Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1688
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4K Views
کیا شرعی معذور روزوں کا فدیہ ادا کر سکتا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا شرعی معذور روزوں کا فدیہ ادا کر سکتا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا شرعی معذور روزوں کا فدیہ ادا کر سکتا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، کیافرماتےہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص بیمار ہے اور روزہ نہیں رکھ سکتا اس کے لئے کیا حکم ہے مطلب ان روزوں کے بدلے فدیہ ادا کر سکتا ہے؟ (سائل عبدالرشید عطاری فیصل آباد) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب شرعی اعتبار سے ایسا مریض جو روزہ نہیں رکھ سکتا کہ روزہ رکھنے سے اسے نقصان ہوگا یا مرض بڑھے گا یا دیرسے ٹھیک ہوگا اور یہ بات اپنے تجربہ سے ثابت ہو یا کسی مسلمان طبیب حاذق کے بیان سے جو فاسق نہ ہو تو جتنے دنوں میں یہ حالت رہی چاہے پُورا مہینہ وہ شخص روزے نہیں رکھ سکا اب جو روزے چھوڑے ہوں گے تندرست ہونے پر اتنے روزے قضا کےطور پر رکھنے ہوں گے تندرست ہونے سے مراد یہ ہے کہ کسی طرح وہ شخص روزہ رکھنے پر قادر ہو جائے مثلاً گرمیوں میں نہیں رکھ سکتا بلکہ سردیوں میں رکھ سکتا ہے تو سردیوں میں قضا روزے رکھنے ہونگے یا اکٹھے نہیں رکھ سکتا بلکہ متفرق طور پر( یعنی ) چند دن کے وقفے کے بعد ایک روزہ رکھ سکتاہے تو ایسا ہی کرے البتہ اگر بیماری اس حد تک ہے کہ آئندہ کسی طریقے سے روزہ پر قدرت ہونے کی امید نہ ہو یعنی نہ سردیوں میں نہ گرمیوں میں اور نہ اکٹھے نہ متفرق طور پر تو پھر ایسا شخص شیخ فانی ہے اس کے لئے ہر روزے کے عوض ایک فدیہ دینے کی اجازت ہے یعنی مثلاًفی روزہ ایک فدیہ کسی شرعی فقیر کو دینا ہوگا،لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر آئندہ روزہ رکھنے پر قدرت حاصل ہوگئی تو اب روزے ہی رکھنے ہوں گے۔فدیہ اداکرنا کفایت نہیں کرےگا: اور ایک روزے کا فدیہ ایک شرعی فقیر کو دو وقت پیٹ بھرکرکھانا کھلانا، یا ایک صدقہ فطر کی مقدار رقم کسی شرعی فقیر کو دینا ہے: قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے(فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ) ترجمہ تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہوتو اتنے روزے اور دنوں میں رکھےاور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا: اس آیت مبارکہ کے تحت حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،اس سے مراد وہ شخص ہے جس میں اب بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو اور آئندہ آنے کی امید نہ ہو ،جیسے بہت ضعیف بوڑھا یامرض موت میں مبتلا،اور اگر کفارہ دینے کے بعد طاقت آگئی تو پھر روزہ قضاء کرنا ہو گا: ( کنز الایمان تفسیر نور العرفان=پارہ2=سورۃالبقرہ آیت نمبر184) (صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، ہر روزہ کے بدلے میں فدیہ( یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقۂ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے: (بہار شریعت،حصہ5صفحہ 1006) ( الدرالمختارکتاب الصوم جلد3صفحہ471) (امام اہل سنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں,فدیہ یہ صرف شیخ فانی کےلئےرکھاگیاہےجوبہ سبب پیرانہ سالی حقیقتاً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہونہ آئندہ طاقت کی امّید،کہ عمر جتنی بڑھے گی ضعف بڑھےگا اس کے لئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو ایسا مریض نہیں جس کے مرںض کو روزہ مضر ہو اس پرخود روزہ رکھنا فرض,اگرچہ تکلیف ہو: ( فتاویٰ رضویہ قدیم جلد4صفحہ202) (فتاویٰ امجدیہ) میں ہے جتنے روزے ذمہ میں ہیں,جب تک اس کوقوت ہو فرض ہے کہ ان کی قضاکرے،قوت ہوتے ہوئےان کا فدیہ ادانہ کرنا کافی نہ ہوگا: (فتاویٰ امجدیہ جلد1صفحہ396 ) ( فتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ320) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا شرعی معذور روزوں کا فدیہ ادا کر سکتا ہے ؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، کیافرماتےہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص بیمار ہے اور روزہ نہیں رکھ سکتا اس کے لئے کیا حکم ہے مطلب ان روزوں کے بدلے فدیہ ادا کر سکتا ہے؟ (سائل عبدالرشید عطاری فیصل آباد) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> شرعی اعتبار سے ایسا مریض جو روزہ نہیں رکھ سکتا کہ روزہ رکھنے سے اسے نقصان ہوگا یا مرض بڑھے گا یا دیرسے ٹھیک ہوگا اور یہ بات اپنے تجربہ سے ثابت ہو یا کسی مسلمان طبیب حاذق کے بیان سے جو فاسق نہ ہو تو جتنے دنوں میں یہ حالت رہی چاہے پُورا مہینہ وہ شخص روزے نہیں رکھ سکا اب جو روزے چھوڑے ہوں گے تندرست ہونے پر اتنے روزے قضا کےطور پر رکھنے ہوں گے تندرست ہونے سے مراد یہ ہے کہ کسی طرح وہ شخص روزہ رکھنے پر قادر ہو جائے مثلاً گرمیوں میں نہیں رکھ سکتا بلکہ سردیوں میں رکھ سکتا ہے تو سردیوں میں قضا روزے رکھنے ہونگے یا اکٹھے نہیں رکھ سکتا بلکہ متفرق طور پر( یعنی ) چند دن کے وقفے کے بعد ایک روزہ رکھ سکتاہے تو ایسا ہی کرے البتہ اگر بیماری اس حد تک ہے کہ آئندہ کسی طریقے سے روزہ پر قدرت ہونے کی امید نہ ہو یعنی نہ سردیوں میں نہ گرمیوں میں اور نہ اکٹھے نہ متفرق طور پر تو پھر ایسا شخص شیخ فانی ہے اس کے لئے ہر روزے کے عوض ایک فدیہ دینے کی اجازت ہے یعنی مثلاًفی روزہ ایک فدیہ کسی شرعی فقیر کو دینا ہوگا،لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر آئندہ روزہ رکھنے پر قدرت حاصل ہوگئی تو اب روزے ہی رکھنے ہوں گے۔فدیہ اداکرنا کفایت نہیں کرےگا: اور ایک روزے کا فدیہ ایک شرعی فقیر کو دو وقت پیٹ بھرکرکھانا کھلانا، یا ایک صدقہ فطر کی مقدار رقم کسی شرعی فقیر کو دینا ہے: قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے(فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ) ترجمہ تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہوتو اتنے روزے اور دنوں میں رکھےاور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا: اس آیت مبارکہ کے تحت حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،اس سے مراد وہ شخص ہے جس میں اب بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو اور آئندہ آنے کی امید نہ ہو ،جیسے بہت ضعیف بوڑھا یامرض موت میں مبتلا،اور اگر کفارہ دینے کے بعد طاقت آگئی تو پھر روزہ قضاء کرنا ہو گا: ( کنز الایمان تفسیر نور العرفان=پارہ2=سورۃالبقرہ آیت نمبر184) (صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، ہر روزہ کے بدلے میں فدیہ( یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقۂ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے: (بہار شریعت،حصہ5صفحہ 1006) ( الدرالمختارکتاب الصوم جلد3صفحہ471) (امام اہل سنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں,فدیہ یہ صرف شیخ فانی کےلئےرکھاگیاہےجوبہ سبب پیرانہ سالی حقیقتاً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہونہ آئندہ طاقت کی امّید،کہ عمر جتنی بڑھے گی ضعف بڑھےگا اس کے لئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو ایسا مریض نہیں جس کے مرںض کو روزہ مضر ہو اس پرخود روزہ رکھنا فرض,اگرچہ تکلیف ہو: ( فتاویٰ رضویہ قدیم جلد4صفحہ202) (فتاویٰ امجدیہ) میں ہے جتنے روزے ذمہ میں ہیں,جب تک اس کوقوت ہو فرض ہے کہ ان کی قضاکرے،قوت ہوتے ہوئےان کا فدیہ ادانہ کرنا کافی نہ ہوگا: (فتاویٰ امجدیہ جلد1صفحہ396 ) ( فتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ320) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...