Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1696
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.9K Views
کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا پسے مانگ کر کسی بزرگ کا عرس کروانا جائز ہے؟ سائل : محمد جاوید رضا. الجواب عرس میں مذہبی تقریری پروگرام اور زائرین کی ضیافت وغیرہ جائز و مستحب امور کے لیے چندہ کرنا جائز ہے، ہاں! مزامیر کے ساتھ قوالی یا دیگر مروجہ غیر شرعی امور کے لیے چندہ کرنا ناجاٙئز ہے اور مانگنے اور دینے والے دونوں گنہگار ہوں گے۔ارشادِ باری تعالی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ (سورہ مائدہ : آیت ٢) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “جوچندہ دیاجائے فاتحہ ونیاز شہدائے کرام میں صرف کیاجائے جبکہ چندہ دہندوں کی اجازت ہو کہ یہ( یعنی: چندہ دہندوں کی اجازت) ضروری چیز ہے۔” (فتاوی رضویہ جدید ٢۴/ ١۴۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٩/اپریل ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا عرس کے لیے چندہ کرنا جائز ہے؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا پسے مانگ کر کسی بزرگ کا عرس کروانا جائز ہے؟ سائل : محمد جاوید رضا. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> عرس میں مذہبی تقریری پروگرام اور زائرین کی ضیافت وغیرہ جائز و مستحب امور کے لیے چندہ کرنا جائز ہے، ہاں! مزامیر کے ساتھ قوالی یا دیگر مروجہ غیر شرعی امور کے لیے چندہ کرنا ناجاٙئز ہے اور مانگنے اور دینے والے دونوں گنہگار ہوں گے۔ارشادِ باری تعالی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ (سورہ مائدہ : آیت ٢) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "جوچندہ دیاجائے فاتحہ ونیاز شہدائے کرام میں صرف کیاجائے جبکہ چندہ دہندوں کی اجازت ہو کہ یہ( یعنی: چندہ دہندوں کی اجازت) ضروری چیز ہے۔" (فتاوی رضویہ جدید ٢۴/ ١۴۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٧/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ٩/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...