Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1718 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.5K Views

اللہ تعالیٰ کو مومن کہنا جائز ہے از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اللہ تعالیٰ کو مومن کہنا جائز ہے از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اللہ تعالیٰ کو مومن کہنا جائز ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ زید اور بکر کے مابین بحث ہوئی۔۔۔۔ زید کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مؤمن بھی کہہ سکتے ہیں اور مسلمان بھی، اور بکر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف مؤمن کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔ اب دریافت طلب امر یہ کہ ان میں سے کن کا قول درست ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں؟ بینوا توجروا؟ المستفتی محمد توصیف رضا علیمی‌ (کٹیہار) الجواب بعون الملک الوھاب اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات توقیفی ہیں،یعنی اس کو اسی نام یا صفت سے پکارنا جائز ہے جو قرآن کریم، حدیث شریف یا اجماع سے ثابت ہو،چناں چہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے : حضرت حق جلَّ وعلا کو ناطق کہنا جائز نہیں کہ یہ لفظ شرع سے ثابت نہ ہوا ، اسمائے الہٰیہ توقیفیہ ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی جل جلالہ ، کا جواد ہونا اپنا ایمان مگر اسے سخی نہیں کہہ سکتے کہ شرع میں وارد نہیں۔(٢٧/ ١٦٥ کتاب الشتی) فتاوی شارح بخاری میں ہے : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَسما توقیفی ہیں یعنی شریعت نے جن اسما کا اطلاق باری تعالیٰ پر کیا ہے اسی کا اطلاق دُرست اور جن اَسما کا اطلاق نہیں فرمایا ان سے احتراز چاہیے۔“(فتاویٰ شارحِ بخاری،305/1) مومن کا لفظ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے، چناں چہ قرآن مجید میں ہے : هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(الحشر:۲۳) ترجمہ: وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ نہایت پاک سلامتی دینے والا امان بخشنے والا حفاظت فرمانے والا عزّت والا عظمت والا تکبر والا اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے. لہذا اس کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر درست ہے. مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ روایت مذکور ہے : حضرت مسروق کہتے ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے رات ایک باغ میں ٹھہرے تو آپ رات کو اٹھے اچھی قرأت کی اور یہ دعا مانگی «اللَّهُمَّ أنْتَ مُؤْمِنٌ تُحِبُّ المُؤْمِنَ، مُهَيْمِنٌ تُحِبُّ المُهَيْمِنَ، سَلامٌ تُحِبُّ السَّلامَ، صادِقٌ تُحِبُّ الصّادِقَ» ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ٧ /١٤١) تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے : قال ابن عباس : إذا كان يوم القيامة أخرج أهل التوحيد من النار . وأول من يخرج من وافق اسمه اسم نبي ، حتى إذا لم يبق فيها من يوافق اسمه اسم نبي قال الله تعالى لباقيهم : أنتم المسلمون وأنا السلام ، وأنتم المؤمنون وأنا المؤمن ، فيخرجهم من النار ببركة هذين الاسمين(تفسیر قرطبی ،سورۃ الحشر، آیت :٢٣) جب کہ مسلمان کا لفظ اللہ تعالیٰ کے اسم یا صفت کے طور سے کتاب وسنت یا اجماع امت سے ثابت نہیں، لہٰذا اس کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر درست نہیں.ہاں! سلام کا لفظ بول سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ “مومن” لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے مندرجہ ذیل دو معانی مراد ہوتے ہیں: ١_تصدیق فرمانے والا، چناں چہ تفسیر جلالین میں ہے : «المؤمن» المصدق رسله بخلق المعجزة لهم. (زیر آیت:٢٣ سورۃ الحشر) ٢_حفاظت فرمانے، بچانے والا، چناں چہ تفسیر ابن کثیر میں ہے: وقوله : ( المؤمن ) قال الضحاك عن ابن عباس : أي أمن خلقه من أن يظلمهم . وقال قتادة : أمن بقوله : إنه حق . وقال ابن زيد : صدق عباده المؤمنين في إيمانهم به.(زیر آیت:٢٣ سورۃ الحشر) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2>اللہ تعالیٰ کو مومن کہنا جائز ہے</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ زید اور بکر کے مابین بحث ہوئی۔۔۔۔ زید کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مؤمن بھی کہہ سکتے ہیں اور مسلمان بھی، اور بکر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف مؤمن کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔ اب دریافت طلب امر یہ کہ ان میں سے کن کا قول درست ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں؟ بینوا توجروا؟ المستفتی محمد توصیف رضا علیمی‌ (کٹیہار) <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات توقیفی ہیں،یعنی اس کو اسی نام یا صفت سے پکارنا جائز ہے جو قرآن کریم، حدیث شریف یا اجماع سے ثابت ہو،چناں چہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے : حضرت حق جلَّ وعلا کو ناطق کہنا جائز نہیں کہ یہ لفظ شرع سے ثابت نہ ہوا ، اسمائے الہٰیہ توقیفیہ ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی جل جلالہ ، کا جواد ہونا اپنا ایمان مگر اسے سخی نہیں کہہ سکتے کہ شرع میں وارد نہیں۔(٢٧/ ١٦٥ کتاب الشتی) فتاوی شارح بخاری میں ہے : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَسما توقیفی ہیں یعنی شریعت نے جن اسما کا اطلاق باری تعالیٰ پر کیا ہے اسی کا اطلاق دُرست اور جن اَسما کا اطلاق نہیں فرمایا ان سے احتراز چاہیے۔“(فتاویٰ شارحِ بخاری،305/1) مومن کا لفظ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے، چناں چہ قرآن مجید میں ہے : هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(الحشر:۲۳) ترجمہ: وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ نہایت پاک سلامتی دینے والا امان بخشنے والا حفاظت فرمانے والا عزّت والا عظمت والا تکبر والا اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے. لہذا اس کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر درست ہے. مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ روایت مذکور ہے : حضرت مسروق کہتے ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے رات ایک باغ میں ٹھہرے تو آپ رات کو اٹھے اچھی قرأت کی اور یہ دعا مانگی «اللَّهُمَّ أنْتَ مُؤْمِنٌ تُحِبُّ المُؤْمِنَ، مُهَيْمِنٌ تُحِبُّ المُهَيْمِنَ، سَلامٌ تُحِبُّ السَّلامَ، صادِقٌ تُحِبُّ الصّادِقَ» ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ٧ /١٤١) تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے : قال ابن عباس : إذا كان يوم القيامة أخرج أهل التوحيد من النار . وأول من يخرج من وافق اسمه اسم نبي ، حتى إذا لم يبق فيها من يوافق اسمه اسم نبي قال الله تعالى لباقيهم : أنتم المسلمون وأنا السلام ، وأنتم المؤمنون وأنا المؤمن ، فيخرجهم من النار ببركة هذين الاسمين(تفسیر قرطبی ،سورۃ الحشر، آیت :٢٣) جب کہ مسلمان کا لفظ اللہ تعالیٰ کے اسم یا صفت کے طور سے کتاب وسنت یا اجماع امت سے ثابت نہیں، لہٰذا اس کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر درست نہیں.ہاں! سلام کا لفظ بول سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ "مومن" لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے مندرجہ ذیل دو معانی مراد ہوتے ہیں: ١_تصدیق فرمانے والا، چناں چہ تفسیر جلالین میں ہے : «المؤمن» المصدق رسله بخلق المعجزة لهم. (زیر آیت:٢٣ سورۃ الحشر) ٢_حفاظت فرمانے، بچانے والا، چناں چہ تفسیر ابن کثیر میں ہے: وقوله : ( المؤمن ) قال الضحاك عن ابن عباس : أي أمن خلقه من أن يظلمهم . وقال قتادة : أمن بقوله : إنه حق . وقال ابن زيد : صدق عباده المؤمنين في إيمانهم به.(زیر آیت:٢٣ سورۃ الحشر) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...