Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1734
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.7K Views
قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں اشتباہ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں اشتباہ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں اشتباہ
مفتیان کرام کی بارگاہ میں : مغرب کی نماز میں امام کو قعدۂ اخیرہ میں اشتباہ ہوا آیا یہ قعدۂ اولی ہے یا اخیرہ ؟ اشتباہ کو دور کرنے کے لیے امام نے فیصلہ کیا کہ تکبیر کہتا ہوں اگر قعدہ اخیرہ ہوگی تو لقمہ ضرور ملے گا ، اگر لقمہ نہیں ملا تو مطلب کہ ہم قعدہ اولی میں تھے ۔ جیسے ہی امام اللہ اکبر کہہ کر کھڑے ہونے لگے کسی نے لقمہ دیا تو امام صاحب تو بیٹھ گئے مگر کچھ مقتدی سجدے میں چلے گئے ، اور جب تک امام صاحب نے سلام نہیں کہا تب تک وہ سجدے میں رہے ۔ صورت مذکورہ میں امام صاحب کی نماز کا حکم اور سجدے میں پڑے رہنے والے مقتدیوں کی نماز کا حکم بیان فرماکر ماجور ہوں ۔ الجوابــــــــــــــــــ امام اور مقتدی سب کی نماز ہوگئی، لیکن اگر امام نے تشہد کے بعد ایک رکن (یعنی: تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے) کی مقدار وقت خاموش رہ کر سوچنے میں گزار دیا ہو اور اس کے بعد تکبیر کہی ہو تو سجدہ سہو واجب ہوگیا۔ یوں ہی اگر سیدھا کھڑا ہوجانے یا قیام سے زیادہ قریب ہونے کے بعد بیٹھا ہو تو بھی سجدہ سہو لازم ہوگیا۔ ان صورتوں میں داہنی طرف سلام پھیر کر سجدہ سہو کرے اور پھر تشہد اور درود و دعا پڑھنے کے بعد سلام پھیرے۔ اور اگر کھڑا ہونے کے قریب ہونے سے پہلے لوٹا اور ایک رکن کی مقدار خاموش ہوکر سوچنا بھی نہ پایا گیا ہو تو سجدہ سہو لازم نہیں۔ اب جن صورتوں میں سجدہ سہو لازم ہے اگر سجدہ سہو کرلیا تو نماز فرائض اور واجبات ہر اعتبار سے مکمل ہوگئی اور اگر سجدہ سہو نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ اور وہ مقتدی جو سجدہ میں چلے گیے ان کی بھی نماز ہوگئی، یعنی فرض ادا ہوگیا۔اب اگر وہ سب بھی سلام پھیر کر ہی نماز سے باہر ہوئے ہوں اور امام پر سجدہ سہو ہونے کی صورت میں انھوں نے بھی سجدہ سہو کرلیا ہو تو ان کی نماز کے واجبات بھی ادا ہوگیے۔اور اگر بغیر سلام پھیرے نماز سے باہر ہوئے ہوں یا امام پر سجدہ سہو ہونے کی صورت میں سجدہ سہو نہ کیا ہو تو نماز دہرانا واجب ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ” ” وكذا إذا قام إلى الخامسة قبل أن يقعد قدر التشهد أو بعد ما قعد وعاد، سجد للسهو؛ لوجود تأخير الفرض عن وقته الأصلي، وهو القعدة الأخيرة ، أو تأخير الواجب، وهوالسلام .” (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ج١ ص١۴٩) بہار شریعت میں ہے: “تشہد کے بعد یہ شک ہوا کہ تین ہوئیں یا چار اور ایک رکن کی قدر خاموش رہا اور سوچتا رہا، پھر یقین ہوا کہ چار ہوگئیں تو سجدۂ سہو واجب ہے اور اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد ایسا ہوا تو کچھ نہیں۔” (بہار شریعت ح۴ص٧٢۴) اسی میں ہے: “امام نماز پڑھا رہا ہے دوسری میں شک ہوا کہ پہلی ہے یا دوسری، یا چوتھی اور تیسری میں شک ہوا اور مقتدیوں کی طرف نظر کی کہ وہ کھڑے ہوں تو کھڑا ہوجاؤں بیٹھیں تو بیٹھ جاؤں تو اس میں حرج نہیں اور سجدۂ سہو واجب نہ ہوا۔” (بہار شریعت ح۴ ص٧٢۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢/شوال المکرم ١۴۴٣ھ// ۴/مئی ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں اشتباہ</h2> مفتیان کرام کی بارگاہ میں : مغرب کی نماز میں امام کو قعدۂ اخیرہ میں اشتباہ ہوا آیا یہ قعدۂ اولی ہے یا اخیرہ ؟ اشتباہ کو دور کرنے کے لیے امام نے فیصلہ کیا کہ تکبیر کہتا ہوں اگر قعدہ اخیرہ ہوگی تو لقمہ ضرور ملے گا ، اگر لقمہ نہیں ملا تو مطلب کہ ہم قعدہ اولی میں تھے ۔ جیسے ہی امام اللہ اکبر کہہ کر کھڑے ہونے لگے کسی نے لقمہ دیا تو امام صاحب تو بیٹھ گئے مگر کچھ مقتدی سجدے میں چلے گئے ، اور جب تک امام صاحب نے سلام نہیں کہا تب تک وہ سجدے میں رہے ۔ صورت مذکورہ میں امام صاحب کی نماز کا حکم اور سجدے میں پڑے رہنے والے مقتدیوں کی نماز کا حکم بیان فرماکر ماجور ہوں ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــ</strong></span> امام اور مقتدی سب کی نماز ہوگئی، لیکن اگر امام نے تشہد کے بعد ایک رکن (یعنی: تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے) کی مقدار وقت خاموش رہ کر سوچنے میں گزار دیا ہو اور اس کے بعد تکبیر کہی ہو تو سجدہ سہو واجب ہوگیا۔ یوں ہی اگر سیدھا کھڑا ہوجانے یا قیام سے زیادہ قریب ہونے کے بعد بیٹھا ہو تو بھی سجدہ سہو لازم ہوگیا۔ ان صورتوں میں داہنی طرف سلام پھیر کر سجدہ سہو کرے اور پھر تشہد اور درود و دعا پڑھنے کے بعد سلام پھیرے۔ اور اگر کھڑا ہونے کے قریب ہونے سے پہلے لوٹا اور ایک رکن کی مقدار خاموش ہوکر سوچنا بھی نہ پایا گیا ہو تو سجدہ سہو لازم نہیں۔ اب جن صورتوں میں سجدہ سہو لازم ہے اگر سجدہ سہو کرلیا تو نماز فرائض اور واجبات ہر اعتبار سے مکمل ہوگئی اور اگر سجدہ سہو نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ اور وہ مقتدی جو سجدہ میں چلے گیے ان کی بھی نماز ہوگئی، یعنی فرض ادا ہوگیا۔اب اگر وہ سب بھی سلام پھیر کر ہی نماز سے باہر ہوئے ہوں اور امام پر سجدہ سہو ہونے کی صورت میں انھوں نے بھی سجدہ سہو کرلیا ہو تو ان کی نماز کے واجبات بھی ادا ہوگیے۔اور اگر بغیر سلام پھیرے نماز سے باہر ہوئے ہوں یا امام پر سجدہ سہو ہونے کی صورت میں سجدہ سہو نہ کیا ہو تو نماز دہرانا واجب ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: " " وكذا إذا قام إلى الخامسة قبل أن يقعد قدر التشهد أو بعد ما قعد وعاد، سجد للسهو؛ لوجود تأخير الفرض عن وقته الأصلي، وهو القعدة الأخيرة ، أو تأخير الواجب، وهوالسلام ." (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ج١ ص١۴٩) بہار شریعت میں ہے: "تشہد کے بعد یہ شک ہوا کہ تین ہوئیں یا چار اور ایک رکن کی قدر خاموش رہا اور سوچتا رہا، پھر یقین ہوا کہ چار ہوگئیں تو سجدۂ سہو واجب ہے اور اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد ایسا ہوا تو کچھ نہیں۔" (بہار شریعت ح۴ص٧٢۴) اسی میں ہے: "امام نماز پڑھا رہا ہے دوسری میں شک ہوا کہ پہلی ہے یا دوسری، یا چوتھی اور تیسری میں شک ہوا اور مقتدیوں کی طرف نظر کی کہ وہ کھڑے ہوں تو کھڑا ہوجاؤں بیٹھیں تو بیٹھ جاؤں تو اس میں حرج نہیں اور سجدۂ سہو واجب نہ ہوا۔" (بہار شریعت ح۴ ص٧٢۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢/شوال المکرم</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ۴/مئی ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...