Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1726 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.8K Views

قبر کو پختہ کرنا یا قبر سے پختہ اینٹیں نکالنا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قبر کو پختہ کرنا یا قبر سے پختہ اینٹیں نکالنا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قبر کو پختہ کرنا یا قبر سے پختہ اینٹیں نکالنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسںٔلے میں زید نے اپنے دادا کی قبر کو پختہ کردیا ہے’اب اس کو ہٹانا چاہتاہے قرآن وحدیث سے رہنمائی فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کیجیے۔ المستفتی: محمد توحید رضا علیمی الجوابــــــــــــــــــــــــ پختہ اینٹیں قبر کے اندر میت کے بدن سے کسی طرف متصل لگانا منع ہے اور اوپر اوپر پختہ اینٹیں لگانے یا زمین بہت زیادہ گیلی اور نرم ہونے کی وجہ سے قبر کے اندر بدن سے متصل بھی پختہ اینٹیں لگانے میں حرج نہیں ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ بلا وجہ عام لوگوں کی قبر پختہ نہ بنائی جائے۔ مدقق علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “(وَيُسَوَّى اللَّبِنُ وَالْقَصَبُ لَا الْآجُرُّ) الْمَطْبُوخُ وَالْخَشَبُ لَوْ حَوْلَهُ، أَمَّا فَوْقَهُ فَلَا يُكْرَهُ ابْنُ مَالِكٍ۔” (در مختارمع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة ج٣ص١۴٢) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قَوْلُهُ لَا الْآجُرُّ) بِمَدِّ الْهَمْزَةِ وَالتَّشْدِيدِ أَشْهَرُ مِنْ التَّخْفِيفِ مِصْبَاحٌ. وَقَوْلُهُ الْمَطْبُوخُ صِفَةٌ كَاشِفَةٌ. قَالَ فِي الْبَدَائِعِ: لِأَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ لِلزِّينَةِ ، وَلَا حَاجَةَ لِلْمَيِّتِ إلَيْهَا۔ وَلِأَنَّهُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ، فَيُكْرَهُ أَنْ يُجْعَلَ عَلَى الْمَيِّتِ تَفَاؤُلًا، كَمَا يُكْرَهُ أَنْ يُتْبَعَ قَبْرُهُ بِنَارٍ تَفَاؤُلًا (قَوْلُهُ: لَوْ حَوْلَهُ إلَخْ) قَالَ فِي الْحِلْيَةِ: وَكَرِهُوا الْآجُرَّ وَأَلْوَاحَ الْخَشَبِ. وَقَالَ الْإِمَامُ التُّمُرْتَاشِيُّ: هَذَا إذَا كَانَ حَوْلَ الْمَيِّتِ، فَلَوْ فَوْقَهُ لَا يُكْرَهُ لِأَنَّهُ يَكُونُ عِصْمَةً مِنْ السَّبُعِ. وَقَالَ مَشَايِخُ بُخَارَى: لَا يُكْرَهُ الْآجُرُّ فِي بَلْدَتِنَا لِلْحَاجَةِ إلَيْهِ لِضعْفِ الْأَرَاضِي۔” (رد المحتار ج٣ ص١۴٢) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “قبر پختہ نہ کرنا بہتر ہے ، اور کریں تو اندر سے کڑا کچا رہے، اوپر سے پختہ کرسکتے ہیں، طول وعرض موافق قبرمیّت ہو، اور بلندی ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو، اورصورت ڈھلوان بہتر ہے۔” (فتاوی رضویہ ج۴ ص١٠١) نیز تحریر فرماتے ہیں: “اور قبر پختہ بنانے میں حاصل ارشاد علمائے امجاد رحمہم ﷲ تعالٰی یہ ہے کہ اگر پکی اینٹ میّت کے متصل یعنی اس کے آس پاس کسی جہت میں نہیں کہ حقیقۃً قبر اسی کا نام ہے بلکہ گڑھا کچّا اور بالائے قبر پختہ ہے تو مطلقاً ممانعت نہیں، یہاں تک کہ امامِ اجل فقیہِ مجتہد اسمٰعیل زاہدی نے خاص لحد میں پکی اینٹ پر نص فرمایا جبکہ کچّے چوکے کی تَہ ہواور اپنی قبر مبارک میں یونہی کرنے کی وصیت فرمائی۔ اور متصل میّت ممنوع مکروہ ، مگر جبکہ بضرورت تری ونرمی زمین ہو تو ا س میں بھی حرج نہیں۔” (فتاوی رضویہ ج۴ ص١٩۵) اور اگر کسی نے قبر پختہ کردی ہے تو اگر پختہ کرنے والا اینٹوں کا مالک ہے اپنی اینٹیں نکال سکتا ہے بشرطے کہ کسی طرح میت یا قبر کی بے حرمتی نہ ہو۔