Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1690 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.2K Views

پنج وقتہ اذان اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

پنج وقتہ اذان اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پنج وقتہ اذان اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس بارے میں کہ پنج وقتہ اذان، اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں بحوالہ جواب عطافرمادیں؟ سائل: عمرفاروق عطاری لاہور وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ: الجـــــوابــــــــــــ”بعون الملک الوھّاب جس طرح پنج وقتہ نماز کی اذان مسجد سے باہر( یعنی خارج مسجد میں دینے کاحکم ہے اسی طرح جمعہ کی اذان ثانی کا بھی یہی حکم ہے کہ عین مسجد میں نہ دی جائے بلکہ فنائے مسجد ہی میں دی جائے: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بھی جمعہ کی اذان ثانی مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤد شریف میں روایت ہے) (عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر۔سنن ابی داؤد سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنھما کے زمانے میں ہو تا تھا ۔ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی (اذان کا) مسجد کے باہر ہی ہونا مروی ہے: (فتاویٰ رضویہ جلد5) (فتاویٰ قاضی خان میں ہے) وینبغی أن یؤذن علی المئذنةأوخارج المسجدلایؤذن فی المسجد” یعنی اذان مینار پر یا مسجد سے باہر دینی چاہیے اور مسجد میں اذان نہ دی جائے: (فتاویٰ خانیہ مع الھندیہ،جلد1صفحہ78) (فتاویٰ رضویہ میں ہے) مسجد کے اندر اذان کا ہونا آئمہ نے منع فرمایا اور مکروہ لکھاہے اورخلاف سنت ہے،یہ نہ زمانۂ اقدس میں تھا,نہ زمانۂ خلفاء راشدین، نہ کسی صحابی کی خلافت میں، بہر حال جبکہ زمانہ رسالت و خلافائے راشدہ میں نہ تھی اور ہمارے آئمہ کی تصریح ہے کہ مسجد میں اذان نہ ہو مسجد میں اذان مکروہ ہے تو ہمیں سنت اختیار کرنی چاہیے بدعت سے بچناچاہیے ۔ (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں، ایک باربھی ثابت نہیں، کہ حضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم نے مسجد کے اندر اذان دلوائ ہو👇 آپ فرماتےہیں، احیائے سنت علماء کا توخاص فرضِ منصبی ہے، اورجس سے ممکن ہو اس کے لئے حکم عام ہے، ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے شہر یا کم ازکم اپنی مساجد میں اذان اور جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے باہر دینے کی اس سنت کو زندہ کریں، اور سوسو(100)شہیدوں کا ثواب لیں.. (فتاویٰ رضویہ جلد5 صفحہ405تا411 رضافاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے) اورجمعہ کی اذان ثانی امام کے سامنے مسجد کے دروازے پر دینا یہ بدعت سیئہ نہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے زمانۂ اقدس میں خطبہ کی اذان مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی، اور ایسا کہیں منقول نہیں، کہ حضور اکرم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائ ہو.. (فتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ241) (بہار شریعت میں ھندیہ کےحوالےسے ہے) اذان مینارا پر کہی جائے یا خارج مسجد اور مسجد میں اذان نہ کہے: (الفتاوی الھندیہ باب الثانی فی الاذان,جلد1صفحہ55) مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں، کہ فقہ کی کسی کتاب میں کوئی اذان اس سے مستثنیٰ نہیں، اذان جمعہ ثانی بھی اسی میں داخل ہے.. (بہار شریعت حصہ3صفحہ469 مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ ✍کتبــــــــــــــــــــــہ  :ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h3>پنج وقتہ اذان اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں؟</h3> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس بارے میں کہ پنج وقتہ اذان، اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں بحوالہ جواب عطافرمادیں؟ سائل: عمرفاروق عطاری لاہور وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ: <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ"بعون الملک الوھّاب</strong></span> جس طرح پنج وقتہ نماز کی اذان مسجد سے باہر( یعنی خارج مسجد میں دینے کاحکم ہے اسی طرح جمعہ کی اذان ثانی کا بھی یہی حکم ہے کہ عین مسجد میں نہ دی جائے بلکہ فنائے مسجد ہی میں دی جائے: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بھی جمعہ کی اذان ثانی مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤد شریف میں روایت ہے) (عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر۔سنن ابی داؤد سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنھما کے زمانے میں ہو تا تھا ۔ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی (اذان کا) مسجد کے باہر ہی ہونا مروی ہے: (فتاویٰ رضویہ جلد5) (فتاویٰ قاضی خان میں ہے) وینبغی أن یؤذن علی المئذنةأوخارج المسجدلایؤذن فی المسجد" یعنی اذان مینار پر یا مسجد سے باہر دینی چاہیے اور مسجد میں اذان نہ دی جائے: (فتاویٰ خانیہ مع الھندیہ،جلد1صفحہ78) (فتاویٰ رضویہ میں ہے) مسجد کے اندر اذان کا ہونا آئمہ نے منع فرمایا اور مکروہ لکھاہے اورخلاف سنت ہے،یہ نہ زمانۂ اقدس میں تھا,نہ زمانۂ خلفاء راشدین، نہ کسی صحابی کی خلافت میں، بہر حال جبکہ زمانہ رسالت و خلافائے راشدہ میں نہ تھی اور ہمارے آئمہ کی تصریح ہے کہ مسجد میں اذان نہ ہو مسجد میں اذان مکروہ ہے تو ہمیں سنت اختیار کرنی چاہیے بدعت سے بچناچاہیے ۔ (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں، ایک باربھی ثابت نہیں، کہ حضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم نے مسجد کے اندر اذان دلوائ ہو👇 آپ فرماتےہیں، احیائے سنت علماء کا توخاص فرضِ منصبی ہے، اورجس سے ممکن ہو اس کے لئے حکم عام ہے، ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے شہر یا کم ازکم اپنی مساجد میں اذان اور جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے باہر دینے کی اس سنت کو زندہ کریں، اور سوسو(100)شہیدوں کا ثواب لیں.. (فتاویٰ رضویہ جلد5 صفحہ405تا411 رضافاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے) اورجمعہ کی اذان ثانی امام کے سامنے مسجد کے دروازے پر دینا یہ بدعت سیئہ نہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے زمانۂ اقدس میں خطبہ کی اذان مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی، اور ایسا کہیں منقول نہیں، کہ حضور اکرم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائ ہو.. (فتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ241) (بہار شریعت میں ھندیہ کےحوالےسے ہے) اذان مینارا پر کہی جائے یا خارج مسجد اور مسجد میں اذان نہ کہے: (الفتاوی الھندیہ باب الثانی فی الاذان,جلد1صفحہ55) مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں، کہ فقہ کی کسی کتاب میں کوئی اذان اس سے مستثنیٰ نہیں، اذان جمعہ ثانی بھی اسی میں داخل ہے.. (بہار شریعت حصہ3صفحہ469 مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>✍کتبــــــــــــــــــــــہ  :ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...