01
The questionSawaal
اصل سوالمتولی مسجد نے اگر اپنی ذاتی رقم مسجد کے اخراجات میں صرف کردیا تو وہ اسے واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟
02
The responseAl-Jawab
متولی مسجد نے اگر اپنی ذاتی رقم مسجد کے اخراجات میں صرف کردیا تو وہ اسے واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک مسجد کا متولی ہے اس مسجد کے اخراجات کے لیے شہر میں کچھ دکان وقف ہے جن کی آمدنی سے مسجد کا خرچ پورا ہوتا ہے سال گزشتہ زید نے تین مہینہ تک مسجد کی آمدنی نہ آنے کے سبب اپنی ذاتی رقم مسجد کے اخراجات میں خرچ کردی۔ اس سال مسجد کی ایک بڑی رقم موجودہ متولی عمر کے پاس آئی زید مسجد میں گزشتہ سال خرچ کی گئی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے اور عمر دینے سے انکار کر رہا ہے ۔ تو ایسی صورت میں زید کا سال گزشتہ مسجد میں خرچ کی گئی اپنی رقم کا عمر سے مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟ کیا زید کی وہ رقم جو اس نے سال گزشتہ مسجد کے لیے خرچ کیا ہے عمر پر اسے واپس دینا واجب ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی ۔محمد نوشاد علیمی اشرفی ناسک مہاراشٹرا 9028979216 الجواب: متولی زید نے اگر مسجد کے لیے اخراجات کی رقم موجود ہوتے ہوئے اپنی ذاتی رقم مسجد کے اخراجات میں خرچ کی اور خرچ کرنے سے پہلے اس بات پر گواہ بنا لیے کہ میں اپنی یہ ذاتی رقم مسجد کے اخراجات میں اس طور پر خرچ کر رہا ہوں کہ جب مسجد پر موقوفہ دکانوں سے کرایہ آئے گا تو واپس لے لوں گا اور یہ خرچ کرنا مرمت یا مصالحِ مسجد (امام و موذن کی تنخواہ وغیرہ) میں ہو تو اس کو اپنی خرچ کی ہوئی رقم کے مطالبہ کا حق ہے۔لیکن اگر اس نے بغیر گواہ بنائے یا مرمت یا مصالحِ مسجد کے علاوہ دیگر مصارف میں خرچ کیا تو وہ بطور تطوع یعنی رضا کارانہ طور پر اپنی طرف سے خرچ کرنے والا مانا جائے گا اور اس کو اپنی ذاتی رقم کی واپسی کے مطالبہ کا حق نہ ہوگا۔ اور اگر مسجد کے اخراجات کی رقم موجود نہ ہونے کی صورت میں زید نے اپنی ذاتی رقم خرچ کی تو اگر یہ خرچ کرنا قاضی شرع کی اجازت سے ہو اور مسجد کے کسی جائز کرایہ سے اخراجات نہ پورے ہوسکتے ہوں تو رقم واپس پانے کا حق دار ہوگا اور اگر قاضی شرع کی اجازت کے بغیر ہو یا مسجد کے کرایہ کی کوئی چیز کرایہ پر اٹھاکر اخراجات پورے کیے جاسکتے ہوں تو واپس پانے کا حق دار نہیں۔ ہاں! قاضی کے دور دراز ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں خود بھی قرض دے کر یا کسی سے قرض لے کر اخراجات پورے کرنے کی صورت میں رقم واپس پانے کا حق دار ہوگا بشرطیکہ کرایہ کی صورت میسر نہ ہو۔ در مختار میں ہے: ” لاتَجُوزُ الِاسْتِدَانَةُ عَلَى الْوَقْفِ إلَّا إذَا اُحْتِيجَ إلَيْهَا لِمَصْلَحَةِ الْوَقْفِ كَتَعْمِيرٍ وَشِرَاءِ بَذْرٍ فَيَجُوزُ بِشَرْطَيْنِ، الْأَوَّلُ: إذْنُ الْقَاضِي فَلَوْ بِبُعْدٍ مِنْهُ يَسْتَدِينُ بِنَفْسِهِ ۔الثَّانِي: أَنْ لَا تَتَيَسَّرَ إجَارَةُ الْعَيْنِ وَالصَّرْفُ مِنْ أُجْرَتِهَا۔ وَالِاسْتِدَانَةُ الْقَرْضُ وَالشِّرَاءُ نَسِيئَةً”۔ (در مختار، کتاب الوقف) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: (قَوْلُهُ: لَا تَجُوزُ الِاسْتِدَانَةُ عَلَى الْوَقْفِ) أَيْ إنْ لَمْ تَكُنْ بِأَمْرِ الْوَاقِفِ، وَهَذَا بِخِلَافِ الْوَصِيِّ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ لِلْيَتِيمِ شَيْئًا بِنَسِيئَةٍ بِلَا ضَرُورَةٍ لِأَنَّ الدَّيْنَ لَا يَثْبُتُ ابْتِدَاءً إلَّا فِي الذِّمَّةِ وَالْيَتِيمُ لَهُ ذِمَّةٌ صَحِيحَةٌ، وَهُوَ مَعْلُومٌ فَتُتَصَوَّرُ مُطَالَبَتُهُ أَمَّا الْوَقْفُ فَلَا ذِمَّةَ لَهُ وَالْفُقَرَاءُ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُمْ ذِمَّةٌ لَكِنْ لِكَثْرَتِهِمْ لَا تُتَصَوَّرُ مُطَالَبَتُهُمْ، فَلَا يَثْبُتُ إلَّا عَلَى الْقَيِّمِ، وَمَا وَجَبَ عَلَيْهِ لَا يَمْلِكُ قَضَاءً مِنْ غَلَّةٍ لِلْفُقَرَاءِ ذَكَرَهُ هِلَالٌ، وَهَذَا هُوَ الْقِيَاسُ لَكِنَّهُ تُرِكَ عِنْدَ الضَّرُورَةِ كَمَا ذَكَرَهُ أَبُو اللَّيْثِ وَهُوَ الْمُخْتَارُ أَنَّهُ إذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ الِاسْتِدَانَةِ بُدٌّ تَجُوزُ بِأَمْرِ الْقَاضِي إنْ لَمْ يَكُنْ بَعِيدًا عَنْهُ لِأَنَّ وِلَايَتَهُ أَعَمُّ فِي مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ وَقِيلَ تَجُوزُ مُطْلَقًا لِلْعِمَارَةِ وَالْمُعْتَمَدُ فِي الْمَذْهَبِ الْأَوَّلُ. أَمَّا مَالَهُ مِنْهُ بُدٌّ كَالصَّرْفِ عَلَى الْمُسْتَحِقِّينَ فَلَا كَمَا فِي الْقُنْيَةِ إلَّا الْإِمَامَ وَالْخَطِيبَ، وَالْمُؤَذِّنَ فِيمَا يَظْهَرُ لِقَوْلِهِ فِي جَامِعِ الْفُصُولَيْنِ لِضَرُورَةِ مَصَالِحِ الْمَسْجِدِ اهـ وَإِلَّا لِلْحُصْرِ وَالزَّيْتِ بِنَاءً عَلَى الْقَوْلِ بِأَنَّهُمَا مِنْ الْمَصَالِحِ وَهُوَ الرَّاجِحُ هَذَا خُلَاصَةُ مَا أَطَالَ بِهِ فِي الْبَحْرِ (قَوْلُهُ: الْأَوَّلُ إذْنُ الْقَاضِي) فَلَوْ ادَّعَى الْإِذْنَ، فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ إلَّا بِبَيِّنَةٍ وَإِنْ كَانَ الْمُتَوَلِّي مَقْبُولَ الْقَوْلِ، لِمَا أَنَّهُ يُرِيدُ الرُّجُوعَ فِي الْغَلَّةِ وَهُوَ إنَّمَا يُقْبَلُ قَوْلُهُ فِيمَا فِي يَدِهِ، وَعَلَى هَذَا فَإِذَا كَانَ الْوَاقِعُ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَأْذِنْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ الْأَخْذُ مِنْ الْغَلَّةِ لِأَنَّهُ بِلَا إذْنٍ مُتَبَرِّعٌ بَحْرٌ (قَوْلُهُ: الثَّانِي أَنْ لَا تَتَيَسَّرَ إجَارَةُ الْعَيْنِ إلَخْ) أَطْلَقَ الْإِجَارَةَ، فَشَمِلَ الطَّوِيلَةَ مِنْهَا، وَلَوْ بِعُقُودٍ فَلَوْ وَجَدَ ذَلِكَ لَا يَسْتَدِينُ أَفَادَهُ الْبِيرِيُّ، وَمَا سَلَف مِنْ أَنَّ الْمُفْتَى بِهِ بُطْلَانُ الْإِجَارَةِ الطَّوِيلَةِ فَذَاكَ عِنْدَ عَدَمِ الضَّرُورَةِ، كَمَا حَرَّرْنَاهُ سَابِقًا فَافْهَمْ (قَوْلُهُ وَالِاسْتِدَانَةُ الْقَرْضُ وَالشِّرَاءُ نَسِيئَةً) صَوَابُهُ الِاسْتِقْرَاضُ. اهـ. ح وَتَفْسِيرُ الِاسْتِدَانَةِ كَمَا فِي الْخَانِيَّةِ أَنْ لَا يَكُونَ لِلْوَاقِفِ غَلَّةٌ فَيَحْتَاجُ إلَى الْقَرْضِ وَالِاسْتِدَانَةِ، أَمَّا إذَا كَانَ لِلْوَقْفِ غَلَّةٌ فَأَنْفَقَ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ لِإِصْلَاحِ الْوَقْفِ كَانَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ بِذَلِكَ فِي غَلَّةِ الْوَقْفِ اهـ وَمُفَادُهُ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْقَرْضِ الْإِقْرَاضُ مِنْ مَالِهِ لَا الِاسْتِقْرَاضُ مِنْ مَالِ غَيْرِهِ لِدُخُولِهِ فِي الِاسْتِدَانَةِ وَفِي فَتَاوَى الْحَانُوتِيِّ الَّذِي وَقَفْتُ عَلَيْهِ فِي كَلَامِ أَصْحَابِنَا أَنَّ النَّاظِرَ إذَا أَنْفَقَ مِنْ مَالِ نَفْسِهِ عَلَى عِمَارَةِ الْوَقْفِ، لِيَرْجِعَ فِي غَلَّتِهِ لَهُ الرُّجُوعُ دِيَانَةً، لَكِنْ لَوْ ادَّعَى ذَلِكَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ، بَلْ لَا بُدَّ أَنْ يُشْهِدَ أَنَّهُ أَنْفَقَ لِيَرْجِعَ كَمَا فِي الرَّابِعِ وَالثَّلَاثِينَ مِنْ جَامِعِ الْفُصُولَيْنِ، وَهَذَا يَقْتَضِي أَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ مِنْ الِاسْتِدَانَةِ عَلَى الْوَقْفِ وَإِلَّا لَمَا جَازَ إلَّا بِإِذْنِ الْقَاضِي وَلَمْ يُكَلَّفْ الْإِشْهَادَ. اهـ. قُلْت: لَكِنْ يَنْبَغِي تَقْيِيدُ ذَلِكَ بِمَا إذَا كَانَ لِلْوَقْفِ غَلَّةٌ وَإِلَّا فَلَا بُدَّ مِنْ إذْنِ الْقَاضِي كَمَا أَفَادَهُ مَا ذَكَرْنَاهُ عَنْ الْخَانِيَّةِ، وَمِثْلُهُ قَوْلُهُ فِي الْخَانِيَّةِ أَيْضًا لَا يَمْلِكُ الِاسْتِدَانَةَ إلَّا بِأَمْرِ الْقَاضِي۔” (رد المحتار، کتاب الوقف۔ مطلب فی إنْفَاقِ النَّاظِرِ مِنْ مَالِهِ عَلَى الْعِمَارَةِ) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ ٢۵/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ //٢٩/مارچ ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.