Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1716
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.3K Views
اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب معتکف (یعنی اعتکاف کرنےوالا) کا مسجد میں ضرورتاً بغیر موباٸل کے جاٸز اور مباح باتیں کرنا جائز ہے ، اسی طرح ضرورتاً موباٸل پر کال یا میسیج کے ذریعے جاٸز اور مباح باتیں کرنا بھی جائز ہے ، بشرطیکہ اس سے کسی نمازی کی نماز یا اور دیگر عبادات میں خلل واقع نہ ہوتا ہو ، اور موباٸل کی رنگ ٹون (بیل) بھی ایسی ہو کہ نماز و عبادت میں خلل واقع نہ ہو اور نہ ہی رنگ ٹون گانے باجے پر مشتمل ہو، اور بہتر یہ ہے کہ موبائل رنگ ٹون کے بجائے ساںٔلینٹ موڈ میں رکھا جائے۔ اور جب تک سخت ضرورت درپیش نہ ہو موباٸل کا استعمال نہ کیا جاۓ ، فناۓ مسجد موبائل استعمال کرنا انسب و اولی ہے۔ کیونکہ فی زماننا ہمارے یہاں کے اکثر معتکفین کا موباٸل استعمال کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ بلاضرورت دوست و احباب اور دیگر لوگوں سے فضول گپ شپ کرتے رہتے ہیں ، اس کی شریعت مطہرہ میں قطعاً اجازت نہیں ہے۔ اور یہ اعتکاف کی روحانیت کے بھی خلاف ہے ، البتّہ دینی کاموں کے لئے موباٸل استعمال کرنے میں شرعاً حرج نہیں.. اور اگر کاروباری معاملات فون پر حل ہو جائے تو مذکورہ بالا قیودات کی روشنی میں بات کرنے میں حرج نہیں.. ھکذا فی احکام التراویح والاعتکاف ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــہ :مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h2>اعتکاف کی حالت میں فون پر کاروبار کے تعلق سے باتیں کرنا کیسا ہے؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong> </span> معتکف (یعنی اعتکاف کرنےوالا) کا مسجد میں ضرورتاً بغیر موباٸل کے جاٸز اور مباح باتیں کرنا جائز ہے ، اسی طرح ضرورتاً موباٸل پر کال یا میسیج کے ذریعے جاٸز اور مباح باتیں کرنا بھی جائز ہے ، بشرطیکہ اس سے کسی نمازی کی نماز یا اور دیگر عبادات میں خلل واقع نہ ہوتا ہو ، اور موباٸل کی رنگ ٹون (بیل) بھی ایسی ہو کہ نماز و عبادت میں خلل واقع نہ ہو اور نہ ہی رنگ ٹون گانے باجے پر مشتمل ہو، اور بہتر یہ ہے کہ موبائل رنگ ٹون کے بجائے ساںٔلینٹ موڈ میں رکھا جائے۔ اور جب تک سخت ضرورت درپیش نہ ہو موباٸل کا استعمال نہ کیا جاۓ ، فناۓ مسجد موبائل استعمال کرنا انسب و اولی ہے۔ کیونکہ فی زماننا ہمارے یہاں کے اکثر معتکفین کا موباٸل استعمال کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ بلاضرورت دوست و احباب اور دیگر لوگوں سے فضول گپ شپ کرتے رہتے ہیں ، اس کی شریعت مطہرہ میں قطعاً اجازت نہیں ہے۔ اور یہ اعتکاف کی روحانیت کے بھی خلاف ہے ، البتّہ دینی کاموں کے لئے موباٸل استعمال کرنے میں شرعاً حرج نہیں.. اور اگر کاروباری معاملات فون پر حل ہو جائے تو مذکورہ بالا قیودات کی روشنی میں بات کرنے میں حرج نہیں.. ھکذا فی احکام التراویح والاعتکاف ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــہ :مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...