01
The questionSawaal
اصل سوالکیا مہر ادا کرتے وقت گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟
02
The responseAl-Jawab
کیا مہر ادا کرتے وقت گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا فرماتے ہیں علماے کرام مفتیان عظام اس مسئلے میں زید اپنی بیوی کا مھر ادا کرنا چاہتا ہے کس طرح ادا کرے گواہ اور وکیل کا انتقال ہوچکا۔ قرآن و حدیث کی ورشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ الجواب سائل غالبا یہ سمجھتا ہے کہ جس وقت شوہر بیوی کو مہر ادا کرے تو اس وقت نکاح کے وکیل اور اس کے گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے۔بلکہ حقیقتِ امر یہ ہے کہ مہر کی ادائیگی کے وقت سرے سے گواہوں کا ہونا ہی ضروری نہیں ہے۔ہاں! گواہ بنا کر ہو تو اچھا ہے۔اور نکاح میں بھی جو از روئے شرع گواہی شرط رکھی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عقد کے ذریعہ اشرف المخلوقات یعنی انسان (عورت) کے بدن سے نفع اٹھانے کے مالکانہ حقوق و اختیارات حاصل ہوتے ہیں، مال یعنی مہر کے لزوم کے اعتبار سے نکاح میں شہادت کو شرط کا درجہ نہیں دیا گیا ہے، کیوں کہ لزوم مال سے متعلق امور و معاملات مثلاً خرید و فروخت، اجارہ، شرکت ، قرض، مضاربت وغیرہ میں گواہی شرط نہیں ہے۔شیخ الاسلام امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “ان الشہادة شرطت فی النکاح علی اعتبار اثبات الملک لورودہ علی محل ذی خطر، لا علی اعتبار وجوب المھر؛ اذ لا شہادة تشترط فی لزوم المال۔” (ہدایہ اولین، کتاب النکاح ص٢٨٧) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٧/اپریل ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.