Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1670 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.8K Views

عارضی مسجد کا سامان دوسری مسجد میں وقف کرنا کیسا ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عارضی مسجد کا سامان دوسری مسجد میں وقف کرنا کیسا ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عارضی مسجد کا سامان دوسری مسجد میں وقف کرنا کیسا ہے

کیا فرماتے ہین علماء دین مسلہ ذیل مین کہ کسی جگہ کچُہ لوگون نے ایک شخص کے زمين مین مسجد عارضی قایم کی بعد مین اس شخص نے مسجد کو زمین دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے اس مسجد کو بند کردیاگیا تو کیا اس کےسامان اگر وہ لوگ دوسری جگہ وقف کردین تو کیا ایسا کرنا جایز ہے یا ناجایز قران وحدیث کے روشنی مین جواب عنایت فرمائیں ۔ الجواب بعون الملک الوھاب جس شخص کی زمین پر مسجد قائم کی گئی تھی اگر اس نے مسجد بنانے کے لیے زمین وقف کی تھی مثلا کہہ دیا تھا کہ میں نے اس زمین کو مسجد کردیا یا اس میں ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی تو اب اس کا زمین دینے سے انکار کرنا لغو ہے،وہ جگہ مسجد ہوگئی اور بدستور مسجد ہی رہے گی،اس کا سامان دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں. در مختار مع ردالمحتار میں ہے : ولایجوز نقلُه ونقل ماله إلی مسجد آخر، وهو الفتوی، حاوي القدسي. وأکثر المشائخ علیه، مجتبی، وهو الأوجه”. (الدر المختار مع رد المحتار: ۶/۴۲۹، کتاب الوقف) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : مسجد کا سامان مدرسہ یا کسی اور جگہ لگانا جائز نہیں، یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے”۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ ٤٣٨میں ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت٢/ ١٤٤،باب فی المسجد،شبیر برادرز، لاہور) لیکن اگر شخص مذکور نے زمین کو مسجد کے لیے وقف نہیں کیا تھا تو وہ جگہ شرعا مسجد نہیں، لہٰذا اس کے سامان کو دوسری مسجد میں سامان دینے والوں کی اجازت سے دیدینا جائز ہے.کیوں کہ جب مسجد وقف نہیں تو پھر اس مسجد پر کسی چیز کا وقف بھی صحیح نہیں ہے اس لیے وہ سب سامان دینے والوں کی ملکیت پر باقی ہیں اور ان کو دوسری کسی مسجد میں دینے کا ان کو اختیار ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٤ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٦ اپریل ٢٠٢٢ الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2>عارضی مسجد کا سامان دوسری مسجد میں وقف کرنا کیسا ہے</h2> کیا فرماتے ہین علماء دین مسلہ ذیل مین کہ کسی جگہ کچُہ لوگون نے ایک شخص کے زمين مین مسجد عارضی قایم کی بعد مین اس شخص نے مسجد کو زمین دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے اس مسجد کو بند کردیاگیا تو کیا اس کےسامان اگر وہ لوگ دوسری جگہ وقف کردین تو کیا ایسا کرنا جایز ہے یا ناجایز قران وحدیث کے روشنی مین جواب عنایت فرمائیں ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> جس شخص کی زمین پر مسجد قائم کی گئی تھی اگر اس نے مسجد بنانے کے لیے زمین وقف کی تھی مثلا کہہ دیا تھا کہ میں نے اس زمین کو مسجد کردیا یا اس میں ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی تو اب اس کا زمین دینے سے انکار کرنا لغو ہے،وہ جگہ مسجد ہوگئی اور بدستور مسجد ہی رہے گی،اس کا سامان دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں. در مختار مع ردالمحتار میں ہے : ولایجوز نقلُه ونقل ماله إلی مسجد آخر، وهو الفتوی، حاوي القدسي. وأکثر المشائخ علیه، مجتبی، وهو الأوجه". (الدر المختار مع رد المحتار: ۶/۴۲۹، کتاب الوقف) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : مسجد کا سامان مدرسہ یا کسی اور جگہ لگانا جائز نہیں، یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے"۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ ٤٣٨میں ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت٢/ ١٤٤،باب فی المسجد،شبیر برادرز، لاہور) لیکن اگر شخص مذکور نے زمین کو مسجد کے لیے وقف نہیں کیا تھا تو وہ جگہ شرعا مسجد نہیں، لہٰذا اس کے سامان کو دوسری مسجد میں سامان دینے والوں کی اجازت سے دیدینا جائز ہے.کیوں کہ جب مسجد وقف نہیں تو پھر اس مسجد پر کسی چیز کا وقف بھی صحیح نہیں ہے اس لیے وہ سب سامان دینے والوں کی ملکیت پر باقی ہیں اور ان کو دوسری کسی مسجد میں دینے کا ان کو اختیار ہے۔ واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٤ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٦ اپریل ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...