صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1747 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

وقف کا استعمال خود وقف کرنے والے کے بیان یا قدیم عمل درآمد کے مطابق ہوگا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,896

سوال (Question):

وقف کا استعمال خود وقف کرنے والے کے بیان یا قدیم عمل درآمد کے مطابق ہوگا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

وقف کا استعمال خود وقف کرنے والے کے بیان یا قدیم عمل درآمد کے مطابق ہوگا

السلام علیکم. امید کرتا ہوں کہ خیر و عافیت سے ہوں گے بعدہ عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں محتشم علماء کرام مسئلہ ذیل میں کہ: ہمارے علاقے میں ایک مسجد ہے جس کے وضو خانہ کے اوپر ایک ہال کی تعمیر کی یہ معلوم نہیں ہے کہ کس غرض سے تعمیر کی گئ اور نہ ہی واقف کی نیت معلوم ہے اس میں چند سال قبل بچوں کی تعلیم ہوتی تھی پھر بند ہوگئ اب کچھ لوگ وہاں تعلیم از سرے نو شروع کرنا چاہتے ہیں تو کمیٹی کے بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ ہمیں کرایہ دیں اسے ہم مصالح مسجد میں صرف کریں گے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان کا کرایہ طلب کرنا شرعا درست ہے؟ بینوا وتوجروا. مستفتی: مقبول ہرانتج گجرات الجوابــــــــــــــــــــــ وقف کے بارے میں اصل کلی یہ ہے کہ وقف کرنے والے نے جس کام کے لیے وقف کیا اسی کام میں اس کا استعمال ہوگا اور اگر واقف کی منشا معلوم نہیں ہے تو قدیم سے جس طرح عمل در آمد ہوتا آیا ویسا ہی کیا جائے گا۔ قدیم کا مطلب یہ ہے کہ اس کے آغاز کا پتہ معلوم نہ ہو، اس لیے کہ جب آغاز معلوم نہیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ وقتِ وقف سے ہی ایسا ہوتا چلا آیا ہے۔لیکن اگر یہ علم اور تحقیق ہوجائے کہ وقف کے بعد اگرچہ آج سے پانچ سو سال پہلے فلاں متولی نے من مانی کرتے ہوئے نیا استعمال شروع کیا اور بعد کے تمام متولی بھی اسی پر عمل پیرا رہے تو اس کو قدیم سے عمل در آمد قرار دے کر باقی نہیں رکھا جائے گا۔ اب صورتِ مسئولہ میں اگر یہ معلوم نہیں ہے کہ اس ہال میں بچوں کی تعلیم کب سے ہورہی ہے تو اس میں پرانے عمل درآمد کے مطابق دوبارہ تعلیم شروع کی جائے۔ اگر پہلے اجرت یا کرایہ پر تعلیم ہوتی رہی ہو جس کی آمدنی مسجد میں صرف ہوتی رہی ہو تو اب بھی ویسے ہو اور اگر پہلے بلا اجرت یا بلا کرایہ تعلیم دی جاتی رہی ہو تو اب بھی ایسے ہی کیا جائے۔ غرض وقتِ وقف واقف کی صراحت کے مطابق یا قدیم سے مستمر عمل درآمد پر عمل ہوگا۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “جہاں شرط واقف معلوم نہ ہو عمل درآمد قدیم کا اعتبار ہے۔ خیریہ میں ہے:ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان ان قوامہ کیف کانوایعملون۔ ”قدیم” کے یہ معنی “جس کا حادث ہونا معلوم نہ ہو” ۔ دس بارہ برس یا سو دو سو برس سے جو بات بعدِ واقف بے شرطِ واقف حادث ہوئی حادث ہی ہے، اس پر عمل ناجائز ہے۔ فتح القدیر میں ہے:الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری۔” (فتاوی رضویہ ج٦ ص۴٧٢) اسی میں ہے: “اگر شرائط اصل واقف پر اطلاع نہ ہوتو عمل درآمد قدیم پر نظر ہوگی زید نے جو واجب العرض میں لکھایا اگر اس کے مطابق ہے فبہا، ورنہ اس پر اصلاً لحاظ نہ ہوگا اور قدیم پر عمل رہے گا۔لانہ لیس بواقف ولا الیہ تغییرہ۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:اذا علم حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوّامہ کیف یعملون فیہ و الی من یصرفونہ، فیبنی علی ذٰلک، لان الظاھر انھم کانوا یفعلون ذٰلک علی موافقۃ شرط الواقف وھو المظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذٰلک، وفی انفع الوسائل ذکر فی الذخیرۃ قال سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہ وقدر مایصرف الی مستحقیہ؟ قال ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوّامہ کیف یعملون۔” (فتاوی رضویہ ج ٦ص٣۴٩) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢۴/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh