Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1680
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13K Views
وقف کی تبدیلی جائز نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
وقف کی تبدیلی جائز نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
وقف کی تبدیلی جائز نہیں ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام صورت مسؤلہ میں زید بکر عمر سب نے مل کر قبرستان میں جنازہ کے لیے زمین وقف کیا آیا قبرستان کمیٹی جگہ زیادہ ہونےکی وجہ سے آدھی زمین پر مکتب یا مدرسہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کیا اس صورت میں مذکورہ تینوں سے اجازت لینا ضروری کے بغیر اجازت کے کے قبرستان کمیٹی مکتب یا مدرسہ بنا سکتی ہے یا نہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں المستفتی محمد صادق عالم الجواب بعون الملک الوھاب وقف کرنے والوں نے جس مقصد کے لیے زمین وقف کیا تھا اسی میں زمین کا استعمال کرنا ضروری ہے، قبرستان کمیٹی اس زمین پر مکتب، مدرسہ وغیرہ نہیں بنا سکتی ہے،اگر چہ وقف کرنے والے بعد وقف اس کی اجازت دیں. درمختار مع ردالمحتار میں ہے : فإذا تم ولزم لا يملك ۔۔ قوله ( لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ولا يعار ولا يرهن لاقتضائهما الملك ۔(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الوقف ٦/ ٣٥٢) فتح القدير میں ہے: “(قوله: وإذا صح الوقف) أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري وإذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف. ثم قوله (لم يجز بيعه ولا تمليكه) هو بإجماع الفقهاء.” (کتاب الوقف، ج: ٦ صفحہ: ٢٢٠) الجوهرة النيرة میں ہے: “(وإذا صح الوقف على اختلافهم خرج من ملك الواقف) حتى لو كانوا عبيدا فأعتقهم لا يعتقون قوله (ولم يدخل في ملك الموقوف عليه)؛ لأنه لو دخل في ملكه نفذ بيعه فيه كسائر أملاكه ومعنى قوله إذا صح الوقف أي ثبت على قول أبي حنيفة بالحكم أو بالتعليق بالموت وعلى قولهما بالوقف والتسليم.” (كتاب الوقف، وقف المشاع، ج: ١، صفحہ: ٣٣٤) فتاوی رضویہ شریف میں ہے “جائداد ملک ہوکر وقف ہوسکتی ہے مگر وقف ٹھہر کر کبھی ملک نہیں ہوسکتی”(ج۶ ص۳۳۵) اسی میں ہے : “مسلمانوں پر فرض ہے کہ حتی المقدور ہر جائز کوشش حفظ مال وقف ودفع ظلم ظالم میں صرف کریں اور اس میں جتنا وقت یا مال ان کا خرچ ہوگا یا جو کچھ محنت کریں گے مستحق اجر ہوں گے قال تعالی لا یصیبھم ظمأ ولا نصب ولا مخمصة الى قوله تعالى الا كتب لهم به عمل صالح”(نفس مصدرص۳۵۰) اسی میں ہے : وقف کی تبدیل جائز نہیں، جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے، اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لیے کر دینا روا نہیں، جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کر سکتے، یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کر دیناحلال نہیں۔ سراج وہاج پھر فتاوی ہندیہ میں ہے: ”لا یجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل بستاناً و لا الخان حماماً و لا الرباط دکاناً إلا إذا جعل الواقف إلی الناظر ما یری فیہ مصلحۃ الوقف اھ“۔وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا ،جائز نہیں،لہذا گھر کا باغ بنانا اور سرائے کا حمام بنانا اور رباط کا دکان بنانا، جائز نہیں، ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کر سکتا ہے جس میں وقف کی مصلحت ہو، تو جائز ہے، اھ۔قلت: جب ہیئت کی تبدیلی جائز نہیں، تو اصل مقصود کی تغییر کیونکر جائز ہو گی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد٩ ،صفحہ ٤٥٧،رضا فاؤنڈیشن، لاھور) اسی میں ہے : ”مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں، تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے ۔ وقف مالک حقیقی جل و علا کی ملک خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد ١٦،صفحہ ٢٣١ /٢٣٢،رضا فاؤنڈیشن، لاھور) بہار شریعت میں ہے: “وقف کا حکم یہ ہے کہ نہ خود وقف کرنے والا اس کا مالک ہے نہ دوسرے کو اس کا مالک بنا سکتا ہے نہ اس کو بیع کرسکتا ہے نہ عاریت دے سکتا ہے نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے”(ج ۲ ح ۱۰ ص ۵۳۳ /مكتبة المدينه دعوت اسلامی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٥ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٧ اپریل ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>وقف کی تبدیلی جائز نہیں ؟</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام صورت مسؤلہ میں زید بکر عمر سب نے مل کر قبرستان میں جنازہ کے لیے زمین وقف کیا آیا قبرستان کمیٹی جگہ زیادہ ہونےکی وجہ سے آدھی زمین پر مکتب یا مدرسہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کیا اس صورت میں مذکورہ تینوں سے اجازت لینا ضروری کے بغیر اجازت کے کے قبرستان کمیٹی مکتب یا مدرسہ بنا سکتی ہے یا نہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں المستفتی محمد صادق عالم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> وقف کرنے والوں نے جس مقصد کے لیے زمین وقف کیا تھا اسی میں زمین کا استعمال کرنا ضروری ہے، قبرستان کمیٹی اس زمین پر مکتب، مدرسہ وغیرہ نہیں بنا سکتی ہے،اگر چہ وقف کرنے والے بعد وقف اس کی اجازت دیں. درمختار مع ردالمحتار میں ہے : فإذا تم ولزم لا يملك ۔۔ قوله ( لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ولا يعار ولا يرهن لاقتضائهما الملك ۔(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الوقف ٦/ ٣٥٢) فتح القدير میں ہے: "(قوله: وإذا صح الوقف) أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري وإذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف. ثم قوله (لم يجز بيعه ولا تمليكه) هو بإجماع الفقهاء." (کتاب الوقف، ج: ٦ صفحہ: ٢٢٠) الجوهرة النيرة میں ہے: "(وإذا صح الوقف على اختلافهم خرج من ملك الواقف) حتى لو كانوا عبيدا فأعتقهم لا يعتقون قوله (ولم يدخل في ملك الموقوف عليه)؛ لأنه لو دخل في ملكه نفذ بيعه فيه كسائر أملاكه ومعنى قوله إذا صح الوقف أي ثبت على قول أبي حنيفة بالحكم أو بالتعليق بالموت وعلى قولهما بالوقف والتسليم." (كتاب الوقف، وقف المشاع، ج: ١، صفحہ: ٣٣٤) فتاوی رضویہ شریف میں ہے "جائداد ملک ہوکر وقف ہوسکتی ہے مگر وقف ٹھہر کر کبھی ملک نہیں ہوسکتی”(ج۶ ص۳۳۵) اسی میں ہے : "مسلمانوں پر فرض ہے کہ حتی المقدور ہر جائز کوشش حفظ مال وقف ودفع ظلم ظالم میں صرف کریں اور اس میں جتنا وقت یا مال ان کا خرچ ہوگا یا جو کچھ محنت کریں گے مستحق اجر ہوں گے قال تعالی لا یصیبھم ظمأ ولا نصب ولا مخمصة الى قوله تعالى الا كتب لهم به عمل صالح”(نفس مصدرص۳۵۰) اسی میں ہے : وقف کی تبدیل جائز نہیں، جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے، اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لیے کر دینا روا نہیں، جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کر سکتے، یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کر دیناحلال نہیں۔ سراج وہاج پھر فتاوی ہندیہ میں ہے: ”لا یجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل بستاناً و لا الخان حماماً و لا الرباط دکاناً إلا إذا جعل الواقف إلی الناظر ما یری فیہ مصلحۃ الوقف اھ“۔وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا ،جائز نہیں،لہذا گھر کا باغ بنانا اور سرائے کا حمام بنانا اور رباط کا دکان بنانا، جائز نہیں، ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کر سکتا ہے جس میں وقف کی مصلحت ہو، تو جائز ہے، اھ۔قلت: جب ہیئت کی تبدیلی جائز نہیں، تو اصل مقصود کی تغییر کیونکر جائز ہو گی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد٩ ،صفحہ ٤٥٧،رضا فاؤنڈیشن، لاھور) اسی میں ہے : ”مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں، تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے ۔ وقف مالک حقیقی جل و علا کی ملک خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد ١٦،صفحہ ٢٣١ /٢٣٢،رضا فاؤنڈیشن، لاھور) بہار شریعت میں ہے: "وقف کا حکم یہ ہے کہ نہ خود وقف کرنے والا اس کا مالک ہے نہ دوسرے کو اس کا مالک بنا سکتا ہے نہ اس کو بیع کرسکتا ہے نہ عاریت دے سکتا ہے نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے”(ج ۲ ح ۱۰ ص ۵۳۳ /مكتبة المدينه دعوت اسلامی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٥ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٧ اپریل ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...