الْيَوْمِ۔۔۔(وَالشَّرْطُ لِلْبَاقِي) مِنْ الصِّيَامِ قِرَانُ النِّيَّةِ لِلْفَجْرِ وَلَوْ حُكْمًا وَهُوَ (تَبْيِيتُ النِّيَّةِ) لِلضَّرُورَةِ۔”انتہی ملتقطا۔ (در مختار، کتاب الصوم) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ یکم رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٣/ اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>روزوں کی نیت کا وقت | روزوں کی نیت کب سے کب تک کر سکتے ہیں</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔ اگر کسی نے نفل روزے کی رات میں نیت کی تھی کی اور صبح کو اُسکی آنکھ نہیں کھلی اور اُسنے صبح فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی اور آنکھ دوپہر 1 بجے کھلی تو کیا روزہ ہو جائیگا اور کیا رات کی نیت کافی ہے؟ سائل : تابش چشتی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> رات میں روزے کی نیت کی اور سحری یا فجر کے وقت اس کی آنکھ نہ کھلی، بلکہ دوپہر کے بعد آنکھ کھلی تو رات کی نیت سے روزہ صحیح ہوجائے گا۔اب یہ روزہ چاہے نفل ہو یا فرض یا واجب۔ کیوں کہ غروبِ آفتاب کے بعد رات کے وقت کل آنے والے دن کے روزہ کی نیت صحیح ہے۔ یوں ہی صبح صادق کے وقت آج کے دن کے روزہ کی نیت صحیح ہے۔ ہاں! اگر رات میں روزے کی نیت کی اور پھر روزہ رکھنے کا ارادہ ختم کردیا تو اب وہ پہلی نیت کارآمد نہ ہوگی جب تک دوبارہ روزہ رکھنے کی نیت یعنی پختہ ارادہ نہ کرے۔ اور تین قسم کے روزے ایسے ہیں کہ اگر ان کی نیت ضحوہ کبری یعنی نصف النہار شرعی سے پہلے کرلے بشرطے کہ طلوع فجر کے بعد کھانا پینا یا جماع نہ ہوا ہو تو وہ روزے صحیح ہوجاتے ہیں۔ وہ تین روزے یہ ہیں(١) فرضِ معین، جیسے رمضان المبارک کا ادا روزہ (٢) نذرِ معین ، مثلا اِس سال کے ستائیس رجب کی نذر کا روزہ اور (٣) نفل روزے۔ اِن تینوں روزوں کے علاوہ دیگر روزے مثلا کفاروں کے روزے، قضا کے روزے، نذر غیر معین کے روزے ان سب میں ضروری ہے کہ یا تو عین صبحِ صادق کے وقت نیت ہو یا غروبِ آفتاب کے بعد رات کے کسی حصہ میں نیت ہو۔صبحِ صادق کے بعد کی نیت ان روزوں میں معتبر نہیں۔ در مختار میں ہے: "(فَيَصِحُّ) أَدَاءُ (صَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ وَالنَّفَلِ بِنِيَّةٍ مِنْ اللَّيْلِ) فَلَا تَصِحُّ قَبْلَ الْغُرُوبِ وَلَا عِنْدَهُ (إلَى الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى لَا) بَعْدَهَا وَلَا (عِنْدَهَا) اعْتِبَارًا لِأَكْثَرِ الْيَوْمِ۔۔۔(وَالشَّرْطُ لِلْبَاقِي) مِنْ الصِّيَامِ قِرَانُ النِّيَّةِ لِلْفَجْرِ وَلَوْ حُكْمًا وَهُوَ (تَبْيِيتُ النِّيَّةِ) لِلضَّرُورَةِ۔"انتہی ملتقطا۔ (در مختار، کتاب الصوم) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ یکم رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٣/ اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...