Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1717
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.4K Views
قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے وقت اگر کھانے کی بمٹ (الٹی) ہوجایے تو روزے کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: عبدالجبار علیمی مقیم حال جمدا شاہی بستی الجوابـــــــــــــــ روزہ یاد نہ ہونے کی حالت میں کسی طرح کی قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اگر روزہ دار ہونا یاد ہے تو دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ قے قلیل ہو یعنی منہ بھر نہ ہو۔ اس کی صرف ایک صورت میں روزہ ٹوٹتا ہے جس کا وجود بہت شاذ )نادر) ہے۔اور وہ یہ ہے کہ منہ سے علاحدہ ہوجانے کے بعد قلیل قے کا کچھ حصہ کوئی حلق سے نیچے اتارے۔بقیہ قلیل قے کی دیگر صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ جیسے(١) قصداً قے کرنا (٢) قلیل قے کا کچھ حصہ بلا قصد حلق کے نیچے لوٹ جانا۔(٣) قلیل قے کا کچھ حصہ قصداً حلق سے نیچے لوٹانا، بشرطے کہ اس تیسری شکل میں منہ سے علاحدہ نہ ہوجائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ قے کثیر یعنی منہ بھر ہو۔اس کی دو صورتوں میں روزہ فاسد ہوجاتا ہے: (١) قصداً منہ بھر قے کرنا۔(٢) منہ بھر قے ہونے کی صورت میں قصداً کوئی جز حلق سے نیچے لوٹانا۔ لیکن اگر منہ بھر قے ہونے کی صورت میں کوئی جز بلا قصد حلق سے نیچے لوٹ جائے تو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ امام اہل سنت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “والحاصل ان ما دون ملء الفم لا یفسد مطلقا، وان اعادہ ذاکراً صومہ، ای: قبل خروجہ من فیہ، فانہ ان اعاد الساقط والعیاذ باللہ تعالی افسد مطلقا اجماعاً بلا کفارة، الا ان یکون نسی الصوم۔ واما ما کام ملء الفم فیشترط فی الافساد بہ شرطان، احدھما صنع الصائم اما فی اخراجہ، وھو الاستقاء، او ادخالہ وھو الاعادة۔والثانی ان یکون ذلک الصنع وھو ذاکر للصوم، فان فقد احد ہذین الشرطین لم یفسد ما کان ملء الفم ایضا مطلقا، فافھم۔” (جد الممتار، کتاب الصوم، ج٢ ص٢٠٦) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم</h2> سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے وقت اگر کھانے کی بمٹ (الٹی) ہوجایے تو روزے کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: عبدالجبار علیمی مقیم حال جمدا شاہی بستی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــ</strong></span> روزہ یاد نہ ہونے کی حالت میں کسی طرح کی قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اگر روزہ دار ہونا یاد ہے تو دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ قے قلیل ہو یعنی منہ بھر نہ ہو۔ اس کی صرف ایک صورت میں روزہ ٹوٹتا ہے جس کا وجود بہت شاذ )نادر) ہے۔اور وہ یہ ہے کہ منہ سے علاحدہ ہوجانے کے بعد قلیل قے کا کچھ حصہ کوئی حلق سے نیچے اتارے۔بقیہ قلیل قے کی دیگر صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ جیسے(١) قصداً قے کرنا (٢) قلیل قے کا کچھ حصہ بلا قصد حلق کے نیچے لوٹ جانا۔(٣) قلیل قے کا کچھ حصہ قصداً حلق سے نیچے لوٹانا، بشرطے کہ اس تیسری شکل میں منہ سے علاحدہ نہ ہوجائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ قے کثیر یعنی منہ بھر ہو۔اس کی دو صورتوں میں روزہ فاسد ہوجاتا ہے: (١) قصداً منہ بھر قے کرنا۔(٢) منہ بھر قے ہونے کی صورت میں قصداً کوئی جز حلق سے نیچے لوٹانا۔ لیکن اگر منہ بھر قے ہونے کی صورت میں کوئی جز بلا قصد حلق سے نیچے لوٹ جائے تو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ امام اہل سنت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "والحاصل ان ما دون ملء الفم لا یفسد مطلقا، وان اعادہ ذاکراً صومہ، ای: قبل خروجہ من فیہ، فانہ ان اعاد الساقط والعیاذ باللہ تعالی افسد مطلقا اجماعاً بلا کفارة، الا ان یکون نسی الصوم۔ واما ما کام ملء الفم فیشترط فی الافساد بہ شرطان، احدھما صنع الصائم اما فی اخراجہ، وھو الاستقاء، او ادخالہ وھو الاعادة۔والثانی ان یکون ذلک الصنع وھو ذاکر للصوم، فان فقد احد ہذین الشرطین لم یفسد ما کان ملء الفم ایضا مطلقا، فافھم۔" (جد الممتار، کتاب الصوم، ج٢ ص٢٠٦) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ </strong></span><span style="color: #339966;"><strong>١۵/رمضان المبارک </strong></span><span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...