Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1766 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.3K Views

سارا سال داڑھی مونڈوانے والے حفاظ کی امامت جائز ہے یا نہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سارا سال داڑھی مونڈوانے والے حفاظ کی امامت جائز ہے یا نہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سارا سال داڑھی مونڈوانے والے حفاظ کی امامت جائز ہے یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض حفاظ سارا سال داڑھی مونڈواتے رہتے ہیں یا ایک مشت سے کم رکھتے ہیں اور نمازوں کے معاملے میں بھی انتہائی سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جب رمضان کا مہینہ قریب آتا ہے تو داڑھی مونڈانا چھوڑ دیتے ہیں اور رمضان میں نماز تراویح پڑھاتے ہیں کیا ایسے حفاظ کی امامت جائز ہے اور ان کے پیچھے پڑھی گئ نماز کا کیا حکم ہے براۓ کرم دلائل کے ساتھ جواب عطا فرمائیں، الجواب بعون الملک العزیز الوہاب داڑھی مونڈانا یا ایک مشت سے کم کروانا حرام ہے ۔ داڑھی کے معاملے میں آقاء کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : انھکوا الشوارب واعفوا اللحی یعنی مونچھوں کو خوب کم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاو (صحیح بخاری کتاب اللباس حدیث نمبر 5893 ج 4 ص 75 ) ایک اور حدیث پاک میں فرمایا جزوا الشوارب وارخوا الحی خالفوا المجوس یعنی ۔ مونچھیں کٹاو اور داڑھیاں بڑھاو (اس طرح) مجوسیوں کی مخالفت کرو (صحیح مسلم کتاب الطہارة۔ الحدیث 55 ج ص 153) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ داڑھی رکھنا اسلام کا اور مونڈانا یہودیوں کا طریقہ ہے اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں داڑھی مونڈانا حرام ہے اور داڑھی کو ایک مشت رکھنا واجب ہے (اشعتہ اللمعات ۔کتاب الطہارة۔ ج 1 .ص 228) اور در مختار مع شامی میں ہے یحرم الرجل قطع لحیتہ یعنی۔ مرد پر داڑھی منڈانا حرام ہے (در مختار ج 5 ص 228) اسی طرح کا حکم ردالمختار۔ بحرالرائق۔فتح القدیر۔ اور طحاوی میں بھی ہے اور امام اہلسنت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں ریش (داڑھی) ایک مشت یعنی چار انگل تک رکھنا واجب ہے اس سے کمی ناجائز ہے (فتاوی رضویہ ج 22 ص 117 ) اور صدرالشریعہ فرماتے ہیں داڑھی مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے (بہار شریعت ج 3 ص 588 ) اور نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے (یہ مسئلہ ہر خاص و عام پر روشن ہے یہاں اس کے دلائل کی حاجت نہیں ہے) نماز کو جان بوجھ کر ترک کرنے والا مرتکب کبیرہ ہے اور شرعاً مستحق سزا فاسق و فاجر ہے جیسا کہ علامہ حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تارکھا ای الصلاة عمداً مجانة ای تکاسلا فاسق یعنی۔ جان بوجھ کر سستی کی وجہ سے نماز ترک کرنے والا فاسق ہے (درمختار مع شامی ج 1 ص 259) لہذا جو حافظ داڑھی مونڈاتے ہیں یا ایک مٹھی سے کم کرواتے ہیں نماز بالکل نہیں پڑھتے یا کبھی کبھی پڑھتے ہیں سخت گنہگار۔ مستحق عذاب نار لائق قہر جبار اور فاسق و فاجر ہیں ان کو امام بنانا جائز نہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فاسق کو امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں اس کی توہیں واجب ہے فتاوی شامی میں ہے الفاسق فی تقدیمہ للامامة تعظیمہ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا۔ یعنی۔ فاسق کو امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا اس کی توہین واجب ہے (شامی ج 1 ص 414 ) اور فاسق کے پیچھے پڑھی گئ نماز کو لوٹانا یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے جیسا کہ در مختار میں ہے کہ کل صلاة ادیت مع کراہت التحریم تجب اعادتھا یعنی۔ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئ ہو اس کا اعادہ واجب ہے (در مختار ج1 ص 337) مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو حافظ سارا سال داڑھی مونڈاتے اور کترواتے ہیں اور رمضان سے پہلے توبہ کر لیتے ہیں اور رمضان کے بعد پھر مونڈا دیتے ہیں اور ہر سال ایسا ہی کرتے ہیں ان کی توبہ قبول نہیں ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے وہ لوگ صرف تراویح پڑھانے کے لیے مصلحةً ایسا کرتے ہیں تاکہ تراویح پڑھا کر پیسے وصول کر سکیں لہذا ایسے حافظ کو توبہ کے بعد کچھ عرصہ دیکھیں کہ وہ توبہ پر قائم ہے یا نہیں ؟ جب خوب اطمینان ہو جاۓ تب اس کے پیچھے نماز پڑھیں (فتاوی فقیہ ملت ج 1 ص 206) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبہ۔ غبار راہ طیبہ ابوسعد محمد عدنان بن اشرف عطاری قادری رضوی عفی عنہ

Kutubahu & Verified by:

<h3>سارا سال داڑھی مونڈوانے والے حفاظ کی امامت جائز ہے یا نہیں ؟</h3> کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض حفاظ سارا سال داڑھی مونڈواتے رہتے ہیں یا ایک مشت سے کم رکھتے ہیں اور نمازوں کے معاملے میں بھی انتہائی سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جب رمضان کا مہینہ قریب آتا ہے تو داڑھی مونڈانا چھوڑ دیتے ہیں اور رمضان میں نماز تراویح پڑھاتے ہیں کیا ایسے حفاظ کی امامت جائز ہے اور ان کے پیچھے پڑھی گئ نماز کا کیا حکم ہے براۓ کرم دلائل کے ساتھ جواب عطا فرمائیں، <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک العزیز الوہاب</strong></span> داڑھی مونڈانا یا ایک مشت سے کم کروانا حرام ہے ۔ داڑھی کے معاملے میں آقاء کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : انھکوا الشوارب واعفوا اللحی یعنی مونچھوں کو خوب کم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاو (صحیح بخاری کتاب اللباس حدیث نمبر 5893 ج 4 ص 75 ) ایک اور حدیث پاک میں فرمایا جزوا الشوارب وارخوا الحی خالفوا المجوس یعنی ۔ مونچھیں کٹاو اور داڑھیاں بڑھاو (اس طرح) مجوسیوں کی مخالفت کرو (صحیح مسلم کتاب الطہارة۔ الحدیث 55 ج ص 153) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ داڑھی رکھنا اسلام کا اور مونڈانا یہودیوں کا طریقہ ہے اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں داڑھی مونڈانا حرام ہے اور داڑھی کو ایک مشت رکھنا واجب ہے (اشعتہ اللمعات ۔کتاب الطہارة۔ ج 1 .ص 228) اور در مختار مع شامی میں ہے یحرم الرجل قطع لحیتہ یعنی۔ مرد پر داڑھی منڈانا حرام ہے (در مختار ج 5 ص 228) اسی طرح کا حکم ردالمختار۔ بحرالرائق۔فتح القدیر۔ اور طحاوی میں بھی ہے اور امام اہلسنت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں ریش (داڑھی) ایک مشت یعنی چار انگل تک رکھنا واجب ہے اس سے کمی ناجائز ہے (فتاوی رضویہ ج 22 ص 117 ) اور صدرالشریعہ فرماتے ہیں داڑھی مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے (بہار شریعت ج 3 ص 588 ) اور نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے (یہ مسئلہ ہر خاص و عام پر روشن ہے یہاں اس کے دلائل کی حاجت نہیں ہے) نماز کو جان بوجھ کر ترک کرنے والا مرتکب کبیرہ ہے اور شرعاً مستحق سزا فاسق و فاجر ہے جیسا کہ علامہ حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تارکھا ای الصلاة عمداً مجانة ای تکاسلا فاسق یعنی۔ جان بوجھ کر سستی کی وجہ سے نماز ترک کرنے والا فاسق ہے (درمختار مع شامی ج 1 ص 259) لہذا جو حافظ داڑھی مونڈاتے ہیں یا ایک مٹھی سے کم کرواتے ہیں نماز بالکل نہیں پڑھتے یا کبھی کبھی پڑھتے ہیں سخت گنہگار۔ مستحق عذاب نار لائق قہر جبار اور فاسق و فاجر ہیں ان کو امام بنانا جائز نہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فاسق کو امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں اس کی توہیں واجب ہے فتاوی شامی میں ہے الفاسق فی تقدیمہ للامامة تعظیمہ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا۔ یعنی۔ فاسق کو امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا اس کی توہین واجب ہے (شامی ج 1 ص 414 ) اور فاسق کے پیچھے پڑھی گئ نماز کو لوٹانا یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے جیسا کہ در مختار میں ہے کہ کل صلاة ادیت مع کراہت التحریم تجب اعادتھا یعنی۔ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئ ہو اس کا اعادہ واجب ہے (در مختار ج1 ص 337) مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو حافظ سارا سال داڑھی مونڈاتے اور کترواتے ہیں اور رمضان سے پہلے توبہ کر لیتے ہیں اور رمضان کے بعد پھر مونڈا دیتے ہیں اور ہر سال ایسا ہی کرتے ہیں ان کی توبہ قبول نہیں ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے وہ لوگ صرف تراویح پڑھانے کے لیے مصلحةً ایسا کرتے ہیں تاکہ تراویح پڑھا کر پیسے وصول کر سکیں لہذا ایسے حافظ کو توبہ کے بعد کچھ عرصہ دیکھیں کہ وہ توبہ پر قائم ہے یا نہیں ؟ جب خوب اطمینان ہو جاۓ تب اس کے پیچھے نماز پڑھیں (فتاوی فقیہ ملت ج 1 ص 206) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ۔ غبار راہ طیبہ ابوسعد محمد عدنان بن اشرف عطاری قادری رضوی عفی عنہ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...