Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1763
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13K Views
اگر زوجین میں نباہ ممکن نہ ہو تو خلع لینا جائز ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
اگر زوجین میں نباہ ممکن نہ ہو تو خلع لینا جائز ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
اگر زوجین میں نباہ ممکن نہ ہو تو خلع لینا جائز ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں; ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوا اور وہ سسرال گئی کچھ دن بعد جب وہ واپس آئی تو دوبارہ سسرال جانے سے انکار کرنے لگی اس کا کہنا ہے کہ زید کو کئی سنگین بیماریاں ہیں جن کا وہ علاج بھی نہیں کراتا، اصرار کرنے پر وہ جواب دیتا ہے، اللہ چاہے گا تو سب ٹھیک ہو جائے اور ہندہ کو نا محرموں کے ساتھ علاج کے لیے بھیجتا ہے خود نہیں جاتا نامحرموں کے ساتھ جانے پر مجبورکرتا ہے، اس کے گھر کا یہی ماحول ہے ہندہ کہتی ہے کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا تذکرہ مناسب نہیں ایسی صورت میں میرا گزر بسر نہیں ہوسکتا ہے، اس لیے میں وہاں نہیں جاسکتی، ہندہ خلع لینا چاہتی ہے اور اس کے شوہر اور اس کے گھر والے اس پر راضی ہیں ایسی صورت میں ہندہ کے لیے کوئی راہ نکالیں اور بتائیں اس کے لیے کیا کیاجائے ۔ المستفتی محمد قطب الدین رفیع گنج بہار الجواب بعون الملک الوھاب اگر واقعی زید کو کوئی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ہندہ اس کی بیوی اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے تو بہتر تو یہ ہے کہ ہندہ صبر کرے، اس صبر پر بے پناہ اجر وثواب ملے گا،لیکن اگر نباہ مشکل ہو اور شوہر خلع پر راضی ہو تو شرعا خلع کرنا جائز ہے۔ جس کی ایک صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی سےکہے کہ میں نے مہر کے بدلے یا اتنے مال کے بدلے تجھ سے خلع کیا، عورت کہے میں نے قبول کیا، خلع ہوجائے گا۔ قرآن مجید میں ہے : “وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ” ( البقرۃ : ۲۲۹ ) ترجمہ :اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں. حدیث شریف میں ہے : أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ ﷲِ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَیْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِینٍ وَلَکِنِّي أَکْرَهُ الْکُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ ﷲِ أَتَرُدِّینَ عَلَیْهِ حَدِیقَتَهُ. قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ ﷲِ أقْبَلْ الْحَدِیقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِیقَةً(بخاري، الصحیح، ٥/ ٢٢١، رقم: ٤٩٧١، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة) در مختار میں ہے: “(ولا بأس به عند الحاجة ) للشقاق بعدم الوفاق ( بما يصلح للمهر ) بغير عكس.” (باب الخلع ٣/ ٤٤١) فتاوی عالمگیری میں ہے: “اذا تشاق الزوجان و خافا ان لايقيما حدود الله فلا بأس بان تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به، فاذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة، ولزمها المال”. (كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ١/ ٥١٩) مبسوط سرخسی میں ہے: “فيحتمل الفسخ بالتراضي أيضًا، وذلك بالخلع، واعتبر هذه المعاوضة المحتملة للفسخ بالبيع والشراء في جواز فسخها بالتراضي.” (باب الخلع،٦/ ١٧١) شامی میں ہے : وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ” (باب الخلع، ص:٣/ ٤٤١) رہا شوہر کا بیوی کو غیر محرم کے ساتھ سفر پر بھیجنا تو یہ ناجائز وحرام اور دیوثی ہے، شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس سے باز آئے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٧ شوال المکرم ١٤٤٣/ ٢٩ مئی ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>اگر زوجین میں نباہ ممکن نہ ہو تو خلع لینا جائز ہے</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں; ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوا اور وہ سسرال گئی کچھ دن بعد جب وہ واپس آئی تو دوبارہ سسرال جانے سے انکار کرنے لگی اس کا کہنا ہے کہ زید کو کئی سنگین بیماریاں ہیں جن کا وہ علاج بھی نہیں کراتا، اصرار کرنے پر وہ جواب دیتا ہے، اللہ چاہے گا تو سب ٹھیک ہو جائے اور ہندہ کو نا محرموں کے ساتھ علاج کے لیے بھیجتا ہے خود نہیں جاتا نامحرموں کے ساتھ جانے پر مجبورکرتا ہے، اس کے گھر کا یہی ماحول ہے ہندہ کہتی ہے کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا تذکرہ مناسب نہیں ایسی صورت میں میرا گزر بسر نہیں ہوسکتا ہے، اس لیے میں وہاں نہیں جاسکتی، ہندہ خلع لینا چاہتی ہے اور اس کے شوہر اور اس کے گھر والے اس پر راضی ہیں ایسی صورت میں ہندہ کے لیے کوئی راہ نکالیں اور بتائیں اس کے لیے کیا کیاجائے ۔ المستفتی محمد قطب الدین رفیع گنج بہار <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> اگر واقعی زید کو کوئی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ہندہ اس کی بیوی اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے تو بہتر تو یہ ہے کہ ہندہ صبر کرے، اس صبر پر بے پناہ اجر وثواب ملے گا،لیکن اگر نباہ مشکل ہو اور شوہر خلع پر راضی ہو تو شرعا خلع کرنا جائز ہے۔ جس کی ایک صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی سےکہے کہ میں نے مہر کے بدلے یا اتنے مال کے بدلے تجھ سے خلع کیا، عورت کہے میں نے قبول کیا، خلع ہوجائے گا۔ قرآن مجید میں ہے : "وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ" ( البقرۃ : ۲۲۹ ) ترجمہ :اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں. حدیث شریف میں ہے : أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ ﷲِ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَیْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِینٍ وَلَکِنِّي أَکْرَهُ الْکُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ ﷲِ أَتَرُدِّینَ عَلَیْهِ حَدِیقَتَهُ. قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ ﷲِ أقْبَلْ الْحَدِیقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِیقَةً(بخاري، الصحیح، ٥/ ٢٢١، رقم: ٤٩٧١، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة) در مختار میں ہے: "(ولا بأس به عند الحاجة ) للشقاق بعدم الوفاق ( بما يصلح للمهر ) بغير عكس." (باب الخلع ٣/ ٤٤١) فتاوی عالمگیری میں ہے: "اذا تشاق الزوجان و خافا ان لايقيما حدود الله فلا بأس بان تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به، فاذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة، ولزمها المال". (كتاب الطلاق ، الباب الثامن في الخلع ١/ ٥١٩) مبسوط سرخسی میں ہے: "فيحتمل الفسخ بالتراضي أيضًا، وذلك بالخلع، واعتبر هذه المعاوضة المحتملة للفسخ بالبيع والشراء في جواز فسخها بالتراضي." (باب الخلع،٦/ ١٧١) شامی میں ہے : وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ" (باب الخلع، ص:٣/ ٤٤١) رہا شوہر کا بیوی کو غیر محرم کے ساتھ سفر پر بھیجنا تو یہ ناجائز وحرام اور دیوثی ہے، شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس سے باز آئے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٧ شوال المکرم ١٤٤٣/ ٢٩ مئی ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...