Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1743
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.7K Views
کوئی سنی اپنی بیٹی کا نکاح کسی وہابی دیوبندی سے کروائے تو کیا حکم ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کوئی سنی اپنی بیٹی کا نکاح کسی وہابی دیوبندی سے کروائے تو کیا حکم ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کوئی سنی اپنی بیٹی کا نکاح کسی وہابی دیوبندی سے کروائے تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ چند دن پہلے زید کی لڑکی ہندہ کی منگنی بکر کے لڑ کے حامد سے ہونے جارہی تھی اور اس موقع پر زید نے مجھے بھی دعوت دی تھی۔ بکر اپنے ساتھ چند آدمیوں کو لایا ان میں بکر کا داماد جو کہ ایک وہابی دیوبندی مولوی ہے وہ بھی تھا میں نے زید کو بتایا کہ بکرکی رشتہ داری ایک وہابی دیوبندی سے ہے اور وہابی دیوبندی اللہ تعالی و رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ سلم کی بارگاہ کے گستاخ اور بے ادب ہیں جس کی بنا پر علمائے عرب و عجم نے ان کے کافر ومرتد ہونے کا فتوی دیا ہے اور میں نے زید و بکر و حامد وغیرہ کو وہابیوں دیوبندیوں کے عقائد کفریہ سے مطلع بھی کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ ہم نے یہ بھی بتادیا کہ اپنے وہابیوں دیوبندیوں مولویوں کو بلا لو ہم ان کے سامنے ان کے پیشواؤں کی ﷲ تعالی و رسول الله صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخیاں اوربے ادبیاں دکھائیں گے۔ اگر وہ کہہ دیں کہ یہ کافر و مرتد ہیں تو ہم آپ کو سنی مان لیں گے لیکن بکر اور اسکے بیٹے اس کے لئے تیار نہ ہوئے اور اپنے دیوبندی مولوی کے بارے میں یہی کہتے رہے کہ یہ وہابی نہیں ہے بلکہ سنی ہے مذکورہ باتیں ہونے کے بعد زید نے اس بات کا اقرار بھی کرلیا کہ اب میں وہابیوں سے رشتہ داری نہیں کروں گا یہ تو کافر ومرتد ہیں۔ ان دنوں میں معلوم ہوا ہے کہ زید اپنی بیٹی کی شادی بکر کے بیٹے حامد ہی سے کروا رہا ہے۔ اور شادی کے کارڈ بھی بانٹ چکا ہے۔ شادی کو چند ہی دن رہ گئے ہیں ، اب قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری یہ رہنمائی فرمائیں کہ زید کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: سید محمد عارف شاه ابن سید محمد حیدرشاه خطیب وامام جامع مسجد چھڑنگ، تھنہ منڈی ، راجوری ، جموں و کشمیر باسمه تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوهاب: وہابی دیوبندی یا تو براہ راست اللہ تعالی ورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے کی وجہ سے کافر ومرتد ہیں یا طواغیت اربعہ یعنی: رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد امبیٹھوی، قاسم نانوتوی، اشرف علی تھانوی کو اپنا امام و پیشوا ماننے کی وجہ سے کافر ہیں جن کی کفریہ عبارات کی وجہ سے علمائے عرب و عجم نے ان کو کافر و مرتد قراردیا ہے بلکہ یہاں تک فرمادیا کہ جو (ان کے عقائد باطلہ پر مطلع ہونے کے بعد)ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی انھیں کی طرح کافر ومرتد ہے۔ وہابیوں دیوبندیوں کی وہ کفریہ عقائد و عبارات یہ ہیں۔ مثلا وہابیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذاللہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم شیطان اور ملک الموت کو ہے- اور حضور علیہ السلام کے لیے شیطان کے برابر علم ماننا شرک کرنا ہے۔ جیسا کہ اسی گروہ کے ایک مولوی خلیل احمد انبھیٹوی نے لکھا ہے اور جس کی تصدیق و تائید رشید احمد گنگوہی نے کی: “شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر عالم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو ردکر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے” (براہین قاطعہ ص ۵۱ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند) اور یہ عقیدہ ہے کہ معاذاللہ ثم معاذاللہ حضور صلى اللہ تعالى علیه وسلم آخری نبی نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد دوسرا نبی آسکتا ہے جبکہ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا۔ دیوبندی جماعت کے سرغنہ مولوی قاسم نانوتوی نے لکھا ہے: “بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ تعالى علیه وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے” ( تحذیرالناس ص ۴۳ / دار الکتاب دیوبند یوپی ) اور یہ عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ جیسا علم غیب حضورصلی اللہ تعالى علیه وسلم کو ہے ایساعلم غیب تو زید وعمر بلکہ ہر بچے بلکہ پاگلوں اور جانوروں کو بھی حاصل ہے- دیوبندیوں کے حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے: “آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو در یافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یاکل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اسمیں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید وعمر بلکہ ہرصبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے” ( حفظ الایمان ص ۱۵/دار الکتاب دیوبند، یوپی) ہم نے یہاں اختصار کے پیش نظر وہابیوں دیوبندیوں کے وہ کفری اقوال نقل کیے ہیں جن پر علمائے عرب وعجم نے ان کے کافر ہونے کا فتوی دیا اور جو ان کے کفری اقوال سے آگاہ اور باخبر ہونے کے بعد ان کے کفر میں شک کرے اس کے کفر کا بھی فتوی دیا۔(تفصیل کے لیے حسام الحرمین اور المستند المعتمد دیکھیں) ورنہ تو ان کی اور بہت سی گستاخانہ عبارتیں ہیں- اب جب وہابی دیو بندی کافر ومرتد ہیں اور کافر ومرتد کا حکم شریعت مطہرہ میں یہ ہے کہ مرتد کا نکاح کسی سے بھی نہیں ہوسکتا نہ خود مرتد ومرتدہ کا آپس میں اور نہ مسلمان و مرتد کا ایک دوسرے سے لہذا صورت مسئولہ میں جبکہ امام صاحب نے بکر اور اس کے بیٹے حامد وغیرہ کو وہابیوں دیوبندیوں کے عقائد کفریہ سے واقف کرادیا تو اگر پھر بھی وہ وہابی دیوبندی مولوی کو مسلمان سمجھتے ہوں تو وہ بھی کافر و مرتد ہیں ایسی صورت میں ہندہ کا نکاح حامد سے نہیں ہوسکتا، اور اگر یہ نکاح ہوا تو اس کا وبال زید پر ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو زنا کے لیے پیش کر رہا ہے- فتاوی عالمگیری میں ہے ” لایجوز للمرتد أن یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا کافرة اصلیة و کذالک لا یجوز نكاح المرتدة مع احد کذا فی المبسوط” ( ج ۱ ص ۲۸۲) مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے “ولا یصح تزوج المرتد ولا المرتدة احدا من المسلمين لاجماع الصحابة رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین” ( ج ۱ ص ۵۴۸ ) اور زید کے بارے میں حکم شرع یہی ہے کہ وہ وہابی کے ساتھ رشتہ داری سے باز آئے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مسمانوں کو چاہیے کہ وہ زید کا مکمل بائیکاٹ کریں اس کے ساتھ میل جول اور ہر وہ امر جومودت ومحبت پر دلالت کرے ہرگز نہ رکھیں- اللہ رب العزت فرماتا ہے “ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار( سورہ ھود: آیت: ۱۱۳ ) ترجمہ:- “اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ کہیں تمہیں آگ چھوئے گی” ( کنزالایمان ) اور فرماتا ہے “واماینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین” (سورہ انعام: آیت: ۹۸) ترجمہ:- “اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ” ( کنزالایمان ) حضور صلی اللہ تعالى عليه وسلم فرماتے ہیں: “ان مرضو فلا تعودوھم و ان ماتوا فلا تشھدوهم وان لقیتموھم فلا تسلموا عليهم ولا تجالسوھم ولاتشاربوھم و تواکلوھم ولا تناکحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معھم” (یعنی بد مذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مرجائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو ،ان سے ملاقات ہوتو ان سے سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو ،ان کے ساتھ پانی نہ پیو ، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو) یہ حدیث مسلم، ابو داؤد ،ابن ماجہ،عقیلی اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے (انوار الحدیث ص ۷۵) رہی یہ بات کہ بکر اور اس کے بیٹے اپنے آپکو اور اس وہابی دیوبندی مولوی کوسنی کہتے ہیں تو یہ بد مذہبوں کی پرانی عادت ہے کہ جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جب اپنے شیاطین کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں آج کل بد مذہب اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر تے ہیں۔ آزمائش کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ دیوبندیوں کے پیشواوں کو اوپر ذکردہ کفری اقوال کی بنا پر نام لے لے کر علی الاعلان کافر کہدیں تو ان کو سنی سمجھا جائے اور اگر ان کا نام لے کر علی الاعلان کافر کہنے میں وہ پس وپیش کریں تو ایسے لوگ سخت مشتبہ ہیں اور ایسے کے یہاں شادی بیاہ سے احتراز و اجتناب از حد لازم ہے۔ اور اگر ان کے کفری اقوال سے آگہی کے بعد ان کی تکفیر سے صاف انکار کریں تب تو وہ بھی کافر ہیں۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے “واذا لقوا الذین امنو قالوا آمنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالو انا معکم ( سورہ بقرہ، آیت ۱۴) ترجمہ:- “اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں” ( کنزالایمان ) حضور صلی اللہ تعالی علیه وسلم فرماتے ہیں “فایاکم وایاهم لایضلونکم ولایفتنونکم”( مقدمہ صحیح مسلم ج ا ص۱۲/ باب النھی عن الروایة عن الضعغاء والاحتياط في تحملھا /المكتبة الاسلامية) (یعنی بد مذہبوں سے دور رہو اور انکو اپنے سے دور رکھو کہ کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اورفتنہ میں نہ ڈال د یں)۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ،پلانگڑ،تھنہ منڈی، راجوری جموں وکشمیر الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h3>کوئی سنی اپنی بیٹی کا نکاح کسی وہابی دیوبندی سے کروائے تو کیا حکم ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ چند دن پہلے زید کی لڑکی ہندہ کی منگنی بکر کے لڑ کے حامد سے ہونے جارہی تھی اور اس موقع پر زید نے مجھے بھی دعوت دی تھی۔ بکر اپنے ساتھ چند آدمیوں کو لایا ان میں بکر کا داماد جو کہ ایک وہابی دیوبندی مولوی ہے وہ بھی تھا میں نے زید کو بتایا کہ بکرکی رشتہ داری ایک وہابی دیوبندی سے ہے اور وہابی دیوبندی اللہ تعالی و رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ سلم کی بارگاہ کے گستاخ اور بے ادب ہیں جس کی بنا پر علمائے عرب و عجم نے ان کے کافر ومرتد ہونے کا فتوی دیا ہے اور میں نے زید و بکر و حامد وغیرہ کو وہابیوں دیوبندیوں کے عقائد کفریہ سے مطلع بھی کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ ہم نے یہ بھی بتادیا کہ اپنے وہابیوں دیوبندیوں مولویوں کو بلا لو ہم ان کے سامنے ان کے پیشواؤں کی ﷲ تعالی و رسول الله صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخیاں اوربے ادبیاں دکھائیں گے۔ اگر وہ کہہ دیں کہ یہ کافر و مرتد ہیں تو ہم آپ کو سنی مان لیں گے لیکن بکر اور اسکے بیٹے اس کے لئے تیار نہ ہوئے اور اپنے دیوبندی مولوی کے بارے میں یہی کہتے رہے کہ یہ وہابی نہیں ہے بلکہ سنی ہے مذکورہ باتیں ہونے کے بعد زید نے اس بات کا اقرار بھی کرلیا کہ اب میں وہابیوں سے رشتہ داری نہیں کروں گا یہ تو کافر ومرتد ہیں۔ ان دنوں میں معلوم ہوا ہے کہ زید اپنی بیٹی کی شادی بکر کے بیٹے حامد ہی سے کروا رہا ہے۔ اور شادی کے کارڈ بھی بانٹ چکا ہے۔ شادی کو چند ہی دن رہ گئے ہیں ، اب قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری یہ رہنمائی فرمائیں کہ زید کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: سید محمد عارف شاه ابن سید محمد حیدرشاه خطیب وامام جامع مسجد چھڑنگ، تھنہ منڈی ، راجوری ، جموں و کشمیر باسمه تعالی و تقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوهاب:</strong> </span> وہابی دیوبندی یا تو براہ راست اللہ تعالی ورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے کی وجہ سے کافر ومرتد ہیں یا طواغیت اربعہ یعنی: رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد امبیٹھوی، قاسم نانوتوی، اشرف علی تھانوی کو اپنا امام و پیشوا ماننے کی وجہ سے کافر ہیں جن کی کفریہ عبارات کی وجہ سے علمائے عرب و عجم نے ان کو کافر و مرتد قراردیا ہے بلکہ یہاں تک فرمادیا کہ جو (ان کے عقائد باطلہ پر مطلع ہونے کے بعد)ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی انھیں کی طرح کافر ومرتد ہے۔ وہابیوں دیوبندیوں کی وہ کفریہ عقائد و عبارات یہ ہیں۔ مثلا وہابیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذاللہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم شیطان اور ملک الموت کو ہے- اور حضور علیہ السلام کے لیے شیطان کے برابر علم ماننا شرک کرنا ہے۔ جیسا کہ اسی گروہ کے ایک مولوی خلیل احمد انبھیٹوی نے لکھا ہے اور جس کی تصدیق و تائید رشید احمد گنگوہی نے کی: "شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر عالم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو ردکر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے" (براہین قاطعہ ص ۵۱ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند) اور یہ عقیدہ ہے کہ معاذاللہ ثم معاذاللہ حضور صلى اللہ تعالى علیه وسلم آخری نبی نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد دوسرا نبی آسکتا ہے جبکہ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا۔ دیوبندی جماعت کے سرغنہ مولوی قاسم نانوتوی نے لکھا ہے: "بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ تعالى علیه وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے" ( تحذیرالناس ص ۴۳ / دار الکتاب دیوبند یوپی ) اور یہ عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ جیسا علم غیب حضورصلی اللہ تعالى علیه وسلم کو ہے ایساعلم غیب تو زید وعمر بلکہ ہر بچے بلکہ پاگلوں اور جانوروں کو بھی حاصل ہے- دیوبندیوں کے حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے: "آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو در یافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یاکل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اسمیں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید وعمر بلکہ ہرصبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے" ( حفظ الایمان ص ۱۵/دار الکتاب دیوبند، یوپی) ہم نے یہاں اختصار کے پیش نظر وہابیوں دیوبندیوں کے وہ کفری اقوال نقل کیے ہیں جن پر علمائے عرب وعجم نے ان کے کافر ہونے کا فتوی دیا اور جو ان کے کفری اقوال سے آگاہ اور باخبر ہونے کے بعد ان کے کفر میں شک کرے اس کے کفر کا بھی فتوی دیا۔(تفصیل کے لیے حسام الحرمین اور المستند المعتمد دیکھیں) ورنہ تو ان کی اور بہت سی گستاخانہ عبارتیں ہیں- اب جب وہابی دیو بندی کافر ومرتد ہیں اور کافر ومرتد کا حکم شریعت مطہرہ میں یہ ہے کہ مرتد کا نکاح کسی سے بھی نہیں ہوسکتا نہ خود مرتد ومرتدہ کا آپس میں اور نہ مسلمان و مرتد کا ایک دوسرے سے لہذا صورت مسئولہ میں جبکہ امام صاحب نے بکر اور اس کے بیٹے حامد وغیرہ کو وہابیوں دیوبندیوں کے عقائد کفریہ سے واقف کرادیا تو اگر پھر بھی وہ وہابی دیوبندی مولوی کو مسلمان سمجھتے ہوں تو وہ بھی کافر و مرتد ہیں ایسی صورت میں ہندہ کا نکاح