Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے

آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے
Reference 1664 September 18, 2025 11,105 views
اصل سوالآدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے

آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ بعدِسلام عرض یہ ہیکہ میں نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل و کرم سے ایک کتاب کی دوکان کھولی ہے جس میں کچھ آنلائن کام بھی کررہا ہوں جیسے آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنا اور پیسہ جمع کرنا اور (منی ٹرانسفر) پیسہ بھیجنا اور ریلوے ٹکٹ نکالنا ایسے ہی بہت سے کام ہیں- تو میرا سوال یہ ہیکہ جیسا کہ گاؤں یا شہر وغیرہ میں عام طور پر دوکان یا چھوٹے بینک سے پیسہ نکالنے پر ہر ایک ہزار پر 10روپئے یا کچھ ایکسٹرا چارج یا کمیشن لیا جاتا ہے ایسے اور بھی آنلائن کاموں میں جو بھی ایکسٹرا کمیشن یا چارج لیا جاتا ہے کیا زید کا یہ ہر ایک ہزار پر ایکسٹرا کمیشن یا چارج لینا جائز و درست ہےـ آپ مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں بڑی نوازش ہوگی- المستفتی:ابو اسامہ قادری مٹیسر نانکار سدھارتھ نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ وعليكم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔صورت مذکورہ میں آدھارکارڈ یا ایٹیم کارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بطور اجرت لیاجاتا ہے جس طرح آج کل کچھ پرائیوٹ منی بینک اس طرح کا کام کرتی ہیں اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگوں سے آدھارکارڈ کے ذریعہ ان کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کر اپنے یا کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں ڈالتے ہیں جس پر کچھ خرچ بھی آتا ہے پھر وہ پیسے اپنے پاس سے گراہک کو ادا کردیتے ہیں جس پر وہ لوگوں سے متعینہ فیس وصول کرتے ہیں اس لحاظ سے ان کی حیثیت اجیر مشترک کی ہوتی ہے جو ایک وقت میں مختلف لوگوں کے کام کرتے ہیں اور اپنے کام وخرچ کے لحاظ سے مزدوری پاتے ہیں جیسے دھوبی، درزی وغیرہ. ہدایہ میں ہے”الاجارۃ قد تکون عقدا علی العمل کاستئجار القصار والخیاط ولا بد أن یکون العمل معلوما و ذلك فی اجیر المشترك” اھ(ج٣ص٢٧٨،کتاب الاجارات) بنایہ میں ہے”انما الاجارۃ علی الأعمال فکاستئجار الاسکاف والقصار والصباغ وسائر من یشترط علیہ العمل فی سائر الأعمال من حمل الأشياء من موضع ونحوہ”اھ(ج١٠ص٢٣٠ کتاب الاجارات، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) اسی طرح آن لائن دیگر کاموں پر بھی جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بھی بطور اجرت ہی لیا جاتا ہے اور دکاندار اپنے کام کی اجرت ہی لیتا ہے. لہذا آدھارکارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے یا دیگر آن لائن کاموں پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ جائز ہے کہ یہ حقیقت میں اجارہ ہے اور وہ ایک اجیر مشترک کی دکان ہے جو بغرض تحصل اجرت کھولی گئی ہے۔ وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی ٢٩/شعبان المعظم ١٤٤٣ھ

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.