01
The questionSawaal
اصل سوالنکاح کے نذرانہ کا حق دار کون از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
02
The responseAl-Jawab
نکاح کے نذرانہ کا حق دار کون
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بعدی عرض ہے کہ دارالعلوم میں چار مدرس ہیں اس میں ایک امام خاص اور ایک نائب امام ہیں گاؤں میں کوئی بھی نکاح خوانی ہوتی تھی تو اس کا نذرانہ چاروں اسٹاف میں تقسیم ہوتا تھا، لیکن اب جو امام آئے ہیں وہ نکاح خوانی کا نذرانہ کسی کو نہیں دینا چاہتے ہیں، ضد پر اڑے ہیں کہ میرا سب ہے، صورت مسئلہ میں کس کس کو دیا جائے گا اور شریعت کا کیا حکم ہے ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ فقط السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سائل : مولانا ریاض احمد رضوی صاحب مدرس دارالعلوم ھذا الجوابـــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں نکاح کا نذرانہ دینے والا جو کہہ کر دے اسی کی بات کا اعتبار ہوگا۔ اب اگر وہ نذرانہ خاص نکاح پڑھانے والے کو دیتا ہے تو دوسرے مدرسین کا اس میں حق نہیں ہے، اب اگر وہ نکاح پڑھانے والا خود اپنی خوشی سے دیگر مدرسین کو بھی دیدے تو ایسا کرسکتا ہے۔ ہاں! اگر یہ معہود اور مشہور ہو کہ یہاں نکاح میں جو نذرانہ دیا جاتا ہے وہ سب مدرسین میں برابر برابر تقسیم ہوتا ہے اور نکاح کا نذرانہ دینے والے کو اس عادتِ معروفہ کا علم بھی ہو تو ایسی صورت میں اس نذرانے میں مدرسہ کے تمام مدرسین برابر کے حق دار ہوں گے، لیکن اس صورت میں بھی اگر نذرانہ دینے والے نے نکاح پڑھانے والے سے صراحةً کہہ دیا کہ نذرانہ صرف آپ کا ہے تو اگرچہ وہاں پہلے سے برابر برابر تقسیم کی عادتِ معروفہ جاری ہو تنہا نکاح پڑھانے والا ہی اس نذرانہ کا مالک ہوگا، دیگر مدرسین کا اس میں حصہ نہ ہوگا۔ وذلک لان القاعدة المعلومة التی تفرع علیہا کثیر من الجزئیات والفروع الفقہیة ان المعہود عرفا کالمشروط، وقد نص الفقہاء العظام فی غیر موضع ان الصراحة تفوق الدلالة۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/شوال المکرم١۴۴٣ھ// ٩/مئی ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.