Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1730 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.2K Views

درآمد شدہ گوشت کا حکم | حلال لکھے ہوئے گوشت کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

درآمد شدہ گوشت کا حکم | حلال لکھے ہوئے گوشت کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

درآمد شدہ گوشت کا حکم | حلال لکھے ہوئے گوشت کا حکم

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے متعلق قطر اور سعودی میں پیک کی ہوئی مرغی جو دوسرے دیش سے آتی ہے مثلا برازیل انڈیا پاکستان اس پر لکھا ہوتا ہے مسلم کے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا ہے طریقہ شریعت اسلامیہ پر ،_یہی ہوتل اور دکان میں ملتی ہے تو کیا ہوٹل میں پکی ہوئی یا بغیر پکی مرغی اہنے روم میں بنا کر کھا سکتے ہیں ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔ از محمد مجیب 18ضلع سریا نیپال حال مقیم سعودی عرب ۔ الجوابـــــــــــــــــــــ گوشت حلال ہونے کے لیے پیکٹ پر اتنا لکھا ہونا ہرگز کافی نہیں کہ “مسلم کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا ہے طریقہ شریعت اسلامیہ پر” یا کچھ لوگ “ذبح علی طریق شرعی” لکھ دیتے ہیں۔ بلکہ گوشت وقتِ ذبح سے وقت خریداری یا کھانے کے وقت تک مسلمان کی نگرانی اور دیکھ ریکھ میں ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ عام طور پر اشیاء میں اگرچہ اصل حکم اباحت یعنی جائز ہونا ہے۔ لیکن گوشت میں اصل حکم حرمت ہے جب تک کہ شرعی طریقہ پر ذبح نہ کر لیا جائے اور وقتِ ذبح سے کھانے کے وقت تک کسی مسلمان کی نگرانی اور تحویل میں نہ ہو۔ اب اگر کسی مسلمان کے گھر یا ہوٹل میں کھانے میں گوشت ہو تو چوں کہ نظر بحالِ مسلم یہ ظن غالب ہوتا ہے کہ یہ گوشت شرعی طریقہ پر ذبح کیے گیے حلال جانور کا ہوگا اور اس میں کوئی وجہ حرمت نہیں ہوگی اس لیے اس کا کھانا جائز ہوتا ہے، لیکن جس جگہ کے بارے میں تحقیق اور معلوم ہو کہ یہاں گھروں اور ہوٹلوں میں باہر سے گوشت پیک شکل میں آتا ہے اور اس کے بھیجنے اور لانے والوں کو یہ لحاظ نہیں ہوتا کہ مسلمان کی دکان سے حلال جانور کا گوشت لایا جائے اور نہ ہی یہ التزام ہوتا ہے کہ وقت ذبح سے مسلمان کے خریدنے یا کھانے تک لگاتار مسلمان ہی کی نگرانی اور دیکھ ریکھ میں رہے۔ تو ایسے گوشت کا کھانا حلال نہ ہوگا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “ہاں اگر وقت ذبح سے وقت خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو، اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا جائز اور کھانا حلال ہوگا۔” واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢۴/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢٦/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>درآمد شدہ گوشت کا حکم | حلال لکھے ہوئے گوشت کا حکم</h2> السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے متعلق قطر اور سعودی میں پیک کی ہوئی مرغی جو دوسرے دیش سے آتی ہے مثلا برازیل انڈیا پاکستان اس پر لکھا ہوتا ہے مسلم کے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا ہے طریقہ شریعت اسلامیہ پر ،_یہی ہوتل اور دکان میں ملتی ہے تو کیا ہوٹل میں پکی ہوئی یا بغیر پکی مرغی اہنے روم میں بنا کر کھا سکتے ہیں ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔ از محمد مجیب 18ضلع سریا نیپال حال مقیم سعودی عرب ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> گوشت حلال ہونے کے لیے پیکٹ پر اتنا لکھا ہونا ہرگز کافی نہیں کہ "مسلم کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا ہے طریقہ شریعت اسلامیہ پر" یا کچھ لوگ "ذبح علی طریق شرعی" لکھ دیتے ہیں۔ بلکہ گوشت وقتِ ذبح سے وقت خریداری یا کھانے کے وقت تک مسلمان کی نگرانی اور دیکھ ریکھ میں ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ عام طور پر اشیاء میں اگرچہ اصل حکم اباحت یعنی جائز ہونا ہے۔ لیکن گوشت میں اصل حکم حرمت ہے جب تک کہ شرعی طریقہ پر ذبح نہ کر لیا جائے اور وقتِ ذبح سے کھانے کے وقت تک کسی مسلمان کی نگرانی اور تحویل میں نہ ہو۔ اب اگر کسی مسلمان کے گھر یا ہوٹل میں کھانے میں گوشت ہو تو چوں کہ نظر بحالِ مسلم یہ ظن غالب ہوتا ہے کہ یہ گوشت شرعی طریقہ پر ذبح کیے گیے حلال جانور کا ہوگا اور اس میں کوئی وجہ حرمت نہیں ہوگی اس لیے اس کا کھانا جائز ہوتا ہے، لیکن جس جگہ کے بارے میں تحقیق اور معلوم ہو کہ یہاں گھروں اور ہوٹلوں میں باہر سے گوشت پیک شکل میں آتا ہے اور اس کے بھیجنے اور لانے والوں کو یہ لحاظ نہیں ہوتا کہ مسلمان کی دکان سے حلال جانور کا گوشت لایا جائے اور نہ ہی یہ التزام ہوتا ہے کہ وقت ذبح سے مسلمان کے خریدنے یا کھانے تک لگاتار مسلمان ہی کی نگرانی اور دیکھ ریکھ میں رہے۔ تو ایسے گوشت کا کھانا حلال نہ ہوگا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "ہاں اگر وقت ذبح سے وقت خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو، اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا جائز اور کھانا حلال ہوگا۔" واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢۴/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ٢٦/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...