لیکن جب کہ پختہ کردیا ہے تو اب اینٹیں نکالنے میں میت یا قبر کی بے حرمتی سے بچ پانا بظاہر دشوار نظر آتا ہے اس لیے اب کو ویسے ہی باقی رہنے دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔٢٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//٢۴/مارچ ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>قبر کو پختہ کرنا یا قبر سے پختہ اینٹیں نکالنا</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسںٔلے میں زید نے اپنے دادا کی قبر کو پختہ کردیا ہے'اب اس کو ہٹانا چاہتاہے قرآن وحدیث سے رہنمائی فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کیجیے۔ المستفتی: محمد توحید رضا علیمی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> پختہ اینٹیں قبر کے اندر میت کے بدن سے کسی طرف متصل لگانا منع ہے اور اوپر اوپر پختہ اینٹیں لگانے یا زمین بہت زیادہ گیلی اور نرم ہونے کی وجہ سے قبر کے اندر بدن سے متصل بھی پختہ اینٹیں لگانے میں حرج نہیں ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ بلا وجہ عام لوگوں کی قبر پختہ نہ بنائی جائے۔ مدقق علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: "(وَيُسَوَّى اللَّبِنُ وَالْقَصَبُ لَا الْآجُرُّ) الْمَطْبُوخُ وَالْخَشَبُ لَوْ حَوْلَهُ، أَمَّا فَوْقَهُ فَلَا يُكْرَهُ ابْنُ مَالِكٍ۔" (در مختارمع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة ج٣ص١۴٢) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ لَا الْآجُرُّ) بِمَدِّ الْهَمْزَةِ وَالتَّشْدِيدِ أَشْهَرُ مِنْ التَّخْفِيفِ مِصْبَاحٌ. وَقَوْلُهُ الْمَطْبُوخُ صِفَةٌ كَاشِفَةٌ. قَالَ فِي الْبَدَائِعِ: لِأَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ لِلزِّينَةِ ، وَلَا حَاجَةَ لِلْمَيِّتِ إلَيْهَا۔ وَلِأَنَّهُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ، فَيُكْرَهُ أَنْ يُجْعَلَ عَلَى الْمَيِّتِ تَفَاؤُلًا، كَمَا يُكْرَهُ أَنْ يُتْبَعَ قَبْرُهُ بِنَارٍ تَفَاؤُلًا (قَوْلُهُ: لَوْ حَوْلَهُ إلَخْ) قَالَ فِي الْحِلْيَةِ: وَكَرِهُوا الْآجُرَّ وَأَلْوَاحَ الْخَشَبِ. وَقَالَ الْإِمَامُ التُّمُرْتَاشِيُّ: هَذَا إذَا كَانَ حَوْلَ الْمَيِّتِ، فَلَوْ فَوْقَهُ لَا يُكْرَهُ لِأَنَّهُ يَكُونُ عِصْمَةً مِنْ السَّبُعِ. وَقَالَ مَشَايِخُ بُخَارَى: لَا يُكْرَهُ الْآجُرُّ فِي بَلْدَتِنَا لِلْحَاجَةِ إلَيْهِ لِضعْفِ الْأَرَاضِي۔" (رد المحتار ج٣ ص١۴٢) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "قبر پختہ نہ کرنا بہتر ہے ، اور کریں تو اندر سے کڑا کچا رہے، اوپر سے پختہ کرسکتے ہیں، طول وعرض موافق قبرمیّت ہو، اور بلندی ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو، اورصورت ڈھلوان بہتر ہے۔" (فتاوی رضویہ ج۴ ص١٠١) نیز تحریر فرماتے ہیں: "اور قبر پختہ بنانے میں حاصل ارشاد علمائے امجاد رحمہم ﷲ تعالٰی یہ ہے کہ اگر پکی اینٹ میّت کے متصل یعنی اس کے آس پاس کسی جہت میں نہیں کہ حقیقۃً قبر اسی کا نام ہے بلکہ گڑھا کچّا اور بالائے قبر پختہ ہے تو مطلقاً ممانعت نہیں، یہاں تک کہ امامِ اجل فقیہِ مجتہد اسمٰعیل زاہدی نے خاص لحد میں پکی اینٹ پر نص فرمایا جبکہ کچّے چوکے کی تَہ ہواور اپنی قبر مبارک میں یونہی کرنے کی وصیت فرمائی۔ اور متصل میّت ممنوع مکروہ ، مگر جبکہ بضرورت تری ونرمی زمین ہو تو ا س میں بھی حرج نہیں۔" (فتاوی رضویہ ج۴ ص١٩۵) اور اگر کسی نے قبر پختہ کردی ہے تو اگر پختہ کرنے والا اینٹوں کا مالک ہے اپنی اینٹیں نکال سکتا ہے بشرطے کہ کسی طرح میت یا قبر کی بے حرمتی نہ ہو۔لیکن جب کہ پختہ کردیا ہے تو اب اینٹیں نکالنے میں میت یا قبر کی بے حرمتی سے بچ پانا بظاہر دشوار نظر آتا ہے اس لیے اب کو ویسے ہی باقی رہنے دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔٢٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//٢۴/مارچ ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...