Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1756 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.2K Views

نانا کی ملکیت میں نواسوں کا حصہ از مفتی محمد رضا مرکزی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نانا کی ملکیت میں نواسوں کا حصہ از مفتی محمد رضا مرکزی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نانا کی ملکیت میں نواسوں کا حصہ

سوال : کیا نانا کی ملکیت سے نواسوں کو حصہ ملتا ہے کہ نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : حافظ مبشر رضوی اسلامپورہ مالیگاوں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب تقسیمِ وراثت کے شرعی اصولوں کے مطابق نانا کی وراثت میں نواسے کا حصہ مقرر نہیں ہے۔ یہ اس وقت حصہ پاتا ہے جب اس سے قریبی ورثاء موجود نہ ہوں۔ اگر نانا کے ورثاء میں اصحاب الفرائض (باپ، دادا، مادری بھائی، بیوی، ماں، سگی دادی و نانی، بیٹی، پوتی/ پڑپوتی، حقیقی بہن، پدری بہن، مادری بہن) اور عصبات (بیٹا‘ اس کی عدم موجودگی میں پوتا پھر پڑپوتا، باپ‘ اس کی عدم موجودگی میں دادا پھر پڑدادا، بھائی‘ اس کی عدم موجودگی میں بھتیجا، چچا‘ اس کی عدم موجودگی میں چچا کا بیٹا) میں سے کوئی نہ ہو تو ذوی الارحام کی حیثیت سے نواسے اور نواسی کو لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ کی تقسیم سے حصہ ملے گا یعنی دو حصے نواسے کو اور ایک حصہ نواسی کو ملے گا۔ اگر قریبی ورثاء اپنی رضامندی سے نواسے کو کچھ دینا چاہیں تو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے… وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>نانا کی ملکیت میں نواسوں کا حصہ</h2> سوال : کیا نانا کی ملکیت سے نواسوں کو حصہ ملتا ہے کہ نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : حافظ مبشر رضوی اسلامپورہ مالیگاوں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> تقسیمِ وراثت کے شرعی اصولوں کے مطابق نانا کی وراثت میں نواسے کا حصہ مقرر نہیں ہے۔ یہ اس وقت حصہ پاتا ہے جب اس سے قریبی ورثاء موجود نہ ہوں۔ اگر نانا کے ورثاء میں اصحاب الفرائض (باپ، دادا، مادری بھائی، بیوی، ماں، سگی دادی و نانی، بیٹی، پوتی/ پڑپوتی، حقیقی بہن، پدری بہن، مادری بہن) اور عصبات (بیٹا‘ اس کی عدم موجودگی میں پوتا پھر پڑپوتا، باپ‘ اس کی عدم موجودگی میں دادا پھر پڑدادا، بھائی‘ اس کی عدم موجودگی میں بھتیجا، چچا‘ اس کی عدم موجودگی میں چچا کا بیٹا) میں سے کوئی نہ ہو تو ذوی الارحام کی حیثیت سے نواسے اور نواسی کو لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ کی تقسیم سے حصہ ملے گا یعنی دو حصے نواسے کو اور ایک حصہ نواسی کو ملے گا۔ اگر قریبی ورثاء اپنی رضامندی سے نواسے کو کچھ دینا چاہیں تو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے... وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...