Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1738
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.2K Views
علماے دین کی توہین کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
علماے دین کی توہین کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
علماے دین کی توہین کا حکم
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُحضر ت طبیعت کیسی ہے بعد عرض خد مت یہ کی اگر کوی۶ شخص یہ کہے کی ہم رنڈی کی ناچ کر وا۶ںین گے اور اگر مو لا نا لوگ بولیں گےتو داڑھی میں پیشا ب کردیں گے تواس کے یھاں کھا نا اورمیلاد پڑ ھنا کیساہے قران وحدیث کے مطابق ارشاد فرما۶یں طالب محمد علی قادری الجواب بعون الملک الوھاب. زید نے تین سنگین جرم کاارتکاب کیا ہے(١) علمائے دین کی توہین کی ہے اور علمائے دین کی توہین کفر ہے۔ (٢) داڑھی کی توہین کی ہے۔داڑھی سنت رسول علیہ السلام اور شعائر اسلام میں سے ہے، علماے کرام اور فقہاے عظام نے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب قرار دیا ہے، لہٰذا شخص مذکور داڑھی کے استخفاف اور سنت رسول کی توہین کی نیت سے اگر مذکورہ قول کیا ہے تو وہ ایمان سے خارج ہے، اس پر توبہ تجدید ایمان، شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح لازم ہے، اگر نہ کرے تو اس کے گھر کھانا، میلاد پڑھنا ناجائز ہے. فتاوی عالمگیری میں ہے : إن کان تہاوٴنا بالسنة یکفر۔ (فتاوی عالمگیری: ٢/ ٢٦٥) فتاوی رضویہ میں ہے : یہ (داڑھی) سنَن سے ہے اور اس کی سنیت قطعی الثبوت ، ایسی سنت کی تو ہین و تحقیر اور اس کے اِتباع پر اِستہزا(ہنسی مذاق) بالاجماع کُفر۔ عورت اس کے نکاح سے نِکل جائے گی اور بعد اس کے جو بچّے ہوں گے اولادِ حرام ہوں گے،اہلِ اسلام کو اس سے معاملۂ کفّار برتنا لازِم ، بعدِمرگ اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں اور مَقابرِ مسلمین(یعنی مسلمانوں کے قبرستان)میں دَفن نہ کریں بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس جنازۂ ناپاک کی تذلیل کریں کہ اس نے ایسے عزّت والے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی سُنَّت کو ذلیل سمجھا ۔ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہ ۔ (فتاویٰ رضویہ ،۲۲/۵۷۴) ہاں اگر اس نے لڑائی جھگڑے میں مذکورہ قول کیا ہے تو ایسا کہنا حرام ہے،اس صورت میں بھی اس پر توبہ و استغفار ہے، تجدید ایمان وغیرہ کی ضرورت نہیں. فتاوی شارح بخاری میں : فتاویٰ شارح بخاری میں ہے : داڑھی کی توہین اس نیت سے کرنا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اسلام کے شعار میں سے ہے تو کفر ہے. لیکن لڑائی جھگڑنے میں پکڑ لینا، نوچ لینا یا داڑھی کو لیکر کوئی سخت کلمہ کہنا کفر نہیں حرام ضرور ہے (ج ٢ ص ٣٥٩ ط :دائرة البرکات) (٣)اسی طرح سے اس کا قول کہ ہم رنڈی کا ناچ کروائیں گے یہ بھی نہایت شنیع اور علی الاعلان گناہ پر سخت جرات و جسارت ہے۔زید نے جس طرح زید نے علی الاعلان یہ سب بکواس کیا ہے اسی طرح علی الاعلان توبہ کرے اور احتیاطا تجدید ایمان و نکاح بھی کرے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٦شوال ١٤٤٣/ ٨ مئی ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>علماے دین کی توہین کا حکم</h2> اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُحضر ت طبیعت کیسی ہے بعد عرض خد مت یہ کی اگر کوی۶ شخص یہ کہے کی ہم رنڈی کی ناچ کر وا۶ںین گے اور اگر مو لا نا لوگ بولیں گےتو داڑھی میں پیشا ب کردیں گے تواس کے یھاں کھا نا اورمیلاد پڑ ھنا کیساہے قران وحدیث کے مطابق ارشاد فرما۶یں طالب محمد علی قادری <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب.</strong></span> زید نے تین سنگین جرم کاارتکاب کیا ہے(١) علمائے دین کی توہین کی ہے اور علمائے دین کی توہین کفر ہے۔ (٢) داڑھی کی توہین کی ہے۔داڑھی سنت رسول علیہ السلام اور شعائر اسلام میں سے ہے، علماے کرام اور فقہاے عظام نے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب قرار دیا ہے، لہٰذا شخص مذکور داڑھی کے استخفاف اور سنت رسول کی توہین کی نیت سے اگر مذکورہ قول کیا ہے تو وہ ایمان سے خارج ہے، اس پر توبہ تجدید ایمان، شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح لازم ہے، اگر نہ کرے تو اس کے گھر کھانا، میلاد پڑھنا ناجائز ہے. فتاوی عالمگیری میں ہے : إن کان تہاوٴنا بالسنة یکفر۔ (فتاوی عالمگیری: ٢/ ٢٦٥) فتاوی رضویہ میں ہے : یہ (داڑھی) سنَن سے ہے اور اس کی سنیت قطعی الثبوت ، ایسی سنت کی تو ہین و تحقیر اور اس کے اِتباع پر اِستہزا(ہنسی مذاق) بالاجماع کُفر۔ عورت اس کے نکاح سے نِکل جائے گی اور بعد اس کے جو بچّے ہوں گے اولادِ حرام ہوں گے،اہلِ اسلام کو اس سے معاملۂ کفّار برتنا لازِم ، بعدِمرگ اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں اور مَقابرِ مسلمین(یعنی مسلمانوں کے قبرستان)میں دَفن نہ کریں بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس جنازۂ ناپاک کی تذلیل کریں کہ اس نے ایسے عزّت والے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی سُنَّت کو ذلیل سمجھا ۔ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہ ۔ (فتاویٰ رضویہ ،۲۲/۵۷۴) ہاں اگر اس نے لڑائی جھگڑے میں مذکورہ قول کیا ہے تو ایسا کہنا حرام ہے،اس صورت میں بھی اس پر توبہ و استغفار ہے، تجدید ایمان وغیرہ کی ضرورت نہیں. فتاوی شارح بخاری میں : فتاویٰ شارح بخاری میں ہے : داڑھی کی توہین اس نیت سے کرنا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اسلام کے شعار میں سے ہے تو کفر ہے. لیکن لڑائی جھگڑنے میں پکڑ لینا، نوچ لینا یا داڑھی کو لیکر کوئی سخت کلمہ کہنا کفر نہیں حرام ضرور ہے (ج ٢ ص ٣٥٩ ط :دائرة البرکات) (٣)اسی طرح سے اس کا قول کہ ہم رنڈی کا ناچ کروائیں گے یہ بھی نہایت شنیع اور علی الاعلان گناہ پر سخت جرات و جسارت ہے۔زید نے جس طرح زید نے علی الاعلان یہ سب بکواس کیا ہے اسی طرح علی الاعلان توبہ کرے اور احتیاطا تجدید ایمان و نکاح بھی کرے۔ واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی </strong></span><span style="color: #339966;"><strong>دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٦شوال ١٤٤٣/ ٨ مئی ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...