Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1683 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.4K Views

فجر کی جماعت ہو رہی ہو توسنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوں یا سنتیں پڑھے بغیر شامل ہوجائیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

فجر کی جماعت ہو رہی ہو توسنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوں یا سنتیں پڑھے بغیر شامل ہوجائیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

فجر کی جماعت ہو رہی ہو توسنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوں یا سنتیں پڑھے بغیر شامل ہوجائیں ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں فجر کی جماعت ہو رہی ہو توسنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوں یا سنتیں پڑھے بغیر ہی شامل ہوجائیں ؟ سائل سید نثار شاہ پاکستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھّاب اگر یہ جانتا ہو کہ سنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوجائے گا تو پہلے سنتیں پڑھ لےاوراگر یہ گمان ہوکہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت نکل جائےگی تو جماعت میں شریک ہو جائے اور سنتیں طلوع آفتاب کے20منٹ بعد پڑھ لے (نماز فجر کی دو سنتوں کے متعلق احادیث مبارکہ میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے اورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بہت فضلیت بھی بیان فرمائی ہے: امام ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں تحریر فرماتے ہیں, کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق منقول ہے کہ اگر نمازِ فجر باجماعت شروع ہو جاتی اور انہوں نے ابھی سنتیں ادا نہ کی ہوتیں تو وہ پہلے مسجد کے کسی گوشے میں سنتیں ادا کرتے، پھر باجماعت نماز میں شریک ہو جاتے👇 عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ , ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي الصَّلَاةِ: یعنی حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے اور لوگ (باجماعت) نماز فجر میں صف بستہ ہوتے تو یہ پہلے مسجد کے گوشے میں دو رکعت (سنتیں) پڑھتے، پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاتے: ( طحاوی شرح معانی الآثار کتاب الصلاة, باب الرجل يدخل المسجد والامام فی صلاة الفجرجلد1 رقم حدیث 2164) (مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، اگر یہ جانے کہ سنتیں پڑھنےکے بعد جماعت مل جائےگی,اگرچہ قعدہ ہی میں شامل ہوگا تو سنتیں پڑھ لےمگر صف کےبرابر پڑھناجائزنہیں، بلکہ اپنےگھر پڑھے یا بیرون مسجد کوئ جگہ قابل نماز ہو تو وہاں پڑھے, اور یہ ممکن نہ ہو تو اگراندر کےحصہ میں جماعت ہوتی ہو تو باہرکےحصہ میں پڑھے، باہرکےحصہ میں ہو تو اندر اور اگر اس مسجد میں اندر باہر دودر جےنہ ہوں تو ستون یا پیڑ کی آڑمیں پڑھے کہ اس میں اورصف میں حائل ہوجائے اورصف کے پیچھے پڑھنابھی ممنوع ہے اگرچہ صف میں پڑھنازیادہ براہے آج کل اکثر عوام اس کابالکل خیال نہیں کرتے اور اسی صف میں گھس کر شروع کر دیتے ہیں یہ نا جائز ہے اوراگر ہنوز جماعت شروع نہ ہوئ توجہاں چاہے سنتیں شروع کرے خواہ کوئ سنت ہو . (بہار شریعت حصہ4صفحہ665-مکبۃ المدینہ ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ ✍کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h3>فجر کی جماعت ہو رہی ہو توسنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوں یا سنتیں پڑھے بغیر شامل ہوجائیں ؟</h3> السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں فجر کی جماعت ہو رہی ہو توسنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوں یا سنتیں پڑھے بغیر ہی شامل ہوجائیں ؟ سائل سید نثار شاہ پاکستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھّاب</strong></span> اگر یہ جانتا ہو کہ سنتیں پڑھ کرجماعت میں شامل ہوجائے گا تو پہلے سنتیں پڑھ لےاوراگر یہ گمان ہوکہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت نکل جائےگی تو جماعت میں شریک ہو جائے اور سنتیں طلوع آفتاب کے20منٹ بعد پڑھ لے (نماز فجر کی دو سنتوں کے متعلق احادیث مبارکہ میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے اورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بہت فضلیت بھی بیان فرمائی ہے: امام ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں تحریر فرماتے ہیں, کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق منقول ہے کہ اگر نمازِ فجر باجماعت شروع ہو جاتی اور انہوں نے ابھی سنتیں ادا نہ کی ہوتیں تو وہ پہلے مسجد کے کسی گوشے میں سنتیں ادا کرتے، پھر باجماعت نماز میں شریک ہو جاتے👇 عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ , ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي الصَّلَاةِ: یعنی حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے اور لوگ (باجماعت) نماز فجر میں صف بستہ ہوتے تو یہ پہلے مسجد کے گوشے میں دو رکعت (سنتیں) پڑھتے، پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل ہو جاتے: ( طحاوی شرح معانی الآثار کتاب الصلاة, باب الرجل يدخل المسجد والامام فی صلاة الفجرجلد1 رقم حدیث 2164) (مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، اگر یہ جانے کہ سنتیں پڑھنےکے بعد جماعت مل جائےگی,اگرچہ قعدہ ہی میں شامل ہوگا تو سنتیں پڑھ لےمگر صف کےبرابر پڑھناجائزنہیں، بلکہ اپنےگھر پڑھے یا بیرون مسجد کوئ جگہ قابل نماز ہو تو وہاں پڑھے, اور یہ ممکن نہ ہو تو اگراندر کےحصہ میں جماعت ہوتی ہو تو باہرکےحصہ میں پڑھے، باہرکےحصہ میں ہو تو اندر اور اگر اس مسجد میں اندر باہر دودر جےنہ ہوں تو ستون یا پیڑ کی آڑمیں پڑھے کہ اس میں اورصف میں حائل ہوجائے اورصف کے پیچھے پڑھنابھی ممنوع ہے اگرچہ صف میں پڑھنازیادہ براہے آج کل اکثر عوام اس کابالکل خیال نہیں کرتے اور اسی صف میں گھس کر شروع کر دیتے ہیں یہ نا جائز ہے اوراگر ہنوز جماعت شروع نہ ہوئ توجہاں چاہے سنتیں شروع کرے خواہ کوئ سنت ہو . (بہار شریعت حصہ4صفحہ665-مکبۃ المدینہ ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>✍کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...