حامد سے نہیں ہوسکتا، اور اگر یہ نکاح ہوا تو اس کا وبال زید پر ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو زنا کے لیے پیش کر رہا ہے- فتاوی عالمگیری میں ہے " لایجوز للمرتد أن یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا کافرة اصلیة و کذالک لا یجوز نكاح المرتدة مع احد کذا فی المبسوط" ( ج ۱ ص ۲۸۲) مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے "ولا یصح تزوج المرتد ولا المرتدة احدا من المسلمين لاجماع الصحابة رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین" ( ج ۱ ص ۵۴۸ ) اور زید کے بارے میں حکم شرع یہی ہے کہ وہ وہابی کے ساتھ رشتہ داری سے باز آئے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مسمانوں کو چاہیے کہ وہ زید کا مکمل بائیکاٹ کریں اس کے ساتھ میل جول اور ہر وہ امر جومودت ومحبت پر دلالت کرے ہرگز نہ رکھیں- اللہ رب العزت فرماتا ہے "ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار( سورہ ھود: آیت: ۱۱۳ ) ترجمہ:- "اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ کہیں تمہیں آگ چھوئے گی" ( کنزالایمان ) اور فرماتا ہے "واماینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین" (سورہ انعام: آیت: ۹۸) ترجمہ:- "اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ" ( کنزالایمان ) حضور صلی اللہ تعالى عليه وسلم فرماتے ہیں: "ان مرضو فلا تعودوھم و ان ماتوا فلا تشھدوهم وان لقیتموھم فلا تسلموا عليهم ولا تجالسوھم ولاتشاربوھم و تواکلوھم ولا تناکحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معھم" (یعنی بد مذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مرجائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو ،ان سے ملاقات ہوتو ان سے سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو ،ان کے ساتھ پانی نہ پیو ، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو) یہ حدیث مسلم، ابو داؤد ،ابن ماجہ،عقیلی اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے (انوار الحدیث ص ۷۵) رہی یہ بات کہ بکر اور اس کے بیٹے اپنے آپکو اور اس وہابی دیوبندی مولوی کوسنی کہتے ہیں تو یہ بد مذہبوں کی پرانی عادت ہے کہ جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جب اپنے شیاطین کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں آج کل بد مذہب اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر تے ہیں۔ آزمائش کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ دیوبندیوں کے پیشواوں کو اوپر ذکردہ کفری اقوال کی بنا پر نام لے لے کر علی الاعلان کافر کہدیں تو ان کو سنی سمجھا جائے اور اگر ان کا نام لے کر علی الاعلان کافر کہنے میں وہ پس وپیش کریں تو ایسے لوگ سخت مشتبہ ہیں اور ایسے کے یہاں شادی بیاہ سے احتراز و اجتناب از حد لازم ہے۔ اور اگر ان کے کفری اقوال سے آگہی کے بعد ان کی تکفیر سے صاف انکار کریں تب تو وہ بھی کافر ہیں۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے "واذا لقوا الذین امنو قالوا آمنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالو انا معکم ( سورہ بقرہ، آیت ۱۴) ترجمہ:- "اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں" ( کنزالایمان ) حضور صلی اللہ تعالی علیه وسلم فرماتے ہیں "فایاکم وایاهم لایضلونکم ولایفتنونکم"( مقدمہ صحیح مسلم ج ا ص۱۲/ باب النھی عن الروایة عن الضعغاء والاحتياط في تحملھا /المكتبة الاسلامية) (یعنی بد مذہبوں سے دور رہو اور انکو اپنے سے دور رکھو کہ کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اورفتنہ میں نہ ڈال د یں)۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ،پلانگڑ،تھنہ منڈی، راجوری جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...