Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

رمضان المبارک کا آخری جمعہ اور قضائے عمری نماز کا مسئلہ

رمضان المبارک کا آخری جمعہ اور قضائے عمری نماز کا مسئلہ
Reference 1715 September 18, 2025 7,147 views
اصل سوالرمضان المبارک کا آخری جمعہ اور قضائے عمری نماز کا مسئلہ

رمضان المبارک کا آخری جمعہ اور قضائے عمری نماز کا مسئلہ

سوال: رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں مخصوص طریقے سے نماز پڑھنے سے قضا نمازیں ادا ہوجاتی ہے، اگر چہ 700 سال کی ہی کیوں نہ ہو؟ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ یا اس طرح کا ایک پوسٹر بھی ہےاس کا مضمون اس طرح ہے کہ…. جس شخص کی کتنی نمازیں قضا ہوئی ہوں اور رمضان کے آخری ہفتے میں چار رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھ لے سورہ فاتحہ کے بعد 7مرتبہ آیت الکرسی 15 مرتبہ سورہ کوثر ہر رکعت میں یہ سب قضا نمازوں کا کفارہ ہے، اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟ سائل محمد شعیب اشرفی مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب نمازوں کی قضاء سے متعلق پوچھی گئی حدیث بے اصل اور من گھڑت ہے۔ مشہور محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب📚 “الموضوعات الکبری” میں لکھتے ہیں: حدیث “من قضی صلاۃ من الفرائض فی آخر جمعۃ من شھر رمضان کان ذلک جابراً لکل صلاۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ” باطل قطعا، لانہ مناقض للاجماع علی ان شیئا من العبادات لا یقوم مقام فائتۃ سنوات۔ یہ روایت کہ “جو شخص رمضان کے آخری جمعے میں ایک فرض نماز قضاء پڑھ لے تو ستر سال تک اس کی عمر میں جتنی نمازیں چھوٹی ہوں، ان سب کی تلافی ہو جاتی ہے” یہ روایت قطعی طور پر باطل ہے، اس لئے کہ یہ حدیث اجماع امت کے خلاف ہے، اجماع اس پر ہے کہ کوئی بھی عبادت سالہا سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ (الموضوعات الکبری ص۳۵۶)📚 شریعتِ مطہرہ کا بالکل واضح حکم ہے کہ جس شخص کی کوئی نماز فوت ہوجائے تو اس پر ضروری ہے کہ جیسے ہی اسے یاد آئے وہ اس کی قضاء کی فکر کرے۔ جس کا ثبوت درج ذیل احادیثِ صحیحہ سے ملتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے : جو آدمی نماز پڑھنی بھول جائے جب اسے یاد آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس نماز کو پڑھ لے اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ من نسي صلاة فلیصل إذا ذکرہا لا کفارة لہا إلا ذلک۔ (کتاب المواقیت، باب/ ۳۷، رقم الحدیث/ ۵۹۷) صحیح مسلم میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے : جو آدمی (نیند وغیرہ کی بناء پر ) نماز پڑھنی بھول جائے تو یاد آتے ہی فوراً اسے پڑھ لے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت ( وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ ) 20۔طہ : 14) یعنی میرے یاد کرنے کے وقت نماز پڑھ لو۔ إذا رقد أحدکم عن الصلاة أو غفل عنہا، فلیصلّہا إذا ذکرہا فإن اللہ عز وجلّ یقول: أقم الصلاة لذکري: (آخر کتاب المساجد رقم الحدیث: ۱۵۶۹) سنن نسائی میں ہے : رسول کریم ﷺ سے دریافت فرمایا گیا ایسےشخص کے بارے میں جو کہ نماز سے سو جاتا ہے یا اس کی جانب سے وہ شخص غفلت میں پڑ جاتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کا کفارہ یہی ہے کہ جس وقت بھی اس کو یاد آئے تو وہ نماز پڑھ لے۔ سئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الرجل یرقد عن الصلاة أو یغفل عنہا، قال کفارتہا أن یصلیہا إذا ذکرہا (۱/۱۷) اِن احادیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ اصول بیان فرمادیا ہے کہ جب کبھی انسان کوئی نماز وقت پر نہ پڑھ سکے تو اس کے ذمے لازم ہے کہ یاد آنے پر، یا تنبہ ہونے پر اس کی قضاء کرے خواہ یہ نماز کسی طرح بھی چھوٹی ہو۔ اور یہ نمازیں کم ہوں یا زیادہ، بہرحال ان کی قضا لازم ہے۔ درج بالا تفصیلات سے وضاحت کے ساتھ معلوم ہوگیا کہ سوال نامہ میں مذکور نماز اور اس کی فضیلت بالکل غلط من گھڑت موضوع ہے.. اس میں مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اس کی وجہ سے فرض نمازوں کے ترک پر جو وعیدیں اور سخت ارشادات صحیح احادیث میں وارد ہوئے ہیں وہ بے حیثیت ہوکر رہ جائیں گے اور لوگ نماز کے چھوڑنے پر جری اور بے خوف ہوجائیں گے۔ لہٰذا ایسی بے بنیاد اور گمراہ کن باتوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کی بھی فکر کریں۔ المختصر مذکورہ طریقے سے چار رکعات نماز پڑھنے سے قضا نمازیں ادانہیں ہوتیں۔ بلکہ قضا نمازوں سے بری الذمہ ہونے کے لیے ان کی ادائیگی کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔ سائل نے جو بات لکھی ہے ایک من گھڑت روایت میں اس کا تذکرہ ملتا ہے جس کو محدثین نے رد کیا ہے؛ لہٰذا اسے بطورِ روایت بیان کرنا اور اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ اس طرح کی حدیثیں تو لوگوں کو نماز چھوڑنے والا بنا دے گی ویسے ہی لوگ نماز سے دور ہیں. لحاظا جہاں بھی ایسی بات دیکھیں پہلے علمائے حق سے اس کی تصدیق کرا لیں تاکہ شرعی گرفت سے بچے رہیں… وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.