صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1711 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

میت کے زیر ناف بال وناخن وغیرہ کاٹنا، اور کھنگا کرنا، سرمہ لگانا جائزہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,338

سوال (Question):

میت کے زیر ناف بال وناخن وغیرہ کاٹنا، اور کھنگا کرنا، سرمہ لگانا جائزہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

میت کے زیر ناف بال وناخن وغیرہ کاٹنا، اور کھنگا کرنا، سرمہ لگانا جائزہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کے زیر ناف بال وناخن وغیرہ کاٹنا، اور کھنگا کرنا، سرمہ لگانا جائزہے؟ سائل: قاری اسرار احمد بلوچستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھّاب جب میت کو غسل دینے لگتے ہیں تو زیرناف بالوں کو پاؤڈر و غیرہ سے اچھی طرح صاف کردیاجاتاہے، اور بالوں میں کنگھا کیاجاتاہے جو شرعی طور پر جائز نہیں ہے: (چنانچہ فتاویٰ شامی/البحرالرائق..میں میت کے بال و ناخن وغیرہ کاٹنے کے حوالے سے لکھاہے..قَطْعُ الشَّعْرِلاَیَجُوْز: فتاویٰ شامی-جلد-3-صفحہ89) البحرالرائق-جلد-2-صفحہ304) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ درمختار و ردالمحتار کےحوالے سے تحریر فرماتے ہیں: میت کی داڑھی یا سرکے بال میں کنگھا کرنا، یا ناخن تراشنا، یا کسی جگہ کے بال مونڈنا، یا کترنا، یا اکھاڑنا، نا جائز و مکروہ تحریمی ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ جس حالت پر ہے، اسی حالت میں دفن کردیں ہاں اگر ناخن ٹوٹا تولے سکتے ہیں، اور اگر ناخن یا بال تراش لئے تو کفن میں رکھ دیں) الدرالمختار و ردالمحتار-کتاب الصلوۃ/باب صلاۃ الجنائزمطلب فی القرآءۃ-عندالمیت-جلد3/صفحہ/104) بہار شریعت حصہ4-صفحہ-نمبر816/مکتبۃ المدینہ) تجہیز وتکفین-کاطریقہ- صفحہ-نمبر91-مکتبۃ المدینہ) الفتاوی الھندیہ-جلد1- صفحہ-158) (در مختار مع ردالمحتار میں ہے) لایسرح شعرہ ای یکرہ تحریما ولایقص ظفرہ الا المکسور ولاشعرہ ولایختن- ترجمہ میت کے بالوں میں کنگھا نہ کیا جائے یعنی یہ مکروہِ تحریمی ہے، اور اس کے ناخن نہ تراشے جائیں مگر جو ٹوٹا ہُوا ہے، نہ ہی بال تراشے جائیں نہ ختنہ کیا جائے- ( الدرمختار- و ردالمحتار-جلد-3-کتاب الصلاة باب صلاۃ الجنائز صفحہ-89) (حضرت علامہ مولانا مفتی حبیب اللہ نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتےہیں، میت کو غسل دینے کے بعد سرمہ لگانا نہ چاہئے چونکہ میت کو نہ زینت کی ضرورت ہے نہ آنکھوں کی حفاظت کی حاجت ہے۔ لہذا یہ فعل عبث ہے سرمہ میت کو ہرگز نہ لگایا جائے) حبیب الفتاویٰ-1- صفحہ-545) فتاویٰ فخرازہر-جلد1-صفحہ345) ✍️کتبہ: ابورضا محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh