Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1679
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.9K Views
رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ | رضاعت کا ضروری مسئلہ
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ | رضاعت کا ضروری مسئلہ
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟| رضاعت کا ضروری مسئلہ
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں: ہندہ کی دو بیٹیاں ہیں زینب اور فاطمہ، زینب کے بیٹے علی نے ہندہ (اپنی نانی ) کا دودھ پیا تو کیا فاطمہ کی بیٹی عائشہ کے ساتھ علی کا نکاح کرنا جائز ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ جائز ہے۔ جو بھی حکم شرع ہو بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی: محمد جمیل خان بچلے پوروا گونڈہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو فاطمہ کی بیٹی عائشہ ، علی کی خالہ زاد بہن ہے اور خالہ زاد بہن سے نکاح جائز ہے، لیکن جب علی نے ہندہ (اپنی نانی) کا دودھ پیا تو ہندہ، علی کی رضاعی ماں ، فاطمہ رضاعی بہن اور فاطمہ کی بیٹی عائشہ رضاعی بھانجی ہوئی اس لیے علی کا عائشہ کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے بھانجی اور بھتیجی کے متعلق ارشاد فرمایا: ” حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ” اھ ترجمہ : تم پر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں۔ (القرآن الکریم : سورۃ النساء : آیت: ٢٣، پارہ: ٤) حدیث شریف میں ہے : “عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت : قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم : يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة”اھ ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو (رشتہ) نسب سے حرام ہے وہ رضاعت سے حرام ہے۔ (بخاری شریف : حدیث : ٥٠٩٩ ، مسلم شريف : ٤٤٤ ، سنن دارمي : ٢١٤٩ ، مشكاة المصابيح : كتاب النكاح، باب المحرمات، حديث : ٣١٦١) حدیث شریف میں ہے : ” عن علي رضي الله تعالى عنه انه قال: يا رسول الله ! هل لك في بنت عمك حمزة ؟ فانها اجمل فتاة في قريش. قال له : أما علمت أن حمزة أخي من الرضاعة ؟ وأن الله حرم من الرضاعة ما حرم من النسب “اھ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے : انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیا آپ یہ پسند فرمائیں گے کہ اپنے چچا (حضرت )حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیٹی کی صاحب زادی کو نکاح میں لائیں؟ اس لیے کہ وہ قبیلئہ قریش میں نوجوان ہونے میں زیادہ خوب صورت ہیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ (حضرت )حمزہ رضی اللہ عنہ میرے رضاعی بھائی ہیں اور بے شک اللہ تعالٰی نے جنہیں نسب (کے سبب )سے حرام فرمایا ہے ان کو رضاعت (کے سبب )سے (بھی ) حرام فرمایا ہے ۔ (مسلم شریف : حدیث : ١٤٤٦ ، مشکاۃ المصابیح : کتاب النکاح، باب المحرمات، حدیث : ٣١٦٣) جامع ترمذی میں ہے : “عن على رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله حرم من الرضاعة ما حرم من النسب”اھ ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ نے جنھیں نسب سے حرام فرمایا رضاعت سے حرام فرمایا۔ (جامع ترمذی : باب ماجاء یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب، حدیث : ١١٥٤) در مختار میں ہے : “حرم علي المتزوج ذكرا أو انثي اصله وفروعه وبنت اخيه واخته وبنتها والكل رضاعا”اھ ملخصا یعنی ہر مرد وعورت پر اس کے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، بھتیجا بھتیجی، بہن اور بھائی، بہن کے بیٹا بیٹی خواہ یہ رشتے نسب سے ہوں یا دودھ سے حرام ہیں. (الدرالمختار مع رد المحتار : ج: ٤ ، ص: ١٠٠ تا ١٠٥ کتاب النکاح، فصل فی المحرمات ) فتاوٰی رضویہ میں ہے : “رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھانجی بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں”اھ (الفتاوٰی الرضویۃ : ج: ١١، ص: ٤٩٦، کتاب النکاح، باب المحرمات)واللہ تعالٰی اعلم کتبہ : مفتی عبدالقادر المصباحی الجامعی مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ٥ رمضان المبارک١٤٤٣ھ
Kutubahu & Verified by:
<h2>رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟| رضاعت کا ضروری مسئلہ</h2> السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں: ہندہ کی دو بیٹیاں ہیں زینب اور فاطمہ، زینب کے بیٹے علی نے ہندہ (اپنی نانی ) کا دودھ پیا تو کیا فاطمہ کی بیٹی عائشہ کے ساتھ علی کا نکاح کرنا جائز ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ جائز ہے۔ جو بھی حکم شرع ہو بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی: محمد جمیل خان بچلے پوروا گونڈہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong> </span> ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو فاطمہ کی بیٹی عائشہ ، علی کی خالہ زاد بہن ہے اور خالہ زاد بہن سے نکاح جائز ہے، لیکن جب علی نے ہندہ (اپنی نانی) کا دودھ پیا تو ہندہ، علی کی رضاعی ماں ، فاطمہ رضاعی بہن اور فاطمہ کی بیٹی عائشہ رضاعی بھانجی ہوئی اس لیے علی کا عائشہ کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے بھانجی اور بھتیجی کے متعلق ارشاد فرمایا: " حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ" اھ ترجمہ : تم پر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں۔ (القرآن الکریم : سورۃ النساء : آیت: ٢٣، پارہ: ٤) حدیث شریف میں ہے : "عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت : قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم : يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة"اھ ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو (رشتہ) نسب سے حرام ہے وہ رضاعت سے حرام ہے۔ (بخاری شریف : حدیث : ٥٠٩٩ ، مسلم شريف : ٤٤٤ ، سنن دارمي : ٢١٤٩ ، مشكاة المصابيح : كتاب النكاح، باب المحرمات، حديث : ٣١٦١) حدیث شریف میں ہے : " عن علي رضي الله تعالى عنه انه قال: يا رسول الله ! هل لك في بنت عمك حمزة ؟ فانها اجمل فتاة في قريش. قال له : أما علمت أن حمزة أخي من الرضاعة ؟ وأن الله حرم من الرضاعة ما حرم من النسب "اھ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے : انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیا آپ یہ پسند فرمائیں گے کہ اپنے چچا (حضرت )حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیٹی کی صاحب زادی کو نکاح میں لائیں؟ اس لیے کہ وہ قبیلئہ قریش میں نوجوان ہونے میں زیادہ خوب صورت ہیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ (حضرت )حمزہ رضی اللہ عنہ میرے رضاعی بھائی ہیں اور بے شک اللہ تعالٰی نے جنہیں نسب (کے سبب )سے حرام فرمایا ہے ان کو رضاعت (کے سبب )سے (بھی ) حرام فرمایا ہے ۔ (مسلم شریف : حدیث : ١٤٤٦ ، مشکاۃ المصابیح : کتاب النکاح، باب المحرمات، حدیث : ٣١٦٣) جامع ترمذی میں ہے : "عن على رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله حرم من الرضاعة ما حرم من النسب"اھ ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ نے جنھیں نسب سے حرام فرمایا رضاعت سے حرام فرمایا۔ (جامع ترمذی : باب ماجاء یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب، حدیث : ١١٥٤) در مختار میں ہے : "حرم علي المتزوج ذكرا أو انثي اصله وفروعه وبنت اخيه واخته وبنتها والكل رضاعا"اھ ملخصا یعنی ہر مرد وعورت پر اس کے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، بھتیجا بھتیجی، بہن اور بھائی، بہن کے بیٹا بیٹی خواہ یہ رشتے نسب سے ہوں یا دودھ سے حرام ہیں. (الدرالمختار مع رد المحتار : ج: ٤ ، ص: ١٠٠ تا ١٠٥ کتاب النکاح، فصل فی المحرمات ) فتاوٰی رضویہ میں ہے : "رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھانجی بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں"اھ (الفتاوٰی الرضویۃ : ج: ١١، ص: ٤٩٦، کتاب النکاح، باب المحرمات)واللہ تعالٰی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی عبدالقادر المصباحی الجامعی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٥ رمضان المبارک١٤٤٣ھ</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...