Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1693 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.6K Views

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے اکرام و مفتیانے دین مسئلہ ذیل میں کہ۔ زید عمرہ کرنے گیا تھا اور اس نے مسجد میقات پر احرام پہنا پھر مکہ ت المکرمہ آیا یہاں آکر طواف کعبہ و صفا مروہ ، بال مڈوانہ وغیرہ عمرہ کے ارکان کرنے کے بعد واپس روم پر گیا اور احرام نکالنے کے 2 گھنٹہ بعد غسل کر کے وہی احرام پہن کر رووم سے ہی عمرہ کیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید پر دم واجب ہوگی ؟اور اگر ہوگی تو، زید مدینہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے تو وہ پھر کب اور کیسے دم دےگا ۔ برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔ سائل ۔ نور جمال اعظمی یوپی الہند۔ الجواب: صورتِ مسئولہ میں اس شخص پر واجب تھا کہ دوسرے عمرہ کا احرام حرم کے باہر مثلا تنعیم سے باندھتا۔ اب جب کہ اس نے واجب کی خلاف ورزی کرکے اندرونِ حرم سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ مکمل کرلیا تو اس پر دم(قربانی) واجب ہے۔ در مختار میں ہے: “(وَ) الْمِيقَاتُ (لِمَنْ بِمَكَّةَ) يَعْنِي مَنْ بِدَاخِلِ الْحَرَمِ (لِلْحَجِّ الْحَرَمُ وَلِلْعُمْرَةِ الْحِلُّ) لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ، وَالتَّنْعِيمُ أَفْضَلُ۔” (در مختار ج٣ ص۴٨۴) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قَوْلُهُ لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ) لِأَنَّ أَدَاءَ الْحَجِّ فِي عَرَفَةَ، وَهِيَ فِي الْحِلِّ فَيَكُونُ إحْرَامُ الْمَكِّيِّ بِالْحَجِّ مِنْ الْحَرَمِ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعُ سَفَرٍ بِتَبَدُّلِ الْمَكَانِ، وَأَدَاءِ الْعُمْرَةِ فِي الْحَرَمِ فَيَكُونُ إحْرَامُهُ بِهَا مِنْ الْحِلِّ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعٌ مِنْ السَّفَرِ شَرْحُ النُّقَايَةِ لِلْقَارِي فَلَوْ عَكَسَ فَأَحْرَمَ لِلْحَجِّ مِنْ الْحِلِّ أَوْ لِلْعُمْرَةِ مِنْ الْحَرَمِ لَزِمَهُ دَمٌ إلَّا إذَا عَادَ مُلَبِّيًا إلَى الْمِيقَاتِ الْمَشْرُوعِ لَهُ كَمَا فِي اللُّبَابِ وَغَيْرِهِ۔” (رد المحتار مع الدر ج۴ ص۴٨۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٦/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٧/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h3>اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟</h3> السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے اکرام و مفتیانے دین مسئلہ ذیل میں کہ۔ زید عمرہ کرنے گیا تھا اور اس نے مسجد میقات پر احرام پہنا پھر مکہ ت المکرمہ آیا یہاں آکر طواف کعبہ و صفا مروہ ، بال مڈوانہ وغیرہ عمرہ کے ارکان کرنے کے بعد واپس روم پر گیا اور احرام نکالنے کے 2 گھنٹہ بعد غسل کر کے وہی احرام پہن کر رووم سے ہی عمرہ کیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید پر دم واجب ہوگی ؟اور اگر ہوگی تو، زید مدینہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے تو وہ پھر کب اور کیسے دم دےگا ۔ برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔ سائل ۔ نور جمال اعظمی یوپی الہند۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب:</strong></span> صورتِ مسئولہ میں اس شخص پر واجب تھا کہ دوسرے عمرہ کا احرام حرم کے باہر مثلا تنعیم سے باندھتا۔ اب جب کہ اس نے واجب کی خلاف ورزی کرکے اندرونِ حرم سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ مکمل کرلیا تو اس پر دم(قربانی) واجب ہے۔ در مختار میں ہے: "(وَ) الْمِيقَاتُ (لِمَنْ بِمَكَّةَ) يَعْنِي مَنْ بِدَاخِلِ الْحَرَمِ (لِلْحَجِّ الْحَرَمُ وَلِلْعُمْرَةِ الْحِلُّ) لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ، وَالتَّنْعِيمُ أَفْضَلُ۔" (در مختار ج٣ ص۴٨۴) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "قَوْلُهُ لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ) لِأَنَّ أَدَاءَ الْحَجِّ فِي عَرَفَةَ، وَهِيَ فِي الْحِلِّ فَيَكُونُ إحْرَامُ الْمَكِّيِّ بِالْحَجِّ مِنْ الْحَرَمِ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعُ سَفَرٍ بِتَبَدُّلِ الْمَكَانِ، وَأَدَاءِ الْعُمْرَةِ فِي الْحَرَمِ فَيَكُونُ إحْرَامُهُ بِهَا مِنْ الْحِلِّ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعٌ مِنْ السَّفَرِ شَرْحُ النُّقَايَةِ لِلْقَارِي فَلَوْ عَكَسَ فَأَحْرَمَ لِلْحَجِّ مِنْ الْحِلِّ أَوْ لِلْعُمْرَةِ مِنْ الْحَرَمِ لَزِمَهُ دَمٌ إلَّا إذَا عَادَ مُلَبِّيًا إلَى الْمِيقَاتِ الْمَشْرُوعِ لَهُ كَمَا فِي اللُّبَابِ وَغَيْرِهِ۔" (رد المحتار مع الدر ج۴ ص۴٨۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٦/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ٧/اپریل ٢٠٢٢</strong></span>ء

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...