Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1667
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.4K Views
کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟
بخدمت اقدس حضور مفتی صاحب قبلہ السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا حاملہ عورت کو رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔ المستفتی فریاد خان نظامی خطیب وامام انوار رضا مسجد بڑی دمن (یوٹی) الجواب بہت ساری حاملہ عورتیں بفضلہ تعالی روزہ رکھتی ہیں اور ان کو کوئی ضرر نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی حاملہ عورت کو یہ ظن غالب ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی جان یا اس کے پیٹ میں موجود بچّے کی جان کو خطرہ ہے تو اس کو روزہ رمضان نہ رکھ کر دوسرے دنوں میں قضا کی اجازت ہے۔اور اگر یہ خوف نہ ہو تو اس کو رمضان شریف کا روزہ ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ، وَلَدِهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ. (فتاوی عالم گیری، کتاب الصوم ج١ ص ٢٠٧) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے، تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دودھ پلانے والی بچہ کی ماں ہو یا دائی اگرچہ رمضان میں دودھ پلانے کی نوکری کی ہو۔” (بہار شریعت ح ۵ ص ١٠٠٩) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ۵/اپریل ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟</h2> بخدمت اقدس حضور مفتی صاحب قبلہ السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا حاملہ عورت کو رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔ المستفتی فریاد خان نظامی خطیب وامام انوار رضا مسجد بڑی دمن (یوٹی) <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> بہت ساری حاملہ عورتیں بفضلہ تعالی روزہ رکھتی ہیں اور ان کو کوئی ضرر نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی حاملہ عورت کو یہ ظن غالب ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی جان یا اس کے پیٹ میں موجود بچّے کی جان کو خطرہ ہے تو اس کو روزہ رمضان نہ رکھ کر دوسرے دنوں میں قضا کی اجازت ہے۔اور اگر یہ خوف نہ ہو تو اس کو رمضان شریف کا روزہ ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: "الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ، وَلَدِهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ. (فتاوی عالم گیری، کتاب الصوم ج١ ص ٢٠٧) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے، تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دودھ پلانے والی بچہ کی ماں ہو یا دائی اگرچہ رمضان میں دودھ پلانے کی نوکری کی ہو۔" (بہار شریعت ح ۵ ص ١٠٠٩) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ۵/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...