01
The questionSawaal
اصل سوالروزے کی حالت میں حیض آجائے تو کیا حکم ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
روزے کی حالت میں حیض آجائے تو کیا حکم ہے ؟
سوال : حالتِ روزہ میں عورت کو دن میں کسی بھی وقت یعنی روزہ افطار سے پہلے حیض آجائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟ سائل : محمد عارف عائشہ نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب روزے کی حالت میں اگر مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت عورت کو حیض آجائے تو اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اور پاک ہونے کے بعد اس روزے کی قضا رکھنا لازم ہوگا… یعنی دوبارہ اس روزہ کو رکھنا ہوگا… جو عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو، اسے کھانا پینا چاہیے، یعنی روزہ داروں کی مشابہت کی وجہ سے تنہائی میں بھی بھوکی پیاسی نہ رہے۔ “وأما في حالة تحقق الحیض و النفاس فیحرم الإمساك؛ لأن الصوم منهما حرام، والتشبه بالحرام حرام”. (طحطاوی علی المراقی : ص : ۳۷۰ ) ✍البتہ اس کے برعکس اگر حائضہ عورت دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد پاک ہوگئی تو اب دن کے بقیہ حصہ میں کھانے پینے سے رُکا رہنا چاہیے۔ ’’یجب علی الصحیح، و قیل: یستحب الإمساك … وعلی حائض و نفساء طهرتا بعد طلوع الفجر‘‘. (مراقی الفلاح : ص : ۳۷۰) